Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نارائن پیٹ کو ضلع بنانا انصاف کا تقاضہ

نارائن پیٹ کو ضلع بنانا انصاف کا تقاضہ

نارائن پیٹ ۔ /20 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نارائن پیٹ مختلف زبانوں ، تہذیبوں اور ثقافتوں کا مرکز ہے جہاں پر اردو ، تلگو ، مراہٹی اور کنڑا زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ جسے ’’ منی انڈیا‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ نارائن پیٹ کو ضلع بنانے کا مطالبہ انصاف پر مبنی ہے ۔ ایک اسمبلی حلقہ والے آصف آباد ، سرسلہ کو ضلع بنایا جاسکتا ہے تو 4 اسمبلی حلقوں والے نارائن پیٹ ڈیویژن کو ضلع بنانے میں کونسی رکاوٹ حائل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر مسٹر جے پال ریڈی نے نارائن پیٹ ضلع سادھنا سمیتی کی جانب سے اندرا پارک حیدرآباد میں منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ٹی آر ایس حکومت نارائن پیٹ کو ضلع نہیں بنائیں گی تو کانگریس ریاست میں برسراقتدار پر آنے پر نارائن پیٹ کو ضلع بنائیں گے ۔ پروفیسر کوڈنڈا رام چیرمین تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی ، مسٹر ناگم جناردھن ریڈی ، مسٹر ڈاکٹر لکشمن ، جناب حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ و اڑیسہ ، محترمہ ڈی کے ارونا ، مسٹر رامچندر راؤ (ایم ایل سی) ، ریوینت ریڈی ، دیاکر ریڈی ، رما دیوی ، چیریال سیتا رام ریڈی ( سی پی ایم) پراسنگلو ( سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی) نے شرکت کرتے ہوئے اپنی مکمل تائید کا اعلان کیا ۔ کوڈنڈا رام نے کہا کہ نارائن پیٹ ریاست تلنگانہ میں پچھڑا ہوا علاقہ ہے جہاں سے ہر ماہ سینکڑوں لوگ روزگار کیلئے مہاراشٹرا ، کرناٹک اور حیدرآباد نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ نارائن پیٹ ڈیویژن منفرد شناخت کا حامل اور اس کو ضلع بنانے پر علاقہ کی ترقی ممکن ہے ۔ جناب حامد محمد خان صدر جماعت اسلامی ریاست تلنگانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندرا شیکھر راؤ ، واستو پر یقین رکھنے والے فرد ہیں اور ابھی ان کا لکی نمبر 33 یعنی ‘6’ کیلئے ابھی  2 اضلاع کی تشکیل ممکن ہے ۔ ایسے میں نارائن پیٹ کو ضلع بنایا جانا چاہئیے ۔ محترمہ ڈی کے ارونا نے وزیر اعلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ عوامی سہولت کیلئے نہیں بلکہ خاندانی اور سیاسی فائدے کی خاطر اضلاع کی تشکیل عمل میں لارہے ہیں ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر راجندر ریڈی اور رکن اسمبلی مکتھل چٹم رام موہن ریڈی عوامی مفاد کے خلاف اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے پارٹی تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ اگر وہ عوامی مفاد اور علاقہ کی ترقی کیلئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے تو آج نارائن پیٹ کو ضلع بنانے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی ۔ مسٹر ناگم جناردھن ریڈی حلقہ پارلیمانی انچارج بی جے پی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کسی کی جاگیر نہیں جو من چاہے اضلاع کی تشکیل عمل میں لائی جائے ۔ 10 اسمبلی حلقہ والے ضلع ورنگل میں 5 اضلاع کی تشکیل ممکن ہے تو پھر 14 اسمبلی حلقہ والے حلقہ محبوب نگر میں 5 اضلاع کی تشکیل کیونکر ناممکن ہے؟ ۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو کنٹراکٹر حکومت کہا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست میں کرشنا ندی کا داخلہ نارائن پیٹ ڈیویژن سے ہورہا ہے مگر ٹی آر ایس حکومت کنٹراکٹ حاصل کرنے کیلئے نارائن پیٹ ڈیویژن عوام کو 200 کلو میٹر سے پانی دینے کی بات کررہی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔ اس موقع پر بی جے پی ریاست تلنگانہ صدر ڈاکٹر لکشمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نارائن پیٹ کو ضلع نہ بنانے کیلئے کوئی ایک وجہ بتائیں ۔ ہم پھر سے ضلع کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔ احتجاجی جلسہ عام کی صدارت مسٹر منوہر گوڑ کنوینر نارائن پیٹ ضلع سادھنا سمیتی نے کی جبکہ ان کے ساتھ جناب الحاج غلام محی الدین چاند ، مسٹر ناگو راؤ نامرجی ، صراف کرشنا ، مسٹر نرسمہا ریڈی ، مسٹر رتن پانڈو ریڈی ، مسٹر سدرشن ریڈی ، مسٹر کرشنا بھگون ، مسٹر کاشی ناتھ ، جناب ارشد فیصل ، جناب عبدالسلیم ایڈوکیٹ ، جناب عبدالرفیق صاحب چاند ، جناب تاج الدین ، مسٹر ریاض رنگریز و دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT