Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ نے اچانک استعفیٰ دیدیا

لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ نے اچانک استعفیٰ دیدیا

کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ۔ استعفی کا فیصلہ حیرت انگیز ۔ چیف منسٹر اروند کجریوال

نئی دہلی 22 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک اچانک فیصلے میں دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ پیش کردیا ہے ۔ نجیب جنگ نے عام آدمی پارٹی کے ساتھ طویل ٹکراو کے بعد اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا ہے ۔ نجیب جنگ کے دفتر نے استعفیٰ کی وجوہات بتائے بغیر کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ مرکزی حکومت کے سپرد کردیا ہے ۔ 65 سالہ نجیب جنگ سابقہ آئی اے ایس عہدیدار ہیں اور انہوں نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے 9 جولائی 2013 کو اپنا عہدہ سنبھالا تھا ۔ ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے اپنا استعفیٰ حکومت ہند کو پیش کردیا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اظہار تشکر کیا ہے جنہوں نے ان کی معیاد کے دوران ان سے مکمل تعاون کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی ۔ نجیب جنگ کے حیرت انگیز فیصلے کے پس پردہ وجوہات کا فوری طور پر علم نہیں ہوسکا ہے ۔ نجیب جنگ نے دہلی کے عوام سے بھی ان کی تائید و محبت پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ خاص طور پر ایک سال کے صدر راج کی مہلت کے دوران عوام کی مدد کی وجہ سے ہی وہ دہلی کا انتظامیہ چلا نے میں کامیاب رہے تھے ۔ نجیب جنگ نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال سے بھی اظہار تشکر کیا ۔ ان کے دفتر سے کہا گیا ہے کہ نجیب جنگ اب دوبارہ پیشہ تدریس سے وابستہ ہوجائیں گے ۔ اس دوران چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج کہا کہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کے استعفیٰ کا فیصلہ حیرت انگیز ہے اور پارٹی نے لیفٹننٹ گورنر پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی انتظامیہ کے اثر میں کام کیا ہے ۔ کجیروال نے کہا کہ جنگ کا استعفیٰ ان کیلئے حیرت کا باعث ہے اور انہوں نے ان کے مستقبل کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے کہا کہ تلخ اور اچھے تجربہ کے باوجود عام آدمی پارٹی کی حکومت اور نجیب جنگ نے دہلی میں اچھا کام کیا ہے ۔ دہلی کے وزیر کپل مشرا نے بھی نجیب جنگ کے مستقبل کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا ہے ۔ سینئر عام آدمی پارٹی لیڈر کمار وشواس نے نجیب جنگ کے دور کو شرمناک قررا دیا ہے ۔ وشواس نے الزام عائد کیا کہ لیفٹننٹ گورنر نے مودی انتظامیہ کی ایما پر دہلی حکومت کو پریشان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ نجیب جنگ کو اب کوئی اور اچھا عہدہ مل جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپنے افراد کو آگے بڑھاتی ہے اور انہیں امید ہے کہ نجیب جنگ کو بھی اچھا عہدہ ملے گا ۔

 

نجیب جنگ پر مستعفی ہونے کیلئے دباو تو نہیں ڈالا گیا ‘ کانگریس

لیفٹننٹ گورنر دہلی ‘ کجریوال حکومت سے ناراض تھے ۔ بی جے پی کا رد عمل ‘ اچانک فیصلے پر حیرت
نئی دہلی 22 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے نجیب جنگ کے استعفی سے دہلی کے سیاسی حلقوں میں حیرت کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ان کے استعفے کو نامناسب انداز میں علیحدگی قرار دیا ہے جبکہ بی جے پی نے ادعا کیا ہے کہ نجیب جنگ عام آدمی پارٹی کی حکومت کی وجہ سے مایوس تھے ۔ دہلی اسمبلی میں قائد اپوزیشن وجیندر گپتا نے کہا کہ ایک بی جے پی وفد نے کل لیفٹننٹ گورنر سے ملاقات کی تھی اور بلدی وارڈز کی از سر نو حد بندی کے تعلق سے نمائندگی کی تھی ۔ اس موقع پر نجیب جنگ نے اروند کجریوال حکومت کے تعلق سے ناراضگی ظاہر کی تھی ۔ گپتا نے اپنے رد عمل میں کہا کہ کل بھی وہ عام آدمی پارٹی حکومت کی جانب سے کام روکے جانے پر مایوس تھے ۔ تاہم ہم نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ مستعفی ہوجائیں گے ۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے کی رخصت پر جا نے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دہلی کو ان کی ضرورت ہے ۔ مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہرشی نے کہا کہ نجیب جنگ کی کل ان سے ملاقات ہونے والی ہے ۔ لیفٹننٹ گورنر نے دو دن قبل ان سے ملاقات کی تھی لیکن انہوں نے اپنے استعفے کے تعلق سے کوئی اشارہ نہیں دیا تھا ۔ لیفٹننٹ گورنر کے ساتھ ان کی کل ایک اور ملاقات ہونے والی ہے ۔ مجھے ان کے استعفے کے تعلق سے میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا ہے ۔ دہلی کانگریس کے سربراہ اجئے ماکین نے بھی نجیب جنگ کی نامناسب انداز میں ہوئی علیحدگی کے تعلق سے مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر پی سی چکو نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ استعفی بی جے پی کے دباو کا نتیجہ ہو ۔ ماکین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سوال کیا کہ آیا نجیب جنگ کو ہٹادیا گیا ہے تاکہ کسی آر ایس ایس سے قربت رکھنے والے کو یہاں لایا جائے ؟ ۔ کیا یہ فیصلہ مجوزہ بلدی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ نجیب جنگ ایک ماہر منتظم تھے ۔ پی سی چکو نے کہا کہ بی جے پی جہاں تک لیفٹننٹ گورنر کے عہدہ کا سوال ہے کوئی آزادانہ موقف اختیار نہیں کیا تھا ۔ اس نے کئی گورنرس کو مشکل میں ڈالا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہی دباو نجیب جنگ کے استعفی کی بھی وجہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT