Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / نابینا طلبہ کو کمپیوٹر کی تربیت ، پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کارلانے کا مشورہ

نابینا طلبہ کو کمپیوٹر کی تربیت ، پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کارلانے کا مشورہ

ادارہ سیاست سے 3 کمپیوٹرس دینے کا اعلان ، آئیڈیل انفارمیشن سنٹر کا جناب ظہیر الدین علی خاں کا دورہ
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( دکن نیوز ) : جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے آئیڈیل انفارمیشن سنٹر ( آئی آئی سی ڈی ) صفا آرکیٹکٹ ( مہدی پٹنم ) کے سنٹر کا معائنہ کیا اور نابینا طلباء سے تفصیلی بات چیت کی ۔ جہاں آئی آئی سی ڈی کی جانب سے نابینا طلباء کو کمپیوٹر کورس کے دوسرے بیاچ کی تربیت دی جارہی ہے ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے نابینا طلباء سے باہمی تعارف حاصل کیا اور ان کی کمپیوٹر کے میدان میں دلچسپی کو دیکھا تو ششدر رہ گئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں بہت ساری چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پوشیدہ رکھا ہے جس کو بروئے کار لاکر وہ روزگار سے مربوط ہوسکتے ہیں ۔ اس موقع پر چیرمین آئی آئی سی ڈی اور ناظم شہر جماعت اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد حافظ رشاد الدین ، عرفان منیار ، نوید الرحمن ، خلیل الرحمن ، تبریز بخشی و دیگر موجود تھے ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے اس سنٹر کے لیے سیاست کی جانب سے 3 کمپیوٹرس دئیے جانے کا اعلان کیا اور اس بات کا طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں رجسٹریشن کروائیں تاکہ حکومت کی ملازمتوں سے استفادہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے تعاون سے طلباء کی تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور انہیں روزگار سے منسلک کرنے کے لیے شبانہ روز مساعی کی جارہی ہے ۔ یہاں تک کہ طلباء کو محکمہ پولیس سے جوڑا گیا جس کے لیے اب تک 990 نوجوان پولیس کانسٹبل بنے ۔ باہمی تعارف کے دوران محمد احتشام ( نابینا ) جو ڈگری سال دوم ، شفیق حسین خان بی اے سال دوم گولکنڈہ ، میر بی اے سال آخر ، نابینا شیخ یاسر انٹر میڈیٹ سال دوم ، عبداللہ شاہ قادری گریجویٹ ( نامپلی ) ، وزارت علی جو آئی آئی سی ڈی کے اس سنٹر میں طلباء کو تربیت دے رہے ہیں ۔ نابینا کے ساتھ جسمانی طور پر معذور ہیں اس سنٹر سے وابستہ ہیں اور محمد عرفان بن حامد الحمومی نے جناب ظہیر الدین علی خاں کو مختلف مسائل سے واقف کروایا ۔

 

محمد عرفان بن حامد الحمومی جو بی اے سال آخر کے طالب علم ہیں چار سال کی عمر میں انہیں نمونیا ہوا اس کی وجہ سے ان کی بینائی چلی گئی ۔ اس کے باوجود انہوں نے تعلیم کے سلسلہ کو برقرار رکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر وہ دسمبر 2013 میں منعقدہ ہنگری میں انٹرنیشنل بلائنڈ اینڈ ڈیف جوڈو چمپئن شپ میں 66 کیلو گرام زمرہ میں برانز میڈل حاصل کیا اور مارچ 2013 لکھنو ، جنوری اور فروری 2014 نئی دہلی میں منعقدہ نیشنل چمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ترکاری فروش ہیں ۔ کھیل اور تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیت کو مزید نکھارنے کے لیے انہوں نے حکومت سے مالی امداد کی درخواست کی تھی لیکن آج تک حکومت نے ان کے مالی تعاون کے مسئلہ کو تعطل میں رکھا ہے جب کہ وزیر اعلیٰ تلنگانہ اور نائب وزیر اعلی تلنگانہ سے بھی نمائندگی کی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف اقلیتوں کی تعلیمی ، معاشی اور دیگر میدانوں میں اقلیتوں کو پروان چڑھانے کی باتیں کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری تعلیمی امداد و دیگر امداد کے لیے صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن سے رجوع ہونے پر عابد رسول خاں نے عمر جلیل اسپیشل سکریٹری کو مکتوب لکھا لیکن ابھی یہ مسئلہ بھی ندارد ہے ۔ کھیل کے میدان اور تعلیمی میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے والے عرفان بن حامد الحمودی آج بھی حکومت سے انصاف کے منتظر ہیں ۔ حافظ رشاد الدین چیرمین آئی آئی سی ڈی نے شکریہ ادا کیا ۔ تبریز بخشی سکریٹری آئی آئی سی ڈی نے دوسرے بیاچ کے آغاز پر تمام کا خیر مقدم کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT