Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ناچ گانے والی دعوت کا قبول کرنا

ناچ گانے والی دعوت کا قبول کرنا

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل عموماً شادیوں کی دعوت میںناچ گانا اور دیگر منکرات ہوتے ہیں کیا ایسی دعوت کو قبول کرنا ضروری ہے یا نہیں  اور  اس میں کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیںشادی ولیمہ کی دعوت میں اگر لغویات ‘ لہو و لعب اور منکرات نہ ہوں تو ایسی دعوت کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے ۔ اس کے سواء دیگر دعوتوں کے قبول کرنے یا نہ کرنے میں اختیار ہے ۔ مگر قبول کرنا افضل ہے کیونکہ اس میں دعوت دینے والے کا دل خوش ہوتا ہے جو باعث اجر و ثواب ہے ۔ شادی کی دعوت میں ناچ گانا اگر دسترخوان سے علحدہ مقام پر ہو رہا ہے تو کھاسکتے ہیں اگر کھانے کے مقام میں ہو تو اس کو موقوف کرواکر کھانا کھاسکتے ہیں ‘اگر کوئی پیشوا ئے قوم مثلاً عالم  یا مشائخ ہے اور گانا رکوانے پر اس کو قدرت نہیں تو چاہئے کہ وہ وہاں سے نکل جائے اور اگر پیشوا نہیں ہے تو صبر کر کے کھا سکتا ہے ۔ یہ سب اس وقت ہے جبکہ دعوت میں جانے کے بعد اس کو گانے بجانے کا حال معلوم ہو اگر پہلے ہی علم ہوجائے تو پھر چاہے وہ پیشوائے قوم ہو یا نہ ہو کسی کو بھی ایسی دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔ اور اگر دعوت فخر و مباہات ‘ ریاکاری اور اظہار شان و شوکت کیلئے ہو رہی تو ایسی جگہ پر ہرگز نہیںجانا چاہئے  ۔درمختاربرحاشیہ رد المحتار ج ۵ ص۲۴۵  کتاب الحظر و الاباحۃ میں ہے :  (دعی الی ولیمۃ وثمۃ لعب او غناء قعد و أکل ) لو المنکر فی المنزل فلو علی المائدۃ لا ینبغی ان یقعد بل یخرج … (فان قدر علی المنع فعل و الا) یقدر (صبران لم یکن ممن یقتدی بہ فان کان مقتدی و لم یقدر علی المنع خرج و لم یقعد)۔

بعد طلاق ہبہ شدہ مکان کاحق
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے چارمکانات میں سے ایک مکان سے اپنا قبضہ ختم کرکے اپنی اہلیہ ہندہ کوہبہ کردیا۔ تاریخ ِہبہ سے ہندہ اس مکان میں پر قابض ومتصرف ہے ۔ اب دونوں میںاختلافات کی بناء نوبت طلاق تک پہنچ چکی ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہیکہ اگر دونوں میںطلاق ہوجائے تو مذکورہ مکان ہندہ کی ملکیت رہیگا یا نہیں۔ ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زید نے مذکورالسؤال مکان بحالت زوجیت اپنی زوجہ ہندہ کوہبہ کیا ہے اور اپنا قبضہ ہٹاکر اس کے قبضہ میںدیدیاہے توقبضہ کے ساتھ ہی ہندہ اس مکان کی مالکہ ہوگئیں ۔ زید کواس ہبہ سے رجوع کاحق نہیں ۔ اگر زید طلاق دیدیا تب بھی وہ مکان ہندہ کی ملک رہیگا ۔ الدرالمختار برحاشیہ ردا لمحتار جلد۴کتاب الہبہ میں ہے  وتتم الھبۃ بالقبض الکامل اور اسی میں ہے (ویمنع الرجوع فیھا دمع خزقہ) ف’’الدال‘‘ الزیادۃ المتصلۃ کبناء وغرس و’’میم‘‘ موت احد العاقدین ، و’’العین‘‘ العوض ،و’’الخاء‘‘ خروج الھبۃ عن ملک الموھوب لہ ، و’’الزای‘‘ الزوجیۃ وقت الھبۃ ، و’’القاف‘‘ القرابۃ ،و’’الھاء‘‘ ھلاک العین الموھوبۃ۔

سود کا لینا اور دینا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی کے لئے سود سے رقم لینا کوئی حرج نہیں۔ کیا سود دینے اور لینے والے برابر کے شریک ہیں ؟ ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟
جواب :  بشرط صحت سوال سود نص قطعی سے حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے احل اﷲ البیع و حرم الربٰو (سورۃالبقرۃ) سود لینے والا دینے والا دونوں گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں۔لہذا  اس شخص کاقول درست نہیں ۔      فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT