Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / نبی خانہ مولوی اکبر پتھرگٹی کے کرایہ دار، بقایاجات ادا کرنے رضامند

نبی خانہ مولوی اکبر پتھرگٹی کے کرایہ دار، بقایاجات ادا کرنے رضامند

صدرنشین بورڈ سے ملاقات، وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے کرایہ داروں سے مصالحت کی مہم کامیاب

حیدرآباد۔/22جولائی، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے کرایہ داروں سے مصالحت کے ذریعہ تنازعہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی مساعی کامیاب ہوئی ہے۔ نبی خانہ مولوی اکبر پتھر گٹی کے کرایہ داروں نے جولائی کے کرایہ کے ساتھ بقایا جات کی ادائیگی سے بھی اتفاق کرلیا ہے۔ تقریباً 30 تا40 کرایہ داروں نے آج وقف بورڈ کے دفتر پہنچ کر صدرنشین محمد سلیم، چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے منان فاروقی سے بات چیت کی۔ انہوں نے اضافی کرایہ کی ادائیگی سے اتفاق کیا تاکہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ وقف بورڈ نے رینٹ ریویو کمیٹی کے ذریعہ کرایوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ مارکٹ ریٹ کے اعتبار سے کافی کم ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کرایہ داروں سے کہا کہ وہ خالصتاً خدمت کے جذبہ کے تحت کام کررہے ہیں اور کرایوں میں اضافہ سے انہیں کوئی ذاتی منفعت حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس رقم سے وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔ کرایہ داروں نے صدرنشین وقف بورڈ کے موقف کی تائید کی اور جنوری 2017 سے اضافی کرایہ کے بقایا جات ادا کرنے سے اتفاق کرلیا۔ کرایہ داروں نے نبی خانہ مولوی اکبر کی عمارت کی نگہداشت کی جانب توجہ مبذول کرائی اور عمارت کی تعمیر و مرمت کی ضرورت پر زور دیا۔ عمارت کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور مینٹننس نہ ہونے کے سبب نقصان کا اندیشہ ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے تیقن دیا کہ عمارت کی نگہداشت کا کام انجام دیا جائے گا اور مینٹننس کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو روزمرہ کے صفائی کے کاموں کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کرایہ دار اضافی کرایہ کے ساتھ بقایا جات یکم اگسٹ کو ادا کرتے ہیں تو بورڈ عمارت کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز جاری کرے گا۔ بیشتر کرایہ دار فی الوقت 300تا 500 روپئے ماہانہ ادا کررہے ہیں اور بورڈ کی رینٹ ریویو کمیٹی نے حالیہ عرصہ میں کرایوں پر نظرثانی کی ہے۔ بیشتر کرایہ دار اضافی کرایہ ادا کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ نبی خانہ مولوی اکبر میں تقریباً 300 ملگیات ہیں اور آج تقریباً 40 کرایہ دار ہی بورڈ سے رجوع ہوئے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے واضح کیا کہ اگر باقی کرایہ دار بقایا جات اور اضافی کرایہ ادا کرنے سے انکار کریں گے تو ان کے خلاف تخلیہ کی کارروائی کی جائے گی۔ فی الوقت وقف بورڈ نے کرایوں میں اضافہ کی نوٹس دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگی سے انکار کی صورت میں تخلیہ کی کارروائی کی جاسکتی ہے جس کے لئے وقف بورڈ کو مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اضافی کرایہ کی ادائیگی اور بقایا جات کی وصولی سے وقف بورڈ کو ماہانہ 20 تا25 لاکھ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔اگر تمام 300 کرایہ دار اتفاق کرلیں تو یہ رقم کئی کروڑ ہوجائیگی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ بقایا جات کی ادائیگی کے بعد تمام کرایہ داروں سے نیا معاہدہ کیا جائے گا۔ پتھر گٹی میں واقع ایک اور اہم اوقافی جائیداد مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے تحت 700 ملگیات ہیں اور یہاں بھی وقف بورڈ کو معمولی کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ بورڈ نے پیر کے دن کرایہ داروں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کی یکسوئی کی جاسکے۔

 

TOPPOPULARRECENT