Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / نامعلوم مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کیلئے سیاست کی تحریک مثالی : مفتی خلیل احمد

نامعلوم مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کیلئے سیاست کی تحریک مثالی : مفتی خلیل احمد

جناب زاہد علی خان کی ستائش ‘ 4002 ویں نعش کی نماز جنازہ شیخ الجامعہ نظامیہ نے پڑھائی ‘ اہل خیر حضرات سے ایڈیٹر سیاست کا اظہار تشکر
حیدرآباد۔ 9جنوری ( نمائندہ خصوصی) حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو سارے ہندوستان میں اس بات کا اعزاز حاصل ہیکہ اس شہر کے مکینوں میں ایثار و خلوص ہمدردی ‘ محبت و مروت اور انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ اسی تاریخی شہر کے شہری مصیبت زدوں کی مدد میں سب سے آگے رہتے ہیں ۔ ان کی ایک اور خوبی یہ ہیکہ بیماروں ‘ محتاجوں کی مدد کو اپنا فرض تصور کرتے ہیں ۔ ہندوستان میں حیدرآباد کی پہچان اسی لئے بھی ہیکہ یہاں ’سیاست ملت فنڈ ‘ کے ذریعہ نامعلوم مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کی جاتی ہے ۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خان کی تحریک پر 2003ء میں لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کا سلسلہ شروع کیا گیا اور تاحال 4002 نعشوں کی تجہیز و تکفین عمل میں لائی گئی ۔ آج بعد نماز ظہر برصغیر کی ممتاز دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ کے احاطہ میں 4001 ویں اور 4002 ویں نامعلوم مسلم میت کی نماز جنازہ پڑھائی گئی ۔ شیخ الجامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد نے نماز جنازہ پڑھائی اور صدر مفتی جامعہ نظامیہ مفتی محمد عظیم الدین نے دعا کی ۔ نماز جنازہ میں علما و مشائخین اور جامعہ کے طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ شیخ الجامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد نے ادارہ ’سیاست‘ کی جانب سے لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کی تحریک کیلئے ایڈیٹر جناب زاہد علی خان کی ستائش کی اور کہا کہ اس کارخیر کی مثال سارے ملک میںنہیں ملتی ۔ شیخ الجامعہ نے نماز جنازہ ؤ تدفین میں شریک ہونے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم میت کی نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور اگر نہ پڑھی جائے تو سارا محلہ گناہ گار ہوجاتا ہے ۔ شیخ الجامعہ نظامیہ نے ادارہ سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاست نے اس طرح کا جو کارخیر شروع کیا ہے وہ کام ملک بھر میںعام ہوجائے تاکہ ہندوستان میں کوئی بھی مسلم نامعلوم نعش نذر آتش نہ کی جاسکے بلکہ اس کی اسلامی طریقہ سے تجہیز و تکفین عمل میں آسکے ۔ واضح رہے کہ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خان کے علم میں جب یہ بات آئی کہ مسلم نامعلوم نعشوں کو ورثا نہ ملنے کے باعث نذرآتش کردیا جاتا ہے یا دیگر مذاہب کے مرد و خواتین کی نعشوں کے ساتھ ایک گڑھے میں دفن کردیا جاتا ہے تب انہوں نے ’سیاست ملت فنڈ ‘ کے ذریعہ نامعلوم مسلم نعشوں کی اسلامی انداز میں تجہیز و تکفین کرنے کی تجویز پیش کی ۔ اب تک 4002 نامعلوم نعشوں کی تجہیز و تکفین عمل میں آچکی ہے ۔ فی میت تجہیز و تکفین پر 3000روپئے کے مصارف آتے ہیں ۔ تاحال ایک کروڑ 70 لاکھ 6ہزار روپئے کے مصارف آئے اور یہ ایسا کام ہے جو قارئین ’سیاست‘ کے تعاون کے بغیر ناممکن تھا ۔ آپ کو یہ بھی بتائیں کہ روزنامہ ’سیاست‘ کی ایک ٹیم نامعلوم مسلم نعشوں کو مردہ خانوں سے حاصل کرتی ہے ۔ ان کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ ان چار ہزار سے زائد میتوں میں سے 3000 میتوں کی تدفین کوکٹ پلی قبرستان میں انتظامی کمیٹی کے صدر شیخ عبدالعزیز کی موجودگی میں عمل میں آئی جبکہ مابقی میتوں کی تدفین تکیہ امان اللہ شاہ ‘ گولی گوڑہ بس ڈپو کے سامنے والے قبرستان ‘ لال دروازہ قبرستان ‘ کاروان قبرستان ‘ سبزی منڈی قبرستان ‘ نیاپل چمن کے قبرستان ‘ جان اللہ شاہ قبرستان ‘ دبیرپورہ قبرستان ‘ مصری گنج قبرستان ‘ شاہ پور قبرستان ‘ پہاڑی شریف سے کچھ فاصلہ پر واقع قبرستان اور قبرستان تھرتھرے شاہ میں عمل میں آئیں ۔ اس تحریک سے وابستہ سابق اسسٹنٹ سب انسپکٹر سید زاہد حسین کے مطابق 2003 میں جب یہ نیک کام شروع کیا گیا تب کچھ ہمدردوں نے حکومت سے تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا لیکن ایڈیٹر سیاست نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اس کارخیر میں حکومت کو شیرہولڈر نہیں بنائیں گے بلکہ عوام اس میں ہماری مدد کرینگے ۔ مسلم میتوں کی نماز جنازہ و تدفین میں شریک ہونے کی اہمیت و ثواب کا اندازہ ہمارے یہاں نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے ‘ آپؐ نے فرمایا ’ جس شخص نے نماز جنازہ میں شریک ہوکر نماز جنازہ پڑھی اُسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو میت کی تدفین تک وہاں موجودر ہا اسے 2قیراط کا ثواب ملتا ہے ‘ ۔ دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ دو قیراط کتنے ہوتے ہیں ‘ آپؐ نے فرمایا ’ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ‘ ۔ ہم سب کو آپ ﷺ کی اس حدیث پاک پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح جناب زاہد علی خان نے حیدرآباد اور دنیا کے مختلف مقامات میں مقیم اہل خیر حضرات کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے تعاون سے سیاست ملت فنڈ یہ فریضہ انجام دے رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT