Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / نالوں و تالابوں پر قبضہ جات کی نشاندہی

نالوں و تالابوں پر قبضہ جات کی نشاندہی

افضل ساگر تا معظم جاہی مارکٹ نالے پر سب سے زیادہ 277 قبضے
حیدرآباد۔18اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں جاری نالوں اور تالابوں کے سروے کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد دیگر محکمہ ٔ جات کے ہمراہ جاری رکھے ہوئے نالوں و تالابوں کے سروے کا عمل بہت جلد مکمل کرنے کے لئے مزید ٹیموں کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تاحال دونوں شہروں میں 85کیلو میٹر نالوں پر سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور اس دوران قبضہ ٔ جات کی نشاندہی کرتے ہوئے تفصیلات سے محکمہ کے اعلی عہدیداروں کو واقف کروادیا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود میں 1960تا1970کے نقشہ ٔ جات کے مطابق نالوں کا سروے کیا جارہا ہے اور ان پر کئے گئے قبضہ ٔ جات کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں۔ پرانے شہر کے کئی مقامات پر نالوں کو بند کرتے ہوئے کئے گئے قبضہ ٔ جات میں سیاسی سرپرستی اور بعض مقامات پر سیاستدانوں کے قبضوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بلدی حدود میں 84ہزار 917میٹر نالوں کے سروے کے دوران 3370جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو نالوں پر تعمیر کردہ ہیں۔دونوں شہروں میں 35ٹیموں کی جانب سے کئے جا رہے اس سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ افضل ساگر سے معظم جاہی مارکٹ پہنچنے والے نالے پر سب سے زیادہ 277قبضہ ٔ جات ہیں جبکہ پرانے شہر میں بھی نالوں پر قبضہ ٔ جات کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں۔مغل کا نالہ کاروان پر 46تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جبکہ یاقوت پورہ نالہ پر1450میٹر کے دوران 84تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔دبیر پورہ نالہ پر کئے گئے 1000میٹر کے سروے میں 28تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔اپو گوڑہ نالہ پر کئے گئے 1100میٹر کے سروے میں 81تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو مکمل طور پر نالے پر تعمیر کردہ ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے بموجب ان تعمیرات کے انہدام کا بہت جلد آغاز عمل میں لایا جائے گا جو نالوں پر قبضہ کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT