Thursday , May 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / نافرمان بیوی اور دوسرے نکاح کا شرعی حکم

نافرمان بیوی اور دوسرے نکاح کا شرعی حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ سلطانہ تقریبا ایک سال سے اپنے میکے میں ہی قیام پذیر ہے۔ بارہا شوہر کے بلانے پر چندمطالبات رکھی ہے۔ ۱۔ شوہر کے والدین سے علحدہ مکان میں رکھے۔ ۲۔ ماہانہ خرچ کے لئے کثیررقم دیں۔ اسکے علاوہ مزید شرائط رکھی۔ اب زید دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے    ؟ بینوا تؤجروا
جواب:شرعا کسی بھی مسلمان میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرتے ہوئے انکے حقوق ادا کرنے کی استطاعت ہو تو وہ چار عورتوں تک اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ اگر یہ استطاعت نہ ہوتو ایک پر ہی اکتفا کرے۔ لقولہ تعالیٰ:  فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلٰث و ربٰع فاِن خفتم الا تعدلوا فواحدۃ۔  (سورۃ النساء  آیت ۳)
پس بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زید، سلطانہ کے انکے گھر آنے پر دونوں بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرتے ہوئے انکے حقوق ادا کرسکتے ہیں تو وہ دوسرا نکاح کرسکتے ہیں۔
۲۔سلطانہ بلااجازت شوہر ، شوہر کے گھر سے چلے جانے اور بلانے پر بھی نہ آنے سے وہ ناشزہ (نافرمان) ہے، شوہر کے گھر واپسی تک شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب النفقات ص ۵۴۵ میں ہے:  وان نشزت فلانفقۃ لھا حتی تعود الی منزلہ والناشزۃ ھی الخارجۃ عن منزل زوجھا المانعۃ نفسھا منہ۔
ماں باپ کے گھر میں علحدہ ایسا کمرہ، جس میں اسکے رہنے اور اسکے اسباب کی حفاظت کیلئے ایسی مستقل جگہ ہو کہ جہاں ساس، سسر کا دخل نہ ہو تو اسکو علحدہ گھر طلب کرنے کا حق نہیں ہے، ورنہ اس کامطالبہ درست ہے۔ فتاوی عالگیری جلد اول فصل فی السکنی ص ۵۵۶ میں ہے: امرأۃ أبت أن تسکن مع ضرتھا أو مع أحمائھا کامہ وغیرھا فان کان فی الدار بیوت و فرّغ لھا بیتا و جعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا أن تطلب من الزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الابیت واحد فلھا ذلک۔  فقط واﷲأعلم
بعدطلاق اولاد کی پرورش و نفقہ کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے حالت نشہ میں اپنی حاملہ بیوی ہندہ کو تین سے زائد طلاق دیدیا۔ اب وضع حمل کے بعد لڑکا تولد ہوا ہے۔
ایسی صورت میں شرعا اس لڑکے کی پرورش کی ذمہ داری کس پر ہے اوراخرجات کس کے ذمہ ہیں۔  ؟ بینوا تؤجروا
بشرطِ صحت ِسوال صورتِ مسئول عنہا میں بکر کے صلب سے اور ہندہ کے بطن سے بعد طلاق، جولڑکا تولد ہوا، اس کی پرورشی کا حق سات سال کی عمر تک، ماں(ہندہ) کو ہے، اس عمر کے بعد باپ (بکر) ماں سے واپس لے کر اس کی تعلیم و تربیت کرے گا۔ اور اس لڑکے کا نفقہ (اخرجات) اوردودھ پلانے کی اجرت، نگرانی کا معاوضہ، باپ (بکر) کے ذمہ ہے۔ بہجۃ المشتاق لأحکام الطلاق باب الحضانۃ ص ۱۶۲ میں ہے:  أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح و بعد الفرقۃ الأم … والأم والجدۃ بالغلام حتی یستغنی ، فان استغنی بأن کان یأکل وحدہ ویشرب وحدہ وفی روایۃ یستنجی وحدہ فالأب اولی بہ وقدّر الاستغناء بسبع سنین وعلیہ الفتوی۔ اور ص ۱۶۴ میں ہے:  واعلم أنہ یجب علی الأب ثلاثۃ أجرۃ الرضاع وأجرۃ الحضانۃ و نفقۃ الولد۔
فقط واﷲأعلم

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT