Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / نجیب آخر کہاں لاپتہ ہوگیا: دہلی ہائیکورٹ

نجیب آخر کہاں لاپتہ ہوگیا: دہلی ہائیکورٹ

جے این یو کیمپس کی اسنیفر ڈاگس کی مدد سے جامع تلاشی کی ہدایت، دہلی میں احتجاجی مارچ

نئی دہلی ۔ 14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو کے طالب علم کو لاپتہ ہوئے تقریباً دو ماہ گذر چکے ہیں اور دہلی ہائیکورٹ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی ہیکہ سارے کیمپس بشمول ہاسٹلس، کلاس رومس اور چھتوں کی اسنیفرڈاگس کی مدد سے مکمل جانچ پڑتال کرے۔ جسٹس جی ایس سستانی اور جسٹس ونود گوئل پر مشتمل بنچ نے دہلی پولیس سے کہا ہیکہ لاپتہ طالب علم نجیب احمد کا پتہ چلانے کے معاملہ میں وقت ضائع کئے بغیر تمام تر ضروری اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ بعض طلبہ جن کے بارے میں شبہ ہیکہ نجیب احمد لاپتہ ہونے سے ایک دن قبل زدوکوب کی تھی، ان کا بیان قلمبند کرنے میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور اس کی طلبہ یونین کو بھی بنچ نے اندرون دو یوم حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی جس میں یہ طمانیت دی جائے کہ جامع تلاشی پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ پولیس کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس ضرورت پڑنے پر جامعہ ملیہ یونیورسٹی کی بھی تلاشی کیلئے آزاد ہے۔ اگر یونیورسٹی یا اس کے طلبہ کی  جانب سے کسی طرح کی مزاحمت یا رکاوٹ پیدا کی جائے تو ایجنسی اس معاملہ میں اجازت کیلئے عدالت سے رجوع ہوسکتی ہے۔

بنچ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر تشویش نہیں ہیکہ کس اسٹوڈنٹس یونین نے یہ کام کیا ہے اور جے این یو صحیح تھی یا غلط اس معاملہ میں بھی ہم حقائق معلوم نہیں کررہے ہیں بلکہ ہمیں تشویش اس بات پر ہے آخر یہ طالب علم کہاں غائب ہوگیا۔ عدالت نے نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس کی دائر کردہ درخواست پر یہ ہدایات جاری کی جس نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے بیٹے کا پتہ چلانے میں مدد کی خواہش کی ہے۔ نجیب احمد 14 اور 15 اکٹوبر کی رات لاپتہ ہوگیا تھا۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 22 ڈسمبر کو مقرر کی ہے۔ نجیب کی ماں کے وکیل نے کہا کہ پولیس اغواء کے پہلو کو نظرانداز کررہی ہے اور ایسا لگتا ہیکہ ایجنسی کا زیادہ زور اس بات پر ہیکہ کچھ نہ کچھ غلط ہوا ہے۔ وہ طالب علم ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھا اور وہ خود کیمپس سے چلا گیا۔ اس دوران فاطمہ نفیس نے اپنے بیٹے کا پتہ چلانے کیلئے عوام سے مدد کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کی قیادت کی جس میں سیاسی قائدین، سماجی کارکنوں اور آبائی ٹاؤن بدایوں سے عوام کی کثیر تعداد شریک تھی۔ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی جانب سے منظم کیا گیا یہ مارچ منڈی ہاؤس سے شروع ہوا جس میں سماج وادی پارٹی، ایم آئی ایم اور جنتادل (یو) کے ارکان پارلیمنٹ و کارکن شریک تھے۔

فاطمہ نفیس نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجیب کا پتہ چلانے کی اس جدوجہد میں ساتھ دینے والوں کا وہ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب تک میرے بیٹے کا پتہ نہ چلے، آپ کا یہ تعاون جاری رہے۔ احتجاج کے دوران وہ جذبات سے بے قابو ہوکر رو پڑیں اور کہا کہ اس ظلم کے خلاف لڑائی میں بلالحاظ مذہب ہر شخص ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ نجیب کی بہن صدف اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نجیب ایم ایس سی بائیو ٹیکنالوجی کا طالب علم تھا اور اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ لڑائی کے دوسرے دن وہ اچانک لاپتہ ہوگیا۔ پولیس نے نجیب کا پتہ بتانے میں مدد یا اطلاع دینے والوں کیلئے 10 لاکھ روپئے انعام کا بھی اعلان کیا ہے لیکن 60 دن گذرنے کے باوجود اب تک پولیس کو کامیابی نہ مل سکی۔

11 ٹیمیں 24 گھنٹے سرگرم
لیکن نجیب کا پتہ نہ چل سکا
نئی دہلی ۔ /14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو طالبعلم نجیب احمد کی پراسرار گمشدگی کا دو ماہ گزرجانے کے باوجود اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ۔ حالانکہ کئی ٹیمیں 24 گھنٹے سرگرم ہے ۔ دو ڈی سی پی کرائم برانچ کی زیرنگرانی 11 ٹیمیں مسلسل نجیب کا پتہ چلانے کی کوشش میں لگی ہوئی لیکن اب تک بھی دہلی پولیس کو کامیابی نہیں ملی ۔ پولیس نے نجیب کا پتہ بتانے یا اطلاع فراہم کرنے پر نقد رقم کو 5 لاکھ سے بڑھاکر 10 لاکھ روپئے کردیا ہے ۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران دہلی ، علیگڑھ ، بریلی اور بدایوں کی مختلف درگاہوں ، مساجد اور مدارس میں تلاشی کی گئی ۔ سینئر پولیس عہدیدار نے یہ بات بتائی اور کہا کہ دہلی ہائیکورٹ کی ہدایت کے بعد اسنیفر ڈاگس کی مدد سے جے این یو کیمپس کی مکمل تلاشی لی جائے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT