Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / نامزد عہدوں پر تقررات کے اِشارے

نامزد عہدوں پر تقررات کے اِشارے

چیف منسٹر کی جانب سے پارٹی رفقاء اور وزراء سے مشاورت کی اطلاع

حیدرآباد۔/24مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس قائدین کیلئے اچھے دن شاید جلد ہی آئیں گے کیونکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی بجٹ اجلاس کے فوری بعد نامزد عہدوں پر تقررات کا اشارہ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے تقررات کے سلسلہ میں پارٹی رفقاء اور وزراء سے مشاورت کا آغاز کردیا۔ جون 2014 میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد سے قائدین اور کارکنوں کو نامزد عہدوں پر تقررات کا بے چینی سے انتظار تھا اور ہر چھ ماہ بعد چیف منسٹر کوئی نہ کوئی مہورت کا تعین کرتے لیکن اس مسئلہ کو ٹال دیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ چیف منسٹر نے جس مہورت کا تعین کیا ہے وہ برقرار رہے گا اور طویل عرصہ سے منتظر کیڈر کے اچھے دن ضرور آئیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی عہدوں کے خواہشمندوں نے بھی مختلف سطح پر پیروی شروع کردی ہے۔ پارٹی کیڈر عدم تقررات کے سبب کسی قدر ناراض تھا لیکن اب وہ پُرامید ہے کہ بجٹ سیشن کا اختتام ان کیلئے اچھی خبر لائے گا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20ماہ سے عہدوں کے منتظر قائدین کی اکثریت کے سبب ہر عہدہ کیلئے خواہشمند امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے۔ تقرر کئے جانے والے عہدے کم ہیں لیکن خواہشمندوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی کارپوریشن کے صدرنشین کے عہدہ کیلئے ہر اسمبلی حلقہ سے 10سے زیادہ اہم دعویدار ہیں اور اس قدر بڑی تعداد کو خوش کرنا حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے۔ چیف منسٹر 2001 سے پارٹی سے وابستہ قائدین کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں دیگر جماعتوں سے شمولیت اختیار کرنے والے قائدین بھی پُرامید ہیں کیونکہ ان سے بھی نامزد عہدوں پر تقرر کا وعدہ کیا گیا۔ مجالس مقامی، ضمنی انتخابات اور 2014میں ٹکٹ سے محروم قائدین اپنی دعویداری کے ساتھ کے ٹی آر، ہریش راؤ، کویتا اور وزراء کے پاس اپنی پیروی میں مصروف ہیں۔ وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے بھی اپنے حامیوں کو عہدے دلانے کیلئے دوڑدھوپ شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ پہلے مارکٹ کمیٹیوں پر تقررات مکمل کئے جائیں اس کے بعد مندروں کی کمیٹیوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ کارپوریشنوں اور بورڈز کیلئے کئی موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی نے بھی اپنی دعویداری پیش کی ہے کیونکہ کابینہ میں شمولیت ممکن نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اقلیتی اداروں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں تاکہ تقررات کا جائزہ لیا جاسکے۔ جن اقلیتی اداروں پر فوری تقررات کئے جاسکتے ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اس کیلئے مختلف ناموں پر غور و خوض کا آغاز ہوچکا ہے۔ مختلف گوشوں سے چیف منسٹر نے فہرستیں طلب کی ہیں جن کا جائزہ لیتے ہوئے قطعی ناموں کو منتخب کیا جائے گا۔ اقلیتوں میں بھی نامزد عہدوں کیلئے زبردست دوڑدھوپ دیکھی جارہی ہے۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین عہدوں کیلئے حیدرآباد میں سرگرم لابی میں مصروف ہیں۔ جن اقلیتی اداروں پر تقررات میں حکومت کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے اُن میں اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT