Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ناگر کرنول کے وقف کامپلکس پر سی ای او وقف بورڈ کا بیان حقائق سے بعید

ناگر کرنول کے وقف کامپلکس پر سی ای او وقف بورڈ کا بیان حقائق سے بعید

سیاسی پشت پناہی کے ذریعہ بورڈ کا جھوٹا بیان ، وقف منیجنگ کمیٹی ناگر کرنول کا بیان
حیدرآباد ۔ 14۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) وقف مینجنگ کمیٹی ناگر کرنول ضلع محبوب نگر نے ناگر کرنول کے وقف کامپلکس کے بارے میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیا۔ کمیٹی کے صدرنشین ناصر محی الدین نے کہاکہ بعض سیاسی افراد کی پشت پناہی کے سبب وقف بورڈ کے عہدیدار کمیٹی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ سیاسی دباؤ کے تحت کمیٹی پر الزامات عائد کرتے ہوئے اس قیمتی اوقافی جائیداد کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ کمیٹی کے صدرنشین کے مطابق 8 ڈسمبر کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے اپنے دورہ کے دوران دفتر وقف مینجنگ کمیٹی نے تمام حساب کتاب اور ریکارڈس کی جانچ کی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم بعد میں سیاسی دباؤ کے تحت کمیٹی کے خلاف بیان جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسمبر 2014 ء کو وقف بورڈ کی جانب سے وقف کامپلکس ناگرکرنول کی ملگیات ، رقبہ، کرایہ داروں کے نام ، لیز یا سب لیز اور دوسری تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ کمیٹی نے تمام تفصیلات وقف بورڈ کو روانہ کردی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سب لیز کی تمام ترتفصیلات بورڈ کو روانہ کردی گئیں لیکن کئی برسوں سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، دراصل یہ وقف بورڈ کی غلطی ہے جس کے لئے مینجنگ کمیٹی ذمہ دار نہیں ہے۔ ناصر محی الدین نے زائد کرایہ کی وصولی اور وقف بورڈ میں کم رقم جمع کرنے کی شکایت پر وضاحت کی کہ سابق کمیٹی کی جانب سے دو یا تین سال میں صرف 75 تا 100 روپئے اضافہ کیا گیا۔ سابق کمیٹی نے 17 جنوری 2013 ء کو وقف کامپلکس کی ملگیوں کے کرایوں میں اضافے کی درخواست کی لیکن بورڈ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی عدم کارکردگی کے سبب کرایہ کے معاملات عدالت میں زیر دوراں ہیں اور کئی برسوں سے کرایہ عدالت میں جمع کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مینجنگ کمیٹی کی جانب سے  مستقر کے تمام مساجد کے ائمہ و موذنین ، دینی مدارس کے مدرسین کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ بیوہ خواتین کے وظیفہ میں اضافہ کیا گیا ۔ خواتین کے ٹیلرنگ سنٹر کو امداد دی گئی اور غریب طلبہ میں تعلیمی وظائف و غریب و نادار لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ناصر محی الدین نے کہا کہ عید میلاد النبیؐ کے موقع پر  غریب لڑکیوں کی اجتماعی شادی کی تقریب میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے بعض مقامی سیاسی قائدین عہدیداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس میں برسر اقتدار جماعت کے بعض قائدین شامل ہیں۔ مقامی رکن اسمبلی کی سفارش کے ذریعہ نئی کمیٹی کی تشکیل کی کوشش کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT