Monday , October 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / نزول عذابِ الٰہی کی وجہ

نزول عذابِ الٰہی کی وجہ

مولوی صفوۃ الرحمن
رب کا اٹل قانون یہ ہے کہ وہ نزولِ کتاب اور رسول کو مبعوث کر کے انسانوں کو ان کے ابدی انجام سے باخبر کردیتا ہے۔ علم و خبر کا یہ سامانِ ہدایت فراہم کردینے کے بعد بھی اگر وہ اپنی بے خبری کی روش پر جمے رہیں تو بھی عذاب نازل نہیں فرماتا بلکہ مختلف طریقوں سے خبردار ہونے کے اسباب پیدا کرتا ہے، جب بھی یہ خبردار ہونے کی بجائے خبردار کرنے والوں کو نقصان یا تکلیف پہنچانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے، بالآخر ان کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔
۱)  ’’ائے نبیؐ آپ سنادیجئے کہ اگر تم اپنی مخالفت سے باز نہ آؤگے تو تمہارا رب اس بات کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر سے یا تمہارے نیچے سے تم پر عذاب بھیج دے اور حق کی مخالفت کرنے کے لئے تم نے جو گروہ بندی کرلی ہے اس کو توڑ کر علیحدہ علیحدہ گروہ میں تقسیم کردے اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے طاقت کا مزہ چکھادے۔‘‘
(انعام)
۲) ’’بستی والوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ ہم اسی وقت کرتے ہیں جبکہ ان کے رہنما و خوشحال لوگ خبردار کرنے کے باوجود نہ صرف نافرمانی کرتے ہیں بلکہ حق سے خبردار کرنے والوں کے درپے آزار ہوجانے سے وہ مستحق عذاب قرار پاجاتے ہیں تب ہم اس بستی کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔‘‘
(اسریٰ)
۳) ’’اور تیرے رب کا یہ قانون نہیں کہ لاعلم و بیخبر بستیوں کو ہلاک کردے جب تک کہ ان کے علاقہ میں پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور صرف اسی بستی کو ہم ہلاک کرتے ہیں جو خبردار کرنے کے باوجود اپنے ظلم سے باز نہیں آتے اور خبردار کرنے والوں کے درپے آزار ہوجاتے ہیں‘‘ (القصص )اس معاملہ کا الٰہی قانون یہ ہے کہ اہلِ باطل‘ پیغمبر اور ایمان والوں کو جب تبلیغ و دعوت پیش کرنے سے روکنے کے لئے جان و مال کو تباہ کردینے کی دھمکی دیتے ہیں تب بھی انبیاء علیہم السلام اور اہلِ ایمان اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کرنے سے باز نہیں آتے (اللہ پر بھروسہ کرنے میں اللہ سے دعا اور حفاظت و دفاع کا جو سامان بھی میسر ہے چاہے وہ کتنا ہی حقیر تر کیوں نہ ہو تیار کرنا اور تیار رکھنا شامل ہے) تو اہلِ باطل اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں تو تب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اور اہلِ ایمان کو یہ خوشخبری دی ہے کہ ڈرو مت! ان ظالموں کو نہ صرف ہلاک کردوں گا بلکہ تم کو زمین پر آباد کردوں گا، اللہ کے یہ وعدے صرف پیغمبروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر اس ایمان والے کے لئے بھی ہے جو اللہ کی بات پہنچانے میں خوف نہیں کرتا بلکہ اس کو یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ میں اپنے رب کے سامنے اپنے فرض کو پورا کرنے والوں میں شمار ہونے سے نہ رہ جاؤں، اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ بھی ہے، وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا (ابراہیم ۱۲) ’’البتہ ہمارے اس کام کی وجہ سے جو بھی تکلیف و نقصان تم ہم کو پہنچاؤگے، بتوفیقِ الٰہی ہم اس پر صبر کریں گے‘‘ بے قصور افراد کو قتل کرنا یا نقصان پہنچانا پیغمبروں کے اسوہ کے موافق ہے یا خلاف غور کرلیا جائے۔
دوسرے رجم کرنے کی دھمکی پر نوحؑ نے دعا کی فَدَعَا رَبَّہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ (القمر) ’’پس (نوحؑ) نے دعا کی ائے میرے رب قوم سے مقابلہ کرنے کا میرے پاس کوئی سامان نہیں، اس لئے تو ہی میری مدد فرما‘‘ پھر اپنی قوم کو یوں جواب دیا ’’ائے میری قوم! میرا تمہارے ساتھ رہنا اور اللہ کی باتوں کے ذریعہ نصیحت کرنا اگر تمہارے لئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے تو میں اللہ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں، پس تم سب اچھی طرح سوچ سمجھ کر میرے خلاف ایسی تدبیر کرنا طے کرلو جس کے ناکام ہونے کا تم کو بعد میں افسوس نہ کرنا پڑے پھر اس کو کر ڈالو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔‘‘ (یونس )

قوم (اہلِ قریش) کی سازش پر اسی قسم کا جواب نبی کریمﷺ نے بھی دیا ہے  ’’کیا یہ پائوں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھ رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ ائے نبیؐ ان سے کہہ دو کہ تم اپنے شریکوں کو بلالو پھر سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو‘‘  (اعراف )جب قوم نے آپؐ کو قتل کرنے کی سازش کرلی تو اللہ نے آپؐکو ہجرت کا حکم دیا اور آپؐ مدینہ جانے کیلئے مکہ مکرّمہ سے نکل گئے۔ اس آیت کے آخری حصّہ میں نبی کریمﷺ نے اپنی ذات کو نقصان پہنچانے کا قوم کو جو چیلنج کیا ہے وہ ان لوگوں کے لئے لمحۂ فکر ہے جو محض روایت کی بناء پر نبیؐ پر جادو ہونے کو مانتے ہیں۔ دنیا دارالاسباب میں مادّی وٹھوس اسباب وذرائع کو استعمال واختیار کئے بغیر نفع ونقصان ہونے یا پہنچانے کا وہم شیطان کاپیدا کردہ ہے۔
ایک دیہاتی شخص شہر میں آکر قومی بزرگانِ دین کی کارسازی کی دلائل سے نفی کرتے ہوئے دوزخ سے بچنے کا واحد طریقہ اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ (یٰسین ) ’’(ائے لوگو!) پس تم گواہ رہو، میں تمہارے پروردگار ہی پر ایمان لاتا ہوں‘‘ کا اعلان کرتا ہے تو قوم اسے شہید کر ڈالتی ہے تو فیصلہِ الٰہی قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ (یٰسین ) ’’کہا گیا جنت میں داخل ہوجا‘‘ کی بشارت دے دی جاتی ہے، ہم دعویدارانِ ایمان کو دوزخ سے بچنے کے لئے یہی طریقہ اختیار کرنا لازمی و ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT