Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / نریندر مودی کی اندھی مخالفت میں قوم دشمن عناصر کے ساتھ ہمدردی

نریندر مودی کی اندھی مخالفت میں قوم دشمن عناصر کے ساتھ ہمدردی

کانگریس کے خلاف بی جے پی کا الزام۔ قوم سے معذرت خواہی کا مطالبہ

نئی دہلی۔/11فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میں تربیت یافتہ امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گجرات میں سال 2014کے دوران انکاؤنٹر میں ہلاک عشرت جہاں دراصل عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی کارندہ تھی، جس کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہوگیا اور بی جے پی نے کانگریس قیادت سے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی کی قیمت پر عشرت جہاں کی ہلاکت کے سلسلہ میں نریندر مودی کو نشانہ بنانے پر معذرت خواہی کرے۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے نریندر مودی کے خلاف نفرت کی سیاست کرتے ہوئے انکاؤنٹر کو سیاسی رنگ دیا تھا جو کہ اسوقت گجرات کے چیف منسٹر تھے اور کہا کہ پارٹی سربراہ سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی میں تھوڑی بھی شرم ہے تو فی الفور قوم سے معافی مانگیں۔ بی جے پی کے سکریٹری سریکانت شرما نے یہ الزام عائد کیا کہ پولیس کا عملہ جو کہ دہشت گردوں سے مقابلہ کیلئے اپنی زندگی داؤ پر لگادیتا ہے پیشرو یو پی اے حکومت نے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور سی بی آئی او رانٹلی جنس بیورو جیسے سیکورٹی اداروں کو سیاست زدہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ سیاسی سازش کے تحت نریندر مودی کو سوا کرنے کیلئے کیا گیا۔ امریکہ میں محروس ہیڈلی نے یہ اقبالیہ بیان دیا ہے کہ عشرت جہاں دراصل لشکر طیبہ کی خودکش بمبار تھی اور جو لوگ دہشت گردی پر سیاست کررہے ہیں انہیں اب آنکھیں کھول دینا چاہیئے۔ گوکہ ہم کانگریس سے کوئی اخلاقیات کی توقع نہیں رکھتے لیکن سونیا گاندھی اور راہول گاندھی جو کہ سازشی سیاست کرنے کے ماہر ہیں تھوڑی بہت شرم رکھتے ہیں تو قوم سے معذرت خواہی کریں۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ کانگریس قیادت کو جانباز پولیس عملے کے خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیئے جنہیں انکاؤنٹر میں دہشت گردوں کو ہلاک کردینے پر جیل بھیج دینے پر مشکلات اور مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔

کانگریس اور کی حلیف جماعتیں اپنی بدعنوان حکومتوں کی پردہ پوشی کیلئے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دریں اثناء کانگریس نے ڈیوڈ ہیڈلی کے اس دعویٰ پر کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی آپریٹیو ( کارندہ) تھی معذرت خواہی سے انکارکردیا اور کہا کہ بنیادی سوال برقرار ہے کہ عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا تھا یا نہیں ؟ مسٹر سریکانت شرما نے بٹلہ ہاوز ( دہلی ) بیکانیر پر کانگریس لیڈروں کے تبصرہ کا حوالہ دیا اوربتایا کہ 26/11 ممبئی کے حملوں میں آر ایس ایس کا ہاتھ نظر آرہا تھا جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کانگریس قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے جو کہ نفرت نگیز سیاست کی انتہا ہے۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے اقبالیہ بیان کے فوری بعد کانگریس کو نشانہ بنانے کیلئے بی جے پی قائدین کمربستہ ہیں یہ ادعا کیا کہ اس پارٹی نے نریندر مودی کی اندھی مخالفت میں عشرت جہاں کو شہید قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے عشرت جہاں کو کالج کی معصوم طالبہ اور شہید قرار دیا تھا اب وہ  بے نقاب ہوگئے ہیں جبکہ عشرت اور اس کے ساتھی نریندر مودی اور امیت شاہ کو ہلاک اور مذہبی مقامات پر حملہ کا منصوبہ رکھتے  تھے جبکہ بی جے پی ترجمان شاہنواز حسین نے سیکولر لیڈروں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نتیش کمار نے بہار کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر عشرت جہاں کی ہلاکت کو موضوع بحث بنایا تھا اور انہیں بہار کی بیٹی قرار دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT