Wednesday , August 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت

یہ مبارک مہینہ نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت آمد کا ہے۔ جو دا نا ئے سبل ہیں نبی الانبیا ء ہیں ختم الرّسل ہیں مو لا ئے کل ہیں حسن صو رت و حسن سیرت میں یکتا ئے روزگا ر ہیں آ پ ﷺ کی ذا ت اقدس انسا نیت کیلئے عظیم تحفہ ہے اس خا ک دا ن گیتی پر آپ ﷺ کی رونق افرو زی اللہ سبحا نہ و تعا لیٰ کا اتنا بڑا انعا م ہے کہ دنیا جہا ں میں اس سے بڑ ا انعا م او ر کوئی نہیں ہو سکتا او ر انسا نیت پر ایک ایسا بڑ ا احسا ن ہے کہ اور کو ئی احسا ن اس کے برابر نہیں ہو سکتا یہ احسا ن ہی تو ہے حق سبحا نہ و تعا لی نے سا ری انسا نیت کی ہدا یت کیلئے انسا نو ں ہی میں سے ایک عظیم رسو ل کی بعثت فر ما ئی ( ال عمران/۱۶۴) تا کہ انسا نو ں کو ان سے انس ہو، ان کی با ت گو ش ہو ش سے سن سکیں او ر معرفت الہی کے نو ر سے اپنے قلو ب کو منو ر کر سکیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والی ساری انسانیت کی صلاح و فلاح، نجات و کامرانی کیلئے یہ عظیم الشان اعلان نشر فرمایا۔ محمد رّ سو ل اللہ  (محمدصلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں (الفتح /۲۹) آپ (صلی اللہ علیہ و سلم )سارے جہانوں کیلئے پیکر رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں۔ (الانبیاء/ ۱۰۷)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات کا جابجا قرآن پاک میں ذکر ہے جس سے آپ کی محبوبیت اور پیغمبرانہ عظمت و وجاہت نمایاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کسی ایک ملک ایک خطہ یا خاندان و قبیلہ کیلئے مخصوص نہیں بلکہ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی رحمت سے سارے جہاں سیراب ہیں۔ ایمان والوں کا نصیبہ تو قابل رشک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حق میںرؤف و رحیم ہیں۔ (التوبہ/۱۲۸) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی آپ کی رحمت سے محروم نہیں یہ آپ (ﷺ)کی شان کریمانہ ہے کہ دوست دوشمن کی تخصیص کے بغیر سب پر اپنی رحمتیں نچھاور فرماتے ہیں اور ایسے ابر رحمت بنکر تشریف لائے کہ سب یکساں اس سے فیضیاب رہے۔ الغرض ساری انسانیت ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کیلئے آپ ﷺ رحمت کا ایک عظیم سائبان ہیں ۔ شان ربوبیت یہ ہے کہ ساری کائنات کا خالق و مالک رب العالمین ہے تو اس کے محبوب اور چہیتے بندے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبو ت یہ ہے کہ وہ رحمۃ اللعالمین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے رحمتوں کے بند دروازے کھل گئے انسانیت کو اس کی کھوئی ہوئی عظمت پھر سے واپس مل گئی۔ مساوات کی تعلیم اور اس کے عملی مظاہروں سے گمراہ انسانیت کے دل کھلے، معاشرہ میںدبی کچلی انسانیت کا روحانی کرب دور ہوا اور انسانی دلوں میں آپ کی محبت و عظمت نقش ہوگئی۔حقیقی نظام جمہوریت سے دنیا پھر ایک مرتبہ آشنا ہوئی ،علم وعرفان کے خزانے عام ہوئے، تحقیق و جستجو کی راہیں کھلیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ہی تو ہے کہ یہ امت گمراہیوں اور بداعمالیوں کے ارتکاب کے باوجود عام عذاب سے مامون و محفوظ ہے۔    اللہ سبحا نہ و تعا لیٰ ایسا نہیں کریگا کہ ان میں آپ( ﷺ )کے ہو تے ہو ئے ان کو عذاب سے دو چا ر کرے۔ (الانفال/۳۳)

آپ ﷺکی ذات اقدس ہی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ساری انسانیت کیلئے باعث رحمت ہے اور جو کتاب ہدایت اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے وہ ایمان والوں کیلئے باعث شفاء و رحمت ہے۔ یہ وہ نسخہ شفاء ہے جس کو اختیار کرنے وا لے نفسانی و روحانی امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔ (بنی اسرائیل / ۸۲)
متقی و پر ہیز گا ر بندو ں کو کتا ب ہد ایت را ہ ہدا یت دکھا تی ہے۔( البقرہ/۲) یعنی اس چشمہ فیضا ن سے وہی فیضیا ب ہو سکتے ہیں جن کے قلو ب خو ف الہی و خو ف آ خرت سے لبریز ہو ںگے لیکن یہ کتا ب ہد ایت صرف ایما ن و ا لو ں ہی کیلئے مخصو ص نہیں بلکہ اس کا نزو ل تو سا ری انسا نیت کی ہدا یت و رہنما ئی کیلئے ہو ا ہے جس میں ہدا یت کی او ر حق و با طل میںفرق کی نشا نیاں مو جو د ہیں۔ ( البقرہ/۱۸۵)اللہ سبحانہ اپنی رضا کے متلاشی و طلبگار بندوں کو اس کتاب ہدایت سے سلامتی کی راہ دکھتا ہے اور ان کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لاتا ہے اور سیدھے راستے پر ان کو چلاتا ہے۔ (لمائدہ /۱۶)
یہ وہ رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو حضرت سید نا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہیں جس دعا میں حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام بھی شریک ہیں۔’’ ربنا وابعث فیھم رسولا‘‘ کے کلمات حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لب ہائے مبارک سے یوں نکلے کہ ان کی دلی تمنا لفظوں میں ڈھل کر مقبول بارگاہ حق ہوگئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی ماں آمنہ کے خواب کی تعبیر ہوں۔ چنانچہ اولاد اسماعیل علیہ السلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ وہ کعبہ جو مقدس تھا اور مرکز توحید تھا بتوں کی گندگی سے وہ بھی آلودہ ہوگیا تھا۔ مرکز توحید میں نور توحید کے بجائے کفر و شرک کی تاریکیوں نے ڈیرہ جمایا تھا۔ اس کی تطہیر کیلئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیت اللہ کی تطہیر کا عہد لیا تھا کہ اس کا طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کیلئے اس کو پاک و صاف رکھیں۔ (البقرہ ؍ ۱۲۵)اس دعا کی قبولیت ہی کا اثر ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں اس کام کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر قیامت تک کیلئے بیت اللہ کی ظاہری تطہیر یعنی نظافت وستھرا ئی او ر معنو ی تطہیر یعنی بتوں کی پلیدی و نجاست دور کرنے کا انتظام فرمایا۔ پھرسے وہ کعبہ مرکز تو حید میں تبدیل ہوگیا۔ بیت اللہ کو بتوں کی نجاست و آلودگی سے پاک کرنے کے ساتھ ان انسانوں سے بھی جن کے سینے کفر و شرک کی وجہ سے بت خانے بنے ہوئے تھے ان کو بھی مسجد حرام میں آنے سے منع فرما کر بیت اللہ کی تطہیر فرمائی گئی ۔ ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو: مشرک تو حقیقتاً ناپاک و نجس ہیں اس لئے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس پھٹکنے نہ پائیں۔ (التوبہ /۲۸) یہ شرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا فرمایا۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے منع فرمادیا۔ ظاہر ہے جو سرتاپا نجس ہیں وہ اس لائق کہاں کہ ان کو مرکز توحید میں قدم رکھنے دیا جائے۔
فا را ن کی چو ٹیو ں سے آپ ﷺ نے تو حید کا پیغا م نشر فر ما یا یہ وہی پیغام حق تو ہے جو اور انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیغام دعوت کی بنیاد ہے۔ اس توحید خالص کے اعلان سے دین ابراہیمی کے نام پر کفر و شرک کی گندگی میں مبتلاء افراد کے دل دہل گئے اور ان کے کفر و شرک کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی کے حوالے سے ساری انسانیت کو آگاہ کر دیا کہ سب کا معبود ایک ہی معبود ہے۔ بتائو پھر تم اس کو اب بھی مانو گے یانہیں۔ (الانفال/ ۳۴)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق سبحانہ و تعالیٰ نے النبی الامی کے خطاب سے ملقب فرمایا ۔اور انسانوں کا امی ہونا تو با عث نقص ہوسکتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا باعث فضل و کما ل ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معلم تو خود خالق کائنات ہے جو علوم و معارف کے خزانو ںکا مالک ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بیش بہا علوم و معارف کے چشمہ پھوٹے اور کائنات میں چھپے رازوں سے پردے ہٹے اور ان حقائق و دقائق سے دنیا آشنا ہوئی جو پردۂ غیب میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ  ﷺکا امی ہونا ایک کھلا معجزہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفیع کا مظہر ہے۔ اسی لئے اس عالم موجودات میں آپ  ﷺسے بڑھکر جاننے والا کوئی نہیں۔ کائنات کے خالق و مالک نے تو آ پ ﷺ پرکتاب و حکمت کانزول فرمایا اور اپنے   فضل عظیم سے آپ کے سینۂ صافی کو علم و معرفت سے معمور فرمایا (النساء/۱۱۳) اوروآ پ ﷺپر اپنے چشمۂ وحی کا فیضان جاری فرمایا(النسا ء/۱۶۳) اس طرح یہ النبی الامی ﷺ ساری انسانیت کے معلم بن گئے۔ حق سبحانہ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں، احکام الہی کی حکمتیں بیا ن فرماتے ہیں، اسرار و غوامض کو ان پر کھولتے ہیں ،ان آ یا ت کی حقیقتیں جب انسانی دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہیں او ران پر اثر انداز ہوتی ہیں تو دلوں کے اندھیارے دور ہوتے ہیں اور دلوں کی دنیا پاک و صاف ہو جاتی ہے۔ قلب و قالب کی تطھیر و تربیت ہوتی ہے اور تز کیہ و تصفیہ سے سنورتے ہیں۔ (مفہوم آیات بقرہ /۱۲۹) (ال عمران/ ۲۴) (الجمعہ /۲)

TOPPOPULARRECENT