Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / نائب صوبیدار پرمجیت کی فوجی اعزازات کیساتھ آخری رسومات

نائب صوبیدار پرمجیت کی فوجی اعزازات کیساتھ آخری رسومات

ایک سر کی قربانی کے بدلے 50 سر لینے مہلوک ہیڈ کانسٹبل پریم ساگر کی بیٹی کا مطالبہ

ترن تارن (پنجاب) ؍ دیوریا (یوپی) 2 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فورسیس کے ہاتھوں سر قلم کئے گئے دو شہید سپاہیوں کے خاندانوں نے فوج کی جانب سے اس واقعہ کا انتقام لینے پر اصرار کیا ہے۔ ایک سپاہی کی بیٹی نے کہاکہ وہ اپنے والد کی قربانی کے بدلے 50 سر چاہتی ہے۔ ہندوستانی فوج کی 22 ویں سکھ انفینٹری کے نائب صوبیدار 42 سالہ پرمجیت سنگھ کے جسد خاکی کو پنجاب کے ضلع ترن تارن میں ان کے آبائی گاؤں وائین پوئین میں غم و اندوہ کی فضاء میں مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ سپرد آتش کیا گیا۔ ہیڈ کانسٹبل 45 سالہ پریم ساگر کی نعش دہلی لائی گئی جو آخری رسومات کے لئے اترپردیش کے ضلع دیوریا میں ان کے آبائی گاؤں ٹیکن پور پہونچائی جائے گی۔ پاکستانی خصوصی فورسیس کی ٹیم بیٹ کی جانب سے گزشتہ روز سرحد عبور کرتے ہوئے ہندوستانی علاقہ میں 250 میٹر تک دراندازی کے بعد دو ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کرنے اور نعشوں کو مسخ کئے جانے کے بعد ان دونوں سپاہیوں کے ارکان خاندان اور دوست چاہتے ہیں کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے پاکستان کو ایک یادگار سبق سکھایا جائے۔ پریم ساگر کی غمزدہ بیٹی سروج نے اپنے آنسو روکتے ہوئے ماں کو صبر و سکون سے رہنے کے لئے دلاسہ دے رہی تھی۔ سروج نے کہاکہ ’’میرے والد شہید ہیں اور میں ان کے ایک سر کے بدلے 50 سر لینے کا مطالبہ کرتی ہوں‘‘۔ قبل ازیں جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں منعقدہ ایک تعزیتی تقریب میں سرکردہ فوجی افسران نے شرکت کی اور ان دونوں بہادر سپاہیوں کی نعشوں پر پھول مالا چڑھائے گئے۔ نعشوں کی جموں منتقلی کے موقع پر پونچھ میں مقامی عوام اور سابق سپاہیوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔ پنجاب کے ضلع ترن تارن کے دیہاتیوں میں بھی پاکستان کے خلاف غصہ جھلک رہا تھا۔ جہاں کی فضاء ’’شہید پرمجیت امر ہے‘‘ اور ’’پاکستان مردہ باد‘‘ جیسے نعروں سے گونج رہی تھی۔ پنجاب میں آج چند مقامات پر پاکستانی پرچم نذر آتش کئے گئے۔ پرمجیت کی نعش قومی ترنگے میں لپٹی ہوئی تھی جس کو پھولوں سے سجی سجائی گاڑی میں منتقل کرنے کے بعد مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ آخری رسومات انجام دی گئیں۔ اس موقع پر چند فوجی و سیول افسران، افراد خاندان، دوست اور رشتہ دار موجود تھے۔ پرمجیت کی بیوہ پرمجیت کور نے اس بات پر سخت مذمت کی کہ کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے تعزیت نہیں کی اور نہ ہی آخری رسومات میں شرکت کی۔ پرمجیت کور نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ فوج کو جوابی کارروائی کی آزادی و اختیار دیا جائے تاکہ وہ پاکستان کو ایک سبق سکھا سکے۔

TOPPOPULARRECENT