Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نالوں اور تالابوں میں مکانات کی تعمیرات ناقابل قبول

نالوں اور تالابوں میں مکانات کی تعمیرات ناقابل قبول

انہدامی مہم میں مکانات کو ختم کردیا جائے گا ، بلدیہ و محکمہ مال کی وضاحت
حیدرآباد۔ 26ستمبر(سیاست نیوز) نالوں اور تالابوں میں تعمیر کردہ عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا بلکہ نالوں اور تالابوں میںتعمیر کی گئی عمارتیں بھی خصوصی انہدامی مہم کی زد میں آئیں گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شروع کردہ مہم پر اٹھائے جانے سوالات کے جواب میں بلدیہ و محکمہ ٔ مال کے اعلی عہدیداروں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو عمارتیں نالوں یا تالابوں پر تعمیر کی گئی ہیں ان پر بی آر ایس اسکیم کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ ان عمارتوں کے بی آر ایس کروانے والوں کے خلاف دوہری کاروائی خارج از امکان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس یا ایل آر ایس اسکیم کے استفادہ کنندگان کی جانب سے جو حلف نامہ دیا جاتا ہے وہ حلف نامہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ باقاعدہ بنائی جانے والی عمارت نالہ یا تالاب کے شکم میں موجود نہیں ہے۔ اس حلف نامہ کے ادخال کے بعد نالوں پر یا تالاب میں کی گئی تعمیرات خواہ باقاعدہ ہی کیوں نہ ہو وہ غیر مجاز تعمیرات کے زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔ عہدیداروں کے بموجب شہر کے کئی علاقوں بالخصوص نئے شہر میں بی آر ایس اور ایل آر ایس اسکیم کے تحت نالوں اور تالابوں پر کئے گئے قبضوں کو بھی باقاعدہ بنا لیا گیا ہے لیکن انہیں باقاعدہ بنائی گئی عمارتوں کے زمرے میں شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ استفادہ کنندہ نے حلف نامہ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ مذکورہ عمارت یا اراضی تالاب کا شکم یا نالہ پر نہیں ہے لیکن اس اعتراف کے باوجود اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کے خلاف بلدیہ دوہری کاروائی کا جواز رکھتی ہے۔ بلدیہ کی جانب سے شروع کردہ انہدامی کاروائی کی مہم کے دوران بلڈرس اور رئیل اسٹیٹ ڈیلرس کی جانب سے یہ سوال اٹھائے جانے لگے ہیں کہ جو عمارتیں باقاعدہ بنائی گئی ہیں ان عمارتوں کے خلاف کاروائی کا امکان کیسے پیدا ہوگا۔ ان سوالات کے فوری بعد بلدی عہدیداروں نے اس مسئلہ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کاروائیوں کے لئے جی ایچ ایم سی اور محکمہ ٔ مال کے علاوہ محکمہ ٔ آبپاشی کے پاس جواز موجود ہے اور اس کی قانونی گنجائش کا جائزہ لینے کے بعد ہی انہدامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ نالوں اور تالابوں پر کئے گئے قبضہ ٔ جات کو باقاعدہ بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ نالوں اور تالابوں پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے کا مطلب عوام کی دشواریوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی لئے حلف نامہ کی بنیاد پر عمارتوںکو باقاعدہ بنایا گیا اب ان کی نشاندہی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT