Saturday , August 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / ’نا اہل‘ سلیکٹرز ، اسٹیٹ اسوسی ایشنس پر سہواگ برس پڑے

’نا اہل‘ سلیکٹرز ، اسٹیٹ اسوسی ایشنس پر سہواگ برس پڑے

ذی اقتدار لوگوں کے زیراثر کھلاڑیوں کا سلیکشن ، ڈومیسٹک لیول پر حد سے متجاوز عمر کے کھلاڑیوں کا انتخاب ، سابق اوپنر کا دعویٰ

’’ میں نے بیٹنگ میں تنڈولکر کی نقل کرنیکی کوشش کی تھی‘‘

نئی دہلی ، 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سابق جارحانہ اوپنر ویریندر سہواگ جو حال میں انٹرنیشنل کرکٹ سے سبکدوش ہوئے، وہ اُن سلیکٹرز پر برس پڑے جنھوں نے ’’ذی اقتدار لوگوں‘‘ کے زیراثر کھلاڑیوں کا سلیکشن کیا ، اور اسٹیٹ اسوسی ایشنس کی غیرمؤثر کارکردگی کو بھی انھوں نے ہدف تنقید بنایا ہے۔ اس استفسار پر کہ آیا یہ کوئی مسئلہ ہے کہ اسٹیٹ اسوسی ایشنس غیرمؤثر طور پر چلائے جارہے ہیں، سہواگ نے کہا، ’’ہاں! یہ محض دہلی کا معاملہ نہیں ہے۔‘‘ وہ حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ میں دہلی سے ہریانہ کو منتقل ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دیگر اسوسی ایشنس بھی مسائل میں مبتلا ہیں۔ سہواگ نے ’کرک اِنفو‘ کو بتایا کہ ’’آپ کو انڈر 19 اور انڈر 16 کے لیول پر حالات تبدیل کرنے ہوں گے کیونکہ مسائل وہیں درپیش ہیں۔ اگر آپ مقررہ حد سے تجاوز کرنے والے کھلاڑیوں کو منتخب کرلیتے ہیں تو پھر یہ ایک مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ایسے کھلاڑی کو منتخب کریں جس کا نام اور جس کی شخصیت بڑی ہو تو پھر آپ کو یہ مسئلہ درپیش نہیں رہے گا‘‘۔ سہواگ نے کہا کہ وہ سلیکٹر نہیں بن سکتے کیونکہ یہ ’تضادِ مفاد‘ ہوسکتا ہے، جیسا کہ وہ ہریانہ میں ایک اسکول ’’سہواگ انٹرنیشنل اسکول‘‘ کھولے ہیں جہاں اُبھرتے کرکٹرز کو بڑھاوا دیا جائے گا مگر وہ کسی اور حیثیت سے کسی اسٹیٹ اسوسی ایشن کا حصہ بننا چاہیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا: ’’ایسا کچھ ہورہا ہے کہ اقتدار والے اشخاص سلیکٹرز کو ناموں سے واقف کراتے ہیں اور پھر سلیکٹرز یہی لوگوں کی مرضی کے مطابق عمل کردیتے ہیں۔ سہواگ جو اَب 37 سال کے ہوچکے، ہندوستان کیلئے آخری مرتبہ 2013ء میں کھیلے۔ انھوں نے 104 ٹسٹ میں 8586 رنز اور 251 او ڈی آئیز میں 8273 رنز بنائے ہیں۔

سہواگ کو اُن کی اس خاصیت کیلئے یاد رکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے کھیل کے دنوں میں میچ کی صورتحال اور دباؤ سے قطع نظر ’گیند کو دیکھو اور ضرب لگاؤ‘ والے طرز کی بلے بازی پر مصمم طور پر ڈٹے رہے۔ ’’میں نے لڑکپن اور کم عمری کے دور میں 10 اور 12 اوور والے بے شمار میچز کھیلے؛ میں مڈل آرڈر میں بیٹنگ کیا کرتا تھا۔ مجھے بس کم و بیش 10 گیندیں کھیلنے کا موقع ملتا اور میں زیادہ سے زیادہ اسکور کرنے کی کوشش کرتا۔ میں نے یہی انداز ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں اختیار کئے رکھا اور لوگ تعریف کرتے رہے کہ میرا اسٹرائیک ریٹ ٹسٹ کرکٹ میں تک زائد از 80 یا 90 رہا،‘‘ سہواگ نے یہ باتیں تب کہیں جب پوچھا گیا کہ آیا اُن کے اندازِ بیٹنگ نے ایسی کچھ تبدیلی لائی کہ کس طرح بیٹسمنوں کو بنیادی طریقے کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنا چاہئے۔ سہواگ نے اعتراف کیا کہ اپنے کریئر کے ابتداء میں ہی انھوں نے مثالی کرکٹر سچن تنڈولکر کی تقلید کرتے ہوئے اپنی تکنیک میں تبدیلیاں لائے۔ انھوں نے کہا: ’’میں (ٹیم انڈیا کا حصہ بننے سے قبل) بس اپنے انداز میں کھیل رہا تھا اور ایسا کچھ نہیں سوچ رہا تھا کہ مجھے تیزی سے رنز بنانے ہیں یا کچھ مختلف کرنا ہوگا ، یہاں تک کہ میں (ہندوستانی) ٹیم میں شامل ہوگیا اور بس تنڈولکر کی طرح بیٹنگ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے جلد ہی سمجھ لیا کہ صرف ایک تنڈولکر ہی ہوسکتا ہے اور پھر میں نے بیٹنگ کیلئے کھڑے ہونے کا انداز اور اپنے بیاٹ کی ’بیک لِفٹ‘ میں تبدیلی لائی۔ میں نے جان لیا کہ مجھے اپنا کھیل بدلنا چاہئے اور میں نے ایسا کیا۔ اس کے بعد سے میں میری اپنی تکنیک کے ساتھ کھیلنے لگا۔ یہ پوچھنے پر کہ سہواگ بھی آیا ایک ہی ہوسکتا ہے، انھوں نے کہا، ’’ہاں، اس کا سبب میرے کھیل کا طرز اور وہ اثر ہے جو ٹیم پر پڑا، مگر (ٹیم میں) تنڈولکر تو بس ایک ہی تھے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT