Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نامور استاد شاعر حضرت داغ دہلوی کی مزار کی تزئین

نامور استاد شاعر حضرت داغ دہلوی کی مزار کی تزئین

پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر/ سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کا بیان
حیدرآباد ./22 مارچ ( پریس نوٹ ) ممتاز استاد شاعر نواب مرزا داغ دہلوی جو علامہ اقبال کے استاد تھے اور جنہوں نے نظام ششم نواب میر محبوب علی خان کے دور میں سلطنت حیدرآباد میں بہت نام کمایا ۔ ان کی علمی قابلیت اور شاعری کی عظمت کا یہ حال تھا کہ نواب میر محبوب علی خان نے انہیں دبیرالدولہ ، فصیح الملک ، نواب نظام جنگ بہادر ، سپہ سالار یار وفادار ، مقرب السلطان ، بُلبُل ہندوستان جہاں استاد ، ناظم یار جنگ جیسے خطابات سے نوازا تھا ۔ داغ دہلوی نے حیدرآباد کو اپنا وطن ثانی بنایا اور ان کا انتقال 1905 میں حیدرآباد میں ہی ہوا اور درگاہ  حضرت یوسفینؒ میں حضرات یوسفین کے پائنتی ان کی آخری آرام گاہ بنی ۔ پروفیسر ایس ایس شکور ڈائرکٹر / سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے اس سلسلہ میں اپنے ایک صحافتی بیان میں بتایا کہ حضرت داغ کی قبر کی ان کے انتقال کے تقریباً 60 سال بعد اس وقت کے محبان اردو زبان اور داغ کے چاہنے والوں نے سنگ مرمر اور حصار بندی کے ذریعہ تزئین نو کی تھی ۔ اس کے بعد سے اب تک اس کی کوئی خبر گیری نہیں ہوئی تھی ۔ جس کی وجہ سے حضرت داغ کی قبر بوسیدہ ہو رہی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ جناب سید مسکین احمد جنرل سکریٹری انجمن محبان اردو تلنگانہ کی جانب سے جناب محمد محمود علی نائب وزیر اعلی حکومت تلنگانہ سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی گئی تھی ۔ چنانچہ نائب وزیر اعلی کی ہدایت پر تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے حضرت داغ کی قبر کی صفائی ، پالشنگ اور آہک پاشی کرواکر اس کی تزئین کروائی گئی ۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر ، سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے محبان اردو سے خواہش کی کہ حضرت داغ کی یاد میں یکم اپریل 2017 کو انجمن محبان اردو کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کریں اور اردو زبان کے ممتاز استاذ شاعر کو خراج عقیدت پیش کریں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT