Monday , August 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نبی رحمتؐ کا مکی دور کافی اہمیت کا حامل

نبی رحمتؐ کا مکی دور کافی اہمیت کا حامل

گلبرگہ /29 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نبی کریم ﷺ کا مکی دور انسانی تاریخ میں بہت ہی اہمیتکا حامل تھا جس نے پوری انسانیت میں ایک انقلاب برپا کیا۔ ان خیالات کو آج ہدایت سنٹر میں جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کی جانب سے منعقد کئے گئے اجتماع عام میں ’’ محسن انسانیت ﷺ کا مکی دور‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے سید تنویر ہاشمی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ دور تھا کا اظہار جس میں دین کا بنیادی کام ہوا جس میں اسلامی نظام زندگی کے لئے درکار افراد اور ان کے کردار کی تعمیر کی گئی۔ نبی کریمﷺ کی زندگی سے تعلق ہر پہلو ان لوگوں کے لئے ایک سبق و تربیت کا حامل ہے جو دین کی سربلندی میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی پیدائش یتیمی میں ہوئی اور بہت جلد آپ کی والدہ، دادا کا بھی انتقال ہوا۔ تو آپ کے چچا ابوطالب کی کفالت آپﷺ کو ایک لمبے عرصے تک میسرآئی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت کے ابتدائی سالوں میں خفیہ طور پر دعوتی کام کرتے رہے جہا ں پر اپنے عزیز و اقارب کو کو مخاطب کیا ۔جب علانیہ طور پرکام کرنے کا حکم ہوا تو کوح صفہ پر پہلا خطبہ تمام سردارن مکہ کو جمع کرکے کیا۔ اور یہیں سے لوگوں کی مخالفت کا سامنا بھی شروع ہوا۔اس کے بعد مختلف مراحل میں دعوتی کام انجام پاتا رہا جس میں سردارن قریش کو گھر پر دعوت دے کر پیغام کو پہنچانا شامل ہے۔ آپ نے کہا جیسے جیسے یہ دعوت اپنا اثر دکھاتی جارہی تھی مخالفت بڑھتے جارہی تھی۔ ابتدا میں الزام تراشیاں، مذاق، آپ ﷺ کی شخصیت کو نشانہ بنانا وغیرہ شامل تھا۔ جب آپ کے کاموں کی شکایت ابو طالب کے سامنے پیش کی گئی تو آپ ﷺ نے واضح کیا کہ یہ کام میں اللہ کے حکم پر کر رہا ہوں اور کسی بھی صورت میں نہیں روکا جاسکتا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے ساتھ مصالحت کا موقف اختیار کرنے کی کوشش کی گئی جو کام نہیں آئی۔ اس دوران اہل ایمان پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا تو پہلے حبشہ کی طرف اور پھر بعد میں یثرب جو آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کر رہا تھا کی طرف ہجرت کرنا پڑا۔ اجتماع کا آغاز ڈاکٹر محمد حبیب الرحمن کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ الدخان کی آیات 45-59 کی روشنی میں درس پیش کرت ے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان آیات میں آخرت میں ایمان لانے والوں اور انکار کرنے والوں کا جو انجام ہوگا اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور کہا کہ جو لوگ منکر ہوتے ہیں انہیں زقوم کا درخت کھانے کو دیا جائے اور اس کو جہنم کے بیچوں بیچ ڈھکیل کر گھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جو لوگ خدا ترس ہوتے ہیں ان کے لئے وہاں باغوں، چشموں میں حریر و دیبا کے لباس میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہونگے اور وہ وہاں اطمینان سے رہیںگے، جو لذیذچیز بھی طلب کرینگے فراہم کی جائے گی وہاں انہیں موت نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جہنم سے بچا دے گا۔ ’’سب سے افضل عمل‘‘ عنوان پر عبدالجلیل نے درس حدیث پیش کیا۔ سیکریٹری مقامی علائوالدین محمد کے اعلانات و دعا کے ساتھ ہی اجتمام اپنے اختتام کو پہنچا۔

TOPPOPULARRECENT