Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے سرگرمیوںمیں شدت

نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے سرگرمیوںمیں شدت

تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کو موقع کی توقع
حیدرآباد ۔ 10۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے دسہرہ سے عین قبل 9 کارپوریشنوں کے صدورنشین کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی قائدین میں سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ سرکاری عہدوں کے خواہشمند قائدین نے دوسرے کارپوریشنوں پر تقررات کی امید سے وزراء اور چیف منسٹر کے کیمپ آفس میں نمائندگیوں کا آغاز کردیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے کل 9 کارپوریشنوں کے صدورنشین کے ناموں کو قطعیت دیدی ہے اور توقع ہے کہ دسہرہ کے فوری بعد مزید اداروں پر تقررات کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے پارٹی سے وابستہ اور خاص طور پر 2001 ء سے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کی فہرست طلب کی ہے۔ یہ فہرست ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر سے حاصل کی جارہی ہے تاکہ حقیقی کارکنوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے جن9  قائدین کو کارپوریشنوں کا صدرنشین نامزد کیا، وہ تمام 2001 ء میں ٹی آر ایس کے قیام سے کے سی آر کے ساتھ ہیں، ان میں سے 5 کا تعلق ضلع ورنگل سے ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر نے دوسرے مرحلہ میں مزید 10 ناموں کو قطعیت دینے کی تیاری کرلی ہے ۔ دسہرہ سے قبل سرکاری عہدوں پر تقررات کے عمل کے آغاز نے پارٹی کے اقلیتی قائدین کو بھی متحرک کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اقلیتی اداروں میں اردو اکیڈیمی حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن تقررات کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہر ضلع سے سرگرم اقلیتی قائدین کی فہرست حاصل کی ہے، جنہیں ان اداروں میں نامزد کیا جائے گا ۔ ریاست میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 31 ہونے کی صورت میں ان اداروں میں تقررات کے لئے مسابقت میں اضافہ ہوجائے گا۔ چیف منسٹر اگر ہر ضلع سے ایک قائد کو اقلیتی اداروں میں شامل کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔ حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی میں قواعد کے مطابق صدرنشین کے علاوہ ارکان کی تعداد محدود ہے۔ 15 سے زائد ارکان نامزد نہیں کئے جاسکتے، لہذا اداروں پر تقررات میں کافی دشواری ہوسکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے اقلیتوں سے متعلق اداروں میں دو اداروں پر اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین کو صدرنشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ اضلاع کو نمائندگی مل سکے۔ کریم نگر ، نظام آباد، ورنگل اور محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین کے نام زیر غور بتائے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اداروں پر تقررات کے سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، سکریٹری جنرل ٹی آر ایس ڈاکٹر کیشو راؤ کے علاوہ ریاستی وزراء کے ٹی آر اور ہریش راؤ سے ابتدائی مشاورت کرلی ہے اور جلد ہی ناموں کو قطعیت دینے کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت پہلے مرحلہ میں تین اداروں پر تقررات کے حق میں ہیں جبکہ وقف بورڈ اور اقلیتی کمیشن پر تقررات کیلئے وقت لگ سکتا ہے۔ وقف بورڈ میں تقررات کیلئے بعض ارکان کا انتخاب رائے دہی کے ذریعہ کرنا پڑے گا ۔ وقف بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر اقلیتی قائدین میں پھیلی بے چینی دور کرنے تین اداروں پر فوری تقررات کے حق میں ہیں۔ اقلیتی قائدین نے بھی عہدوں کیلئے دوڑ دھوپ شروع کردی ہے۔ مختلف وزراء اور عوامی نمائندوں کے ذریعہ اپنے پسندیدہ عہدوں کیلئے نمائندگیاں کی جارہی ہیں۔ پارٹی نے حالیہ عرصہ میں شامل ہونے والے قائدین کچھ زیادہ ہی متحرک دیکھے جارہے ہیں۔ تاہم چیف منسٹر نے 9 کارپوریشنوں پر تقررات کے ذریعہ یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ قدیم قائدین کو ترجیح دیںگے۔

TOPPOPULARRECENT