Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ناٹو ایک مؤثر فوجی اتحاد، ٹرمپ کا موقف تبدیل

ناٹو ایک مؤثر فوجی اتحاد، ٹرمپ کا موقف تبدیل

روس کیساتھ تعلقات بگڑنے کا اعتراف، وائیٹ ہاؤس میں ناٹو سکریٹری جنرل کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

واشنگٹن ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو کسی زمانے میں ناٹو کو غیر اہم تصور کیا کرتے تھے تاہم حالیہ دنوں میں انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے ناٹو کو ایک مؤثر فوجی اتحاد قرار دیا اور کہا کہ ناٹو کے ساتھ وہ اپنا تعاون جاری رکھنے کے پابند ہیں۔ یاد رہیکہ شام کو لیکر ان دنوں امریکہ اور روس میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس پس منظر میں ٹرمپ کا یہ بیان یقیناً اہمیت کا حامل ہے۔ وائیٹ ہاؤس کی ایک مشترکہ نیوز کانفرنس جو انہوں نے ناٹو سکریٹری جنرل جینس اسٹولن برگ کے ساتھ منعقد کی تھی، اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ناٹو سے متعلق یہ ریمارک کافی عرصہ قبل کیا تھا تاہم اب ناٹو کا موقف وہ نہیں رہا جیسا کہ وہ (ٹرمپ) سمجھتے تھے۔ اب مجھے اس بات پر مکمل ایقان ہیکہ ناٹو دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ناٹو غیراہم ہے لیکن اب ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے امید ہیکہ ناٹو عراق میں ہمارے شراکت داروں کے ساتھ اپنا رول مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گی کیونکہ ہمارے عراقی شراکت دار اس وقت دولت اسلامیہ جیسی سفاک اور بے رحم تنظیم سے نبردآزما ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہمات کے دوران مسلسل یہ بیان دیا تھا کہ ناٹو ایک غیراہم فوجی اتحاد ہے اور اب ان کا یہ کہنا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات جتنے اب خراب ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں رہے۔ اگر روس کے ساتھ امریکہ اور ناٹو کے تعلقات پہلے جیسے خوشگوار ہوگئے تو یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی ہوگی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ اس وقت امریکہ اور روس کے درمیان شام تنازعہ نے ایک ناخوشگوار رول ادا کیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تلخ کلامی تقریباً روز کا معمول بن گئی ہے۔

ٹرمپ نے قبل ازیں بشارالاسد کو ایک ’’قصائی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ شام میں خانہ جنگی کا خاتمہ کیا جائے۔ ٹرمپ نے 28 رکنی ناٹو میں مونٹینیگرو کی شمولیت کی بھی تائید کی تھی اور پیر کے روز انہوں نے مونٹینیگرو کو 29 ویں ملک کی حیثیت سے شامل کرنے کے پروٹوکول پر دستخط بھی کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے مہینوں اور سالوں میں وہ اپنے تمام ناٹو حلیف ممالک کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیں گے تاکہ اس شراکت داری کو مستحکم تر کیا جاسکے کیونکہ ایسا کرنے سے ہی مستقبل کے مزید پیچیدہ چیلنجس سے نمٹنے کی راہ ہموار ہوگی جن میں امیگریشن اور مائیگریشن دونوں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہیکہ شام کے صدر بشارالاسد کی سفاکانہ حرکتوں کی تمام ناٹو ارکان نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعہ معصوم اور بے قصور شہریوں جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی ہلاکتیں سب کیلئے ناقابل قبول ہیں۔ ایسا کوئی بھی ملک جس میں انسانیت باقی ہے اور ضمیر زندہ ہے، وہ ایسے حملوں کی کبھی تائید نہیں کرے گا۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہیکہ شام کی خانہ جنگی کو ختم کیا جائے۔ دہشت گردوں کو شکست دی جائے اور پناہ گزینوں کو ان کے متعلقہ مقامات لوٹنے کو یقینی بنایا جائے۔ توقع ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ ناٹو کانفرنس میں شرکت کیلئے بروسلز کا دورہ بھی کریں گے۔ دوسری طرف اسٹولن برگ نے کہاکہ ایک مضبوط ناٹو نہ صرف یوروپ بلکہ امریکہ کیلئے بھی بہتر ہے۔ امریکہ نے یوروپ کے تحفظ کیلئے جو بھی اقدامات کئے ہیں یا خود کو اس کا پابند بنایا ہے وہ یقیناً قابل ستائش ہے۔ یہ اقدامات ہم محض لفاظی میں نہیں دیکھ رہے بلکہ اس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں جس کا ثبوت یہ ہیکہ گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے سینکڑوں ٹروپس یوروپ میں تعینات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ناٹو اس وقت کئی اہم رول ادا کررہا ہے جن میں دولت اسلامیہ سے مقابلہ بھی شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT