Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / ناتجربہ کاری سے متعلق نریندر مودی کا ریمارک مضحکہ خیز ‘ اکھیلیش

ناتجربہ کاری سے متعلق نریندر مودی کا ریمارک مضحکہ خیز ‘ اکھیلیش

فرقہ پرستوں کو شکست دینے کانگریس پارٹی سے اتحاد۔ سماجوادی پارٹی ملائم سنگھ کی ہی ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش کا انتخابی جلسہ سے خطاب

مین پوری ( اترپردیش ) 16 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر اترپردیش اکھیلیش سنگھ یادو نے آج وزیر اعظم نریندرمودی کے ناتجربہ کاری کے ریمارک کا مضحکہ اڑایا اور کہا کہ وہ سائیکل ( سماجوادی پارٹی کا انتخابی نشان ) تیز رفتار سے چلانا سیکھ گئے ہیں تاکہ بی ایس پی کا ہاتھی اور بی جے پی کا کنول کا پھول سماجوادی پارٹی کے قریب بھی نہ پہونچ سکیں۔ ایک دن قبل ہی وزیراعظم نے سوال کیا تھا کہ اکھیلیش یادو کانگریس جیسی پارٹی سے کس طرح اتحاد کرسکتے ہیں جس نے ان کے والد ملائم سنگھ یادو کو قتل کرنے کی سازش کی تھی ۔ اکھیلیش نے کہا کہ مودی کے مشیر اگر انہیں فیروزآباد کی مثال دیتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو کانگریس کے خلاف برہمی پیدا کرنے کیلئے 1984 تک جانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ وہ فیروز آباد کا تذکرہ کرسکتے تھے جہاں کانگریس کے ریاستی سربراہ راج ببر نے ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی کو شکست دی تھی ۔ اکھیلیش نے کہا کہ مودی نے 1984 کا تذکرہ اسی لئے کیا کیونکہ وہ ابھی سے انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر ناتجربہ کاری کا الزام عائد کرتے ہیں لیکن کوئی بھی سائیکل چلانا اسی وقت سیکھ سکتا ہے جب کم از کم ایک بار اس سے گرے ۔ میں نے سائیکل چلانا سیکھ لا ہے اور وہ بھی بہت تیزی سے چلا رہے ہیں اور ہاتھی یا کنول کا پھول ان کے قریب بھی نہیں پہونچ سکتے ۔ اکھیلیش یادو کڑہال ٹاؤن میں انتخابی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے ناتجربہ کاری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہم نے یہ اتحاد عوام کے ذہنوں میں تمام شکوک و شبہات کو ختم کرنے کیلئے کیا ہے ۔ ہم نے یہ اتحاد حکومت قائم کرنے کیلئے کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتوں کا خاتمہ ہوجائے ۔

اچھے دن کے نعرہ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کہہ رہے ہیں کہ سماجوادی پارٹی نے اچھے دن نہیں لائے ۔ یہ در اصل بی جے پی کا انتخابی نعرہ تھا اور سماجوادی پارٹی نے یہ نعرہ کبھی نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی ان کے کام نہیں دیکھ پا رہے ہیں بلکہ ان کے کارنامے دیکھ رہے ہیں۔ نریندر مودی کو ایک بار پھر ان کا کارنامہ 19 فبروری کو دیکھنے کو ملے گا جب تیسرے مرحلے میں عوام ووٹ ڈالیں گے ۔ کسانوں کا قرض معاف کرنے بی جے پی کے وعدہ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتوں نے مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا میں کیا ہے جہاں کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ پہلے انہیں مہاراشٹرا کے کسانوں کی مدد کرنی چاہئے ۔ گجرات ‘ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ سماجوادی پارٹی ان کی نہیں بلکہ ان کے والد ( ملائم سنگھ یادو ) کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی راستہ کبھی اتھل پتھل سے بھی گذرتا ہے ۔ انہں نے کہا کہ وہ سیاسی امتحان تحریر کرچکے ہیں۔ انہیں حالات اور وقت کے مطابق جو کچھ کرنا چاہئے تھا انہوں نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مودی ان کا کام دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انہیں آگرہ ۔ لکھنو ایکسپریس وے دکھانا چاہتے ہیں ۔ یہ کام طویل وقت تک یاد رکھا جائیگا کیونکہ آج بھی جی ٹی روڈ کو یاد کرتے ہیں۔ قنوج میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب میں مودی نے کل کہا تھا کہ اکھیلیش نے چالاک کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے سیاسی ناتجربہ کاری کا ثبوت دیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT