Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / ناگاساکی پر جوہری بم حملوں کی 70 ویں سالگرہ

ناگاساکی پر جوہری بم حملوں کی 70 ویں سالگرہ

فوجی حکمرانی میں توسیع کی کوشش پر وزیراعظم جاپان پر تنقید
ٹوکیو۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جاپان نے آج ناگاساکی پر جوہری بم حملے کی 70 ویں سالگرہ منائی جس میں 74,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیراعظم شینزو ایب پر فوجی حکمرانی میں توسیع کی ان کی کوششوں کی بناء پر تنقید کی گئی۔ آج گھنٹیاں بجائی گئیں اور لاکھوں افراد جن میں ناگاساکی پر حملے سے زندہ بچ جانے والے عمر رسیدہ افراد اور مہلوکین کے ورثاء بھی شامل تھے، 11 بجکر 2 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی منائی۔ ٹھیک اسی وقت 9 اگست 1945ء کو امریکی طیارہ نے ساحلی شہر پر مہلک جوہری بم حملہ کیا تھا۔ وزیراعظم جاپان شینزو ایب نے اس اجتماع میں پھول چڑھاکر مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 75 ممالک کے نمائندے بشمول امریکی سفیر کیرولین کینیڈی اس موقع پر موجود تھی۔ وزیراعظم جاپان نے اپنی تقریر میں کہا کہ جاپان واحد ملک ہے جس پر جنگ کے دوران جوہری بم حملہ کیا گیا تھا۔ ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ عالمی پیمانے پر نیوکلیئر تخفیف اسلحہ کی مہم کی قیادت کریں گے اور ایک ایسی دنیا تخلیق کریں گے جس میں ایسے ہتھیار موجود نہ ہوں۔ انہوں نے تیقن دیا کہ جاپان اپنے دیرینہ اصولوں کا پابند رہے گا کہ وہ جاپانی سرزمین پر نیوکلئیر ہتھیار نہ تو تیار کرے گا، نہ قبضہ میں رکھے گا اور اس کی اجازت دے گا۔ شینزو ایب پر قبل ازیں ہیروشیما کی تقریب میں تین اصولوں کا تذکرہ کرنے میں ناکامی پر تنقید کی گئی۔ جوہری بم حملے میں زندہ بچ جانے والے افراد خاص طور پر قوم پرست قائد قانون سازی کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ فوجی حکمرانی میں مزید توسیع نہ ہوسکے۔ ناگاساکی کے جوہری بم حملے میں زندہ بچ جانے والے 86 سالہ سمیترو تانی گوچی نے وزیراعظم جاپان کی حکومت پر تنقید کی جو بحرالکاہل کے دستور کا احیاء کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور الزام عائد کیا کہ اس سے جاپان میں دوسرا عالمگیر جنگ جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ وہ ایسے قوانین برداشت نہیں کرسکتے۔

TOPPOPULARRECENT