Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / نائیجریائی دارالحکومت میں دو طاقتور دھماکے : 18 افراد ہلاک

نائیجریائی دارالحکومت میں دو طاقتور دھماکے : 18 افراد ہلاک

Plastic tables and chairs at the site of a bomb explosion in Abuja, Nigeria, Saturday, Oct. 3, 2015. Multiple bombs detonated in two locations killing at least 15 people, the National Emergency Management Agency said Saturday, although no group has claimed responsibility the attack has attributes of others by Boko Haram, the home-grown Islamic extremist group. (AP Photo/Gbenga Olamikan)

41 زخمی ۔بوکو حرام کے دہشت گردوں پر شبہ ۔ صدر نائیجریا و امریکہ کی جانب سے مذمت
ابوجا 3 اکٹوبر ( اے ایف پی ) نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا کے مضافات میں آج دو طاقتور دھماکے ہوئے جن کے نتیجہ میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 41 دوسرے زحمی ہوگئے ۔ امدادی و بچاؤ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اس حملہ کیلئے بوکو حرام کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ نائیجیریا کے صدر محمدو بوہاری نے اس حملہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ ابوجا میں امریکی سفارتخانہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے ۔ قومی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان سانی دتی نے بتایا کہ ان دونوں دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہے کیونکہ تین افراد آج صبح دواخانوں میں علاج کے دوران فوت ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 41 دوسرے افراد ان حملوں میں زخمی ہوئے ہیں اور ان کا دواخانوں میں علاج چل رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ دھماکے کل رات دیر گئے ایک پولیس اسٹیشن کے قریب اور ایک بس اسٹاپ کے قریب ہوئے ۔ ان دونوں علاقوں کو ماضی میں بھی بوکو حرام کے دہشت گردوں کی جانبس ے نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔

پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ دونوں حملے خود کش بمباروں نے کئے ہیں۔ ایک بمبار مرد اور دوسری خاتون تھی ۔ انسپکٹر جنرل پولیس سولومون اراسے نے شہر میں تلاشی مہم کے احکام جاری کئے تھے اور انہوں نے مقامی عوام سے بھی کہا تھا کہ وہ اس تلاشی مہم سے پریشان اور خوفزدہ نہ ہوں۔ دونوں طاقتور ترین بم دھماکوں کے بعد پولیس کی جانب سے اضافی دستے متعین کردئے گئے ہیں اور دھماکو مادوں کو ناکارہ بنانے والی یونٹوں کو بھی سرگرم کردیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ انہیں ان حملوں پر شدید حیرت ہوئی ہے کیونکہ یہ دھماکے ایسے مقام پر ہوئے ہیں جہاں بھاری حفاظتی دستے اور فوجی یونٹس متعین تھیں۔ کہا گیا ہے کہ کوجے میں بس اسٹانڈ کے قریب جو دھماکہ ہوا اس میں ایک خاتون بمبار بھی ملوث ہے ۔ پولیس اسٹیشن کے قریب ہوا دھماکہ مرد خود کش بمبار کی کارستانی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT