Sunday , June 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / نامِ محمد ﷺ کی برکت

نامِ محمد ﷺ کی برکت

شیخ التفسیر مولاناحافظ میرلطافت علی
اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک علیہ الصلاۃ والسلام کو ایسے نام پاک سے موسوم فرمایاجوصرف اور صرف کمالات اورخوبیوں پر دلالت کرتاہے کہ جس میں کسی قسم کا عیب ونقص نکل ہی نہیں سکتا۔ جس طرح آپ ﷺکی ذات تمام عیبوں اور نقائص سے پاک ہے اسی طرح آپ ﷺکا نام مبارک بھی ہرقسم کی نقص سے پاک ہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کونامِ محمدﷺسے موسوم فرمایا محمدﷺحمد سے نکلاہے جس کے معنی تعریف و ستائش کے ہیں ۔مبالغہ اورزیادتی معنی کیلئے باب تفعیل میں لے جایاگیا جس کے معنی ہوئے خوب تعریف کرنا، ہمیشہ اورباربار تعریف کرنا ، محمد ﷺ یہ مفعول کا صیغہ ہے جس کے معنی ہے خوب تعریف کیاہوا،باربار اور ہمیشہ تعریف کیاہوا چنانچہ حضورپرنورﷺکی ولادت پاک کے ساتویںدن عبدالمطلب نے یہ نام محمدﷺرکھاتولوگوں نے اس انوکھے نام رکھنے کی وجہ دریافت کیاکہ آپ نے ایساانوکھانام کیوںرکھاکہ آج تک ایسانام نہ عرب میں ،نہ آپکے اباء واجداد میں پایاجاتاہے توحضرت عبدالمطلب نے فرمایامجھے خواب میں یہ حکم ملاہے کہ میں یہ نام رکھوں اورمجھے امیدہیکہ میرے اس بچہ کی ہمیشہ اور ہرطرح کی تعریفیںہواکریںگی چنانچہ یہ بات روز روشن کی طرح واضـح ہے کہ جب سے دنیااورکائنات کا وجود ہواتب سے آپ کی حمدوثناء ہوئی ہے اورہمیشہ دنیا میں، قیامت میں، مقام محمودپراورجنت میں بھی آپکی حمدوتعریف ہوتی رہیگی ہرنبی اور رسول کا نام کسی خاص وصف (صفت)پر دلالت کرتا ہے چنانچہ آدم کے معنی مٹی سے پیداہونے والے یاگندمی رنگ والے کے ہیں۔  ابراہیم کے معنی مہربان باپ کے، نوح کے معنی خوف خداسے گریہ وزاری اور نوحہ کرنیوالے کے، عیسیٰ کے معنی شریف النفس کرم الطبع کے ان تمام ناموںمیں ایک ایک صفت کی طرف اشارہ ہے مگرمحمدﷺکے معنی میںہرطرح اور ہرصفت میں بے حدتعریف ہونے کے ۔ اس نام مبارک میں آپ کے لاتعداد کمالات اورخوبیوں کی طرف اشارہ کرناہے ۔علماء بیان کرتے ہیں اس نام پاک کوخالق کائنات کے نام اللہ سے بھی بہت مناسبت ہے ۔جس طرح اللہ میں چار(۴)حروف ہیں تومحمد میںبھی چار(۴)حروف ہیں۔اللہ میں کوئی حرف نقطہ والانہیں تومحمدمیںبھی کوئی حرف نقطہ والانہیں۔اللہ میں زیرنہیں تومحمدمیں بھی زیرنہیںہے اسلیئے کہ زیرپستی اور نیچے پر دلالت کرتاہے چونکہ یہ دونوںناموں کوپستی نہیں بلکہ بلندی اوررفعت ہی رفعت ہے۔ اس لئے زیروالاحرف ہی نہیںرکھاگیاہے۔اللہ کہنے سے دونوں ہونٹ جدا ہوجاتے ہیں محمدکہنے سے دونوںہونٹ اورلب مل جاتے ہیں۔جس سے یہ بتانامقصود ہے کہ حضورﷺ مخلوق کوخالق سے ملانے والے ہیں اگرآپ ﷺکا واسطہ نہ ہو تو خالق کا ملناناممکن ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب نام پاک لبوں پر آتاہے تومحبت وعقیدت سے ایک لب دوسرے لب کو چوم لیتاہے۔اسی طرح کلمہ کے دونوںجزء میں بھی مناسبت ہے لاالہ الااﷲ میں بارہ (۱۲)حروف ہیں تو محمدرسول اﷲ میں بھی بارہ(۱۲) حروف ہیں۔سب کے نام انکے ماں باپ رکھتے ہیں لقب قوم دیتی ہے خطاب حکومت سے ملتاہے مگر حضورﷺکانام لقب وخطاب سب رب تعالی کی طرف سے ہے اور سب کے نام پیدائش کے بعد ہی رکھے جاتے ہیں مگر حضورکا نام اللہ تعالی نے دنیاکے پیداکرنے سے پہلے عرش اعظم پرلکھاجنت کے ہرمقام اوردرختوں کے ہرپتہ پر اور حوروں کے سینوں پر کندہ کیا۔کوئی شخص آپکو محمدﷺ کہکربرانہیں کہہ سکتا اگر کہے گا توخود اپنے منہ سے جھوٹا ہوگاکہ انہیں کہتا تومحمد یعنی لائق حمدوتعریف اورگرتاہے برائیاں اسلئے کفارمکہ آپکا نام مذمم رکھکرآپکی شان اقدس میں بکواس کئے تو صحابہ کرام کوبرامعلوم ہوا اور غصہ میں آگئے توحضور ﷺنے انکو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ دیکھومجھ کو میرے رب نے ان کفارکی گالیوں سے کس طرح بچایا اس لئے کہ یہ لوگ مذمم کو براکہتے ہیں ہوگا کوئی مذمم تواسکو برالگے گا مجھ کو تو اللہ تعالی نے محمد بنایا توہم کیوں برا مانے۔ اسی طرح اس نام مبارک کے فضائل میں ایک واقعہ کتب تفسیر میں بیان کیاگیاہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جوسو( ۱۰۰)برس تک مختلف گناہوں میں زندگی گذاری مرنے کے بعد لوگوں نے اسکے جنازہ کو لیکرکچرے کی کنڈی میں پھینک دیا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ میرے اس بندے کو غسل وکفن کرکے نماز جنازہ پڑھکر تدفین کرو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کوبڑی حیرت ہوئی کہ اتنے بدکار پر یہ عنایت عرض کیاکہ اے باریٔ تعالیٰ ایسایہ کیاماجراہے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ یہ یقینا بڑاگناہ گار تھا لیکن ایک دن اس نے تورات میں محمد ﷺ کا نام دیکھ کر اس کوبوسہ دے کر آنکھوں سے لگایا تھا توہم نے اس کی اس ادا پر اسکومعاف کردیا اوربخش دیا اسکی اطلاع لوگوں کو نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے روایتوں میں آیا ہیکہ جو اپنے لڑکے کا نام محمدرکھے تواللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا کہ مجھے ایسے شخص کو عذاب دینے سے شرم آتی ہے جس نے میرے محبوب کی محبت میں اپنے لڑکے کانام محمدرکھاتھا۔اور جس دسترخوان پر محمدنام کا شخص موجود ہوتواس دسترخوان کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ جس شخص کوصرف لڑکیا ں ہوتی ہوں اور لڑکانہ ہووہ شروع زمانہ حمل میں یہ نیت کرلے کہ مجھے اگراللہ تعالیٰ لڑکا عطافرمائے گاتومیں اس کا نام محمدرکھوں گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسکو لڑکا ہی عطافرمائیگا اور جوکوئی محمدنامی شخص سے مشورے لے گا تواسکواس مشورہ میں کامیابی حاصل ہوگی ۔علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس کا نام محمدہوتو اسکا بھی احترام کرناچاہئے اور اسکے نام کا بھی کہ یہ نام بگاڑ کرنہ لے اور بے ادبی نہ کرے ۔چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہیکہ سلطان محمود غزنوی نے ایک بار ایازکے بیٹے کو پکار ا اے ایاز کے بیٹے استنجاکیلئے پانی لاؤ توایاز نے بعد میں عرض کیاکہ حضور مجھ سے یامیرے بچے سے کیا قصور ہواکہ آپ نے اسکانام نہیں لیاتوسلطان محمود نے کہا کہ تمہارے بیٹے کا نام محمدہے اور میں اُس وقت بے وضوتھا اور میں نے کبھی بغیروضوکے محمدکانام اپنی ز بان سے ادانہیں کیااس لئے میں نے تمہارے بیٹے کا نام نہیں لیا۔ اس لئے ایک عاشق شاعرنے کیاہی خوب کہاہے۔  ٭ہزاربار بشویم دہن بمشک وگلاب  ٭  ہنوزنام توگفتن کمال بے ادبی است ۔  یعنی ہزار بار اپنے منہ کومشک وگلاب سے دھوکر بھی آپکا نام مبارک زبان سے اداکرنے کو انتھائی بے ادبی سمجھتاہوں ۔ اس لئے کہاگیاکہ۔  ٭اک نام محمد ہے جوبڑھکر گھٹانہیں  ٭ ورنہ ہرنام کوپنہازوال ہے  ٭  یعنی ہرنام نیک نامی پاکرکچھ مدت اورعرصہ کے بعد زوال پذیر اور گھٹنے لگتاہے لیکن نام محمدکو صرف اورصرف بلندی ہی بلندی اور ترقی ہے بلکہ جواس نام سے موسوم ہوتاہے اسکو بھی رفعت وبلندی حاصل ہوجاتی ہے۔غورفرمائیے کہ نام مبارک کی جب یہ شان وعظمت ہے تونام والے کی شان وعظمت کا کون اندازہ لگاسکتاہے۔
(حوالے:  مختلف کتب تفسیروکتب سیر)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT