Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نریندر مودی ترقی کے نام پر خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا

نریندر مودی ترقی کے نام پر خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا

فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیا جارہا ہے ، محمد فاروق حسین ایم ایل سی کانگریس کا بیان
حیدرآباد۔25 اکتوبر (سیاست نیوز) ملک میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلاتے ہوئے نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل کانگریس نے آج ایک صحافتی بیان میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس کے ترجمان ’’پنچ جنیہ ‘‘ میں یہ کہا جانا کہ گاؤکشی کے مرتکب کی موت ویدی قوانین کے مطابق ہے، سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بالواسطہ طور پر ویدی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کو ملک دشمن عناصر سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خمیر میں اب بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار ہے جس کا ثبوت دادری میں محمد اخلاق کی موت کے علاوہ دیگر دو نوجوانوں کی اموات پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے مذمت کی جانا ہے لیکن ان واقعات کے بعد بھی ملک کے ماحول کو بگاڑنے میں ناکام طاقتیں ذات پات کی بنیاد پر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش پر اُتر آئی ہیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے بتایا کہ ہریانہ میں معصوم دلت بچوں کو زندہ نذرآتش کیا جانا بھی اتنی ہی خطرناک دہشت گردی ہے جتنی خطرناک دہشت گردی کا واقعہ دادری میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو ناکام وزیراعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کے نام پر اقتدار کے دعویدار نریندر مودی اپنے خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہیں۔ فاروق حسین نے آر ایس ایس ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشوا ہندو پریشد قائدین کے بیانات کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کی کارروائیاں و بیانات منظر عام پر آرہے ہیں اس سے عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہورہے اضافہ کے سبب سرمایہ کاروں کی دلچسپی ہندوستان میں سرمایہ کاری سے ختم ہوجانے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے غریب عوام کو ہونے والی مہنگائی کے سبب دشواریوں کا احساس نہیں ہے اگر حکومت اسی طرح سے خاموشی اختیار کئے تو ہندوستانی عوام پر مہنگائی کا بوجھ عائد کرتی ہے تو  ایسی صورت میں قومی سطح پر حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہونے کا خدشہ ہے چونکہ حکومت کی جانب سے نہ ہی فرقہ پرستوں پر روک لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور نہ ہی مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اسی لئے عوام میں حکومت کے متعلق بدظنی  پیدا ہوتی جارہی ہے۔ جناب محمد فاروق حسین نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کوچاہئے کہ فرقہ وارانہ تشدد پر اُکسانے والے افراد پر فوری کنٹرول کرتے ہوئے عوام میں اعتماد پیدا کرے۔

TOPPOPULARRECENT