Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / نجیب احمد کا پتہ چلانے راج ناتھ سنگھ کا تیقن

نجیب احمد کا پتہ چلانے راج ناتھ سنگھ کا تیقن

لاپتہ طالب علم کی والدہ کی مرکزی وزیرداخلہ سے ملاقات، ممکنہ تعاون کیلئے مرکز کی پیشکش
نئی دہلی 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ نے آج یہاں مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی جنھوں نے 15 اکٹوبر سے لاپتہ اس نوجوان کا پتہ چلانے کے لئے اپنی مداخلت کا تیقن دیا۔ فاطمہ نفیس اور ان کے خاندان کے دیگر ارکان نے وزیرداخلہ سے درخواست کی کہ نجیب کا پتہ چلایا جائے جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اسکول آف بائیو ٹیکنالوجی کا طالب علم ہے اور اترپردیش کے ضلع بدایوں کا ساکن ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہاکہ وزیرداخلہ نے نجیب کی والدہ اور دیگر ارکان خاندان کی نمائندگی کی ہمدردانہ سماعت کی اور تمام شکایت کی دلچسپی کے ساتھ سنوائی کی۔ راج ناتھ سنگھ نے اُن سے کہاکہ دہلی پولیس نے اس کیس پر پیشرفت کے لئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے اور تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت کا بذات خود جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع نے کہاکہ وزیرداخلہ اس خاندان کو ممکنہ مدد کا تیقن دیا۔ بدایوں کی نمائندگی کرنے والے سماج وادی پارٹی کے رکن لوک سبھا دھرمیندر یادو جو نجیب کے خاندان کے ساتھ تھے کہاکہ وزیرداخلہ نے اُنھیں یقین دلایا ہے کہ اس طالب علم کا بعجلت ممکنہ پتہ چلانے کے لئے ممکنہ مساعی کی جائے گی۔ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد دھرمیندر یادو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر پولیس اس نوجوان کا پتہ چلانے میں ناکام رہی تو ہم عدالت سے رجوع ہوں گے اور پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا‘‘۔ نجیب کی بہن صدف نے ان الزامات کو بکواس قرار دیا کہ ان کا بھائی ذہنی طور پر مستحکم نہیں تھا اور کہاکہ اس (نجیب) کو تلاش کرنے کے بجائے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صدف نے مزید کہاکہ ’’اُس نے یونیورسٹی امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔ وہ پڑھنے لکھنے کا شوق رکھنے والا لڑکا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک باوقار ادارہ میں پڑھنے والا کوئی طالب علم ذہنی طور پر غیر مستحکم ہوسکتا ہے؟ میں (آپ سب سے) درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ برائے مہربانی اُنھیں (نجیب کو) بدنام نہ کیجئے۔ اُس کو نیند کے مسائل ہیں اور بالعموم پڑھنے لکھنے والے بچوں کو تعلیمی دباؤ کے تحت ایسے مسائل رہتے ہیں۔ اس کے سواء نجیب کو دوسرا کوئی اور مسئلہ نہیں تھا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT