Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / نجمہ ہبت اللہ اور سدیشورا کابینہ سے مستعفی

نجمہ ہبت اللہ اور سدیشورا کابینہ سے مستعفی

نئی دہلی ۔ /12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزراء نجمہ ہبت اللہ اور جی ایم سدیشورا نے آج استعفیٰ دیدیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ان دونوں نے استعفیٰ دیا ہے ۔ نجمہ ہبت اللہ کی عمر 75 سال سے زائد ہے اور پارٹی کے عمومی قاعدے کے مطابق وہ کابینی عہدہ پر برقرار نہیں رہ سکتی ۔ ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے نجمہ ہبت اللہ کے اخراج کی رضامندی دے دی تھی ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ وہ شخصی وجوہات کی بنا مستعفی ہورہی ہیں اور جب کبھی پارٹی انہیں کوئی ذمہ داری تفویض کرے تو وہ اسے ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ اسی طرح سدیشورا جو کرناٹک کے بی جے پی لیڈر ہیں کابینہ میں ان کی جگہ رمیش کنڈپا کو شامل کیا گیا ہے ۔ انہیں اس سے پہلے مستعفی ہونے کیلئے کہا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنی سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ سے مہلت دینے کی خواہش کی تھی ۔ ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ جو وزیر اقلیتی امور تھیں ، منسٹر آف اسٹیٹ مختار عباس نقوی کو یہ ذمہ داری دی گئی جن کے پاس آزادانہ قلمدان تھا ۔ اسی طرح سدیشورا کا قلمدان بابل سپریو کو دیا گیا ہے ۔ اب کابینہ میں 75 سال سے زائد عمر کے صرف ایک ہی وزیر کلراج مشرا ہیں ۔ وہ برہمن طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اترپردیش میں کافی اثر و رسوخ ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر انہیں برقرار رکھا گیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے /5 جولائی کو کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے 5 وزراء کو عہدہ سے ہٹادیا اور 19 نئے وزراء کو شامل کیا تھا ۔ سب سے اہم تبدیلی سمرتی ایرانی کی تھی جنہیں وزارت فروغ انسانی وسائل سے ہٹادیا گیا اور پرکاش جاؤدیکر کو یہ قلمدان حوالے کیا گیا ۔ آج کے استعفیٰ کے بعد مرکزی کابینہ میں وزراء کی تعداد 76 ہوگئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نجمہ ہبت اللہ کے استعفیٰ کی وجہ عمر کی حد نہیں بلکہ کچھ اور وجوہات ہوسکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT