Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ناگالینڈ علیحدگی پسند گروپ سے مودی حکومت کا امن معاہدہ

ناگالینڈ علیحدگی پسند گروپ سے مودی حکومت کا امن معاہدہ

معاہد ہ پر وزیر اعظم کی موجودگی میں دستخط ۔ معاہدہ کی شرائط و تفصیلات ہنوز مبہم

نئی دہلی 3 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے آج ناگالینڈ میں سرگرم قبائلی علیحدہ پسند تخریب کار گروپ این ایس سی این ( آئی ایم ) کے ساتھ امن معاہدہ کرلیا ۔ اس گروپ نے حکومت کے خلاف گذشتہ چھ دہوں سے گوریلا جنگ شروع کر رکھی تھی ۔ مرکزی حکومت کے نمائندوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ ( این ایس سی این ) آئی ایم گروپ کے ساتھ معاہدہ کرلیا ۔ یہ گروپ شمال مشرق کے ان کئی گروپس میں سے ایک ہے جس نے علیحدگی پسندانہ عزائم کے ساتھ خریب کاری کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ یہ گروپ نسلی ناگا ہوملینڈ کیلئے جدوجہد کر رہا تھا ۔ یہ علاقہ پڑوسی میانمار کے پہاڑی علاقوں سے بھی ملتا ہے ۔ این ایس سی این کی جانب سے یہاں جلا وطن حکومت بھی قائم کرلی گئی تھی ۔ اس معاہدہ کے باوجود ناگالینڈ میں کم از کم ایک اور باغی گروپ حکومت کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حکومت اور این ایس سی این ( آئی ایم ) کے مابین 1997 سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھی ۔ وزیر اعظم مودی نے معاہدہ کے بعد این ایس سی این آئی ایم کے سکریٹری جنرل تھیونگالینگ مویا کے ساتھ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ایک نئی شروعات کر رہے ہیں۔ لڑائی کیلئے 60 سال کا وقت بہت طویل ہوتا ہے۔ اس کے زخم بہت گہرے ہیں۔ ابھی اس تخریب کار گروپ اور حکومت کے مابین طئے پائے معاہدہ کی شرائط کا علم نہیں ہوسکا ہے ۔ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقہ کو ترقی دینا چاہتی ہے جسے ملک کے مابقی حصوں کے مقابلہ میں ترقی کے معاملہ میں نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ حکومت اس علاقہ میں انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کیلئے فنڈز فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔ نریندر مودی نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے شمال مشرقی علاقہ کی معاشی بہتری ‘ امن اور سلامتی ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھی ۔ یہ مسئلہ ان کی خارجہ پالیسی میں بھی شامل رہا تھا ۔ اس معاہدہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری 7 ریس کورس روڈ قیامگاہ پر دستخط کئے گئے ۔ اس موقع پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ‘ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور حکومت کے مصالحت کار آر این روی اور دوسرے بھی موجود تھے ۔ معاہدہ پر باغی گروپ کی جانب سے مویا نے دستخط کئے ۔ کہا گیا ہے کہ حکومت اور باغیوں کے مابین گذشتہ 16 برس میں جملہ 80 دور کی بات چیت ہوئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT