Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / نسبِ رسول ﷺ کی پاکیزگی و طہارت

نسبِ رسول ﷺ کی پاکیزگی و طہارت

حضور ﷺ کی طہارت ِ نسبی پر ہم نے قرآن کے حوالے آپ کے سامنے رکھے اب احادیث کریمہ پیش ہے جس میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کس طرح اپنی طہارت و پاکیزگی نسب کا بیان بزبانِ خود ارشاد فرمایا ، چنانچہ حضرت مطلب بن ابی وداعہ سے روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ ایک مرتبہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں تشریف لائے اور اغیار سے کچھ غلط باتیں سنی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے رنجیدہ تھے اور آپؓ نے حضور ﷺ سے تمام واقعہ ذکر فرمایا ۔ حضور اکرم ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : ’’میں کون ہوں ؟ ‘‘
صحابہ رضی اﷲ عنہم نے جواب دیا : ’’آپؐ اﷲ کے رسول ہیں ‘‘
لیکن حضور اکرم ﷺ یہ بات نہیں سننا چاہتے تھے کیونکہ یہ عام طورپر ہر کوئی جانتا تھا ۔ اور حضور ﷺ جن سے پوچھ رہے تھے وہ تمام مؤمنین تھے ، اس لئے طبیعتِ اقدس کچھ اور بات سننا چاہتی تھی اور اپنے میلاد کا ذکر کرنا چاہتے تھے لہذا فرمایا : ’’میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب ہوں۔ یقینااﷲ تعالیٰ نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا اور مجھے ان میں سب سے بہترین طبقے (طبقۂ انسانی ) میں رکھا ۔ پھر اس بہترین طبقہ (طبقۂ انسانی ) کے دو طبقے کئے اور ان میں سے جو سب سے اعلیٰ طبقہ ( طبقۂ عرب) تھا ، مجھے اس بہترین طبقے میں رکھا ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے اس طبقے کے مختلف قبائل بنائے اور مجھے سب سے بہترین قبیلے ( قبیلۂ بنوہاشم) میں رکھا اور پھر اس اعلیٰ قبیلہ کے مختلف گھرانے بنائے اور مجھے سب سے اعلیٰ گھرانے میں رکھا اور اے نسلِ بنی آدم! میں اپنے گھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے اعلیٰ و ارفاع ہوں اور اپنی ذات و اوصاف کے اعتبار سے بھی ‘‘ ۔ (مسند احمد و ترمذی)
مذکورہ حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے احکام ذکر نہیں فرمائے بلکہ صرف اور صرف اپنی ذات ، ولادت ، نسب و گھرانے کا ذکر فرمایا ہے ۔ یہ تمام حضور ﷺ کی نسبی طہارت اور بیان میلاد۔ ایک اور روایت اسی ضمن میں آتی ہے کہ حضرت واثلہ بن اسقعؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے بنی اسمعیلؑ میں سے سب سے اعلیٰ درجہ بنوکنانہ کو عطا کیا اور شرفِ انتخاب بخشا ، اور بنوکنانہ میں سے سب اونچا درجہ قریش کو دیا اور قریش میں سے سب سے اونچا رتبہ بنوہاشم کو دیااور بنی ہاشم میں اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو چنا اور سب سے اعلیٰ مرتبہ پر فائز فرمایا ‘‘۔ (ترمذی)
اپنی ذات کا ذکر کرنے کے بعد حضور ﷺ اپنے سارے نسب کا ذکر فرماتے ہیں چنانچہ حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’میں آدمؑ سے لیکر اپنے والدین تک جتنی نسلیں اور پشتیں گزری ہیں اور ہر سلسلۂ نسل و پشت میں میرے جو آباء و اُمّہات ہیں ان کا سلسلۂ تولد نکاح سے رہا اور سفاح و بدکاری سے نہیں تھا ۔ اور یہ رشتۂ نکاح کی طہارت کا تسلسل حضرت آدمؑ سے لیکر میرے والد حضرت عبداﷲ اور والدہ حضرت آمنہؓ کے رشتۂ ازدواج تک قائم رہا ‘‘۔ (المعجم الاوسط)
اﷲ تعالیٰ نے پورے نسب کو رشتۂ ازدواج کے مقدس تعلق پرویا ہے اور سفاحت اور دورِ جاہلیت کی خرابی سے پاک رکھا ہے اور اسی پاکیٔ نسب کا ذکر قرآن میں بھی یوں آیا کہ : ’’اور ہم آپ کو سجدہ گزاروں میں منتقل کرتے ہوئے لائے ہیں ‘‘ (سورۃ الشعراء آآیت :۲۱۹)
اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں : حضور اکرم ﷺ کو سجدہ گزاروں میں منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کو ایک نبی سے دوسرے نبی کی صلب تک اور پاک سے پاک پشت تک آپ کا سفر کروایا کہ آپؐ شانِ نبوت کے ساتھ ولادت پذیر ہوئے۔ ( کشف الأستار)
پھر حضرت عبداﷲ بن عباس ؒ نے مزید روایت فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’میرے والدین سے لے کر حضرت آدمؑ تک ، میرے پورے نسب میں کسی ایک جگہ بھی دورِ جاہلت کی آلودگی نے ذرہ برابر بھی مس نہیں کیا ۔ اور میرے والدین سے حضرت آدم علیہ السلام تک سارے نسب میں جتنے میرے والدین آتے ہیں وہ اسلام کے رشتۂ نکاح کے ذریعہ جڑتے رہے اور اس میں کوئی بھی ناجائز رشتہ نہیں پایا گیا ‘‘ ۔ (المعجم الکبیر)
یہ تو طہارتِ نسبِ مصطفی ﷺ کی بات ہوگئی لیکن اس طہارت کا اہتمام کیسے کیا گیا ذرا اس پر بھی متوجہ ہوتے ہیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدمؑ کو اﷲ تعالیٰ نے چالیس بیٹے عطا کئے اور ایک مرتبہ دو بیٹے تولد ہوتے تھے اس طرح بیس مرتبہ میں چالیس کا عدد مکمل ہوتا لیکن چالیس میں سے ایک فرزند جن کا نام حضرت شیث علیہ السلام ہے ، ان کی ولادت تنہا ہوئی اور کوئی دوسرا بھائی آپؑ کے ساتھ پیدا نہیں ہوا ۔ اور حضرت شیثؑ کی ولادت تنہا اس لئے ہوئی کیونکہ حضور ﷺ کو ان کی نسل سے پیدا ہونا تھا اور حضور ﷺ کے میلاد کی انفرادیت و تکریم کی خاطر حضرت شیثؑ کو بھی انفرادیت عطا کی گئی ۔ ( مطالع النور)
اور حضرت آدمؑ کے چالیس بیٹوں میں اپنا وصی ، نائب و خلیفہ حضرت شیثؑ ہی کو بنایا اور اپنا نائب بناتے وقت حضرت آدمؑ نے یہ وصیت کی کہ : ’’اے میرے بیٹے شیثؑ تم دیکھتے ہو میری پیشان میں ایک نور چمکتا ہے ، اس نور نے تیری پشت کے ذریعے آگے منتقل ہوتے ہوئے اپنی ولادت تک کا سفر طئے کرنا ہے لہذا یاد رکھنا کہ تم جب شادی کرنا تو پاکیزہ و طاہرہ عورت سے شادی کرنا کیونکہ ان کے بطن سے نورِ مصطفی ﷺ نے آگے گزرنا ہے اور اس وصیت کو اپنی نسل میں آگے کرتے رہنا کہ میری نسل میں سے کوئی بیٹا کسی ایسی بیٹی یا خاتون سے شادی نہ کرے جن کو دورِ جاہلیت کی رذالت یا آلودگی نے چھوا ہوا کیونکہ یہ پشتیں اور بطون امانت کے لئے ہیں کہ ان سے گزرکر نورِ مصطفی ﷺ نے آگے جانا ہے ۔ پس یہ وصیت آگے ہر نسل میں پہنچاتے رہنا ۔(الوفا)
حضرت آدم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اے بیٹے ! میرے بعد اس زمین پر تم میرے خلیفہ بننے والے ہو ، اور عروۂ وثقہ کی طرح میری یہ وصیت کو مضبوطی سے تھام لو ۔ اے بیٹے ! جب بھی تم اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرو تو اس ذکر کے ساتھ ذکرِ محمدﷺ بھی ضرور کرنا اور کبھی الگ نہیں کرنا۔ حضرت شیثؑ نے اس کی وجہ دریافت کی تو حضرت آدمؑ نے فرمایا جب اﷲ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش کے ستونوں پر اسمِ محمدﷺ کو لکھا ہوا دیکھا ، پھر مجھے آسمانوں کی سیر کروائی گئی اور میں نے کوئی ایک بھی عزت و بلندی والا مقام ایسا نہ دیکھا جہاں اسمِ محمد ﷺ مکتوب نہ ہو ۔ پھر مجھے میرے رب نے جنت میں سکونت بخشی، میں نے جنت کا کوئی ایک محل و کمرہ ایسا نہیں دیکھا جہاں یہ نام نہ لکھا ہوا ہو، پھر میں نے یہ نام فرشتوں کی آنکھوں اور پیشانیوں پر بھی لکھا ہوا دیکھا اور جنت کے ہر درخت اور ہر پتے پر یہ نام دیکھا اور سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر یہی نام دیکھا ، جس مقام پر بھی دیکھا ، ہر عزت والے مقام پر یہ نام لکھا ہوا پایا ۔ اس لئے اے بیٹے شیثؑ ! اسمِ محمد ﷺ کا ذکر کثرت سے کیا کر کیونکہ ملائکہ بھی ہر وقت اسمِ محمدﷺ کا ذکرکرتے رہتے ہیں‘‘۔ ( تاریخ دمشق)
اﷲ تعالیٰ نے حضرت شیثؑ کی زوجہ کا بھی انتخاب انھیں بخشا جو حوّا علیہا السلام کے بعد ساری زمین میں حسن و جمال میں اور پاکیزگی و طہارت میں انہی کی طرح تھیں اور جب حضرت شیثؑ کا نکاح فرمایا گیا تو حضرت جبرئیلؑ نے خطبۂ نکاح پڑھا اور ستر ہزار فرشتے گواہ بنائے گئے اور حضرت آدمؑ کے وصال کے وقت آپؑ کی کُل اولاد و ذریت کی تعداد چالیس ہزار کو پہنچ چکی تھی کیونکہ آپ ؑ کو اﷲ تعالیٰ نے ایک ہزار سال کے قریب عمر عطا کی تھی لہذا آپؑ کی اولاد اور ان کی نسلیں پھیل کر اتنی کثیر ہوچکی تھیں لیکن ان تمام اولاد میں سے صرف حضرت شیثؑ اور ان کی زوجہ سارے کنبہ کو چھوڑکر مکہ معظمہ آکر رہائش پذیر ہوگئے تھے کیونکہ مکّہ حضور ﷺ کا مقامِ ولادت بننے والا تھا ۔ اور یہیں حضرت شیثؑ کا وصال ہوا اور جبلِ ابوقبیس کے غار میں آپؑ کی تدفین ہوئی اور حضورؐ کے میلاد کے انتظار میں آپؑ کی نسلیں یہاں آباد ہوئیں۔ پس زمانے گزرتے چلے گئے اور ہزاروں قومیں اور کئی نسلیں گزرگئیں، دنیا کا نقشہ بدل گیا لیکن یہ نظمِ طہارت و پاکیزگی اس نسل میں کبھی منقطع نہ ہوئی حتیٰ کہ یہ نور حضرت عبداﷲرضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پیشانی میں چمکنے لگا اور حضرت عبدالمطلبؓ کو ایک اعلیٰ نسب و پاکیزہ خاتون کی تلاش تھی جس سے وہ اپنے بیٹے عبداﷲ کا نکاح کرسکیں ۔ چنانچہ جب وہ تلاش میں نکلے تو راستے میں ایک مشہور کاہنہ جو تورات اور سابقہ صحائف انبیاء کی عالمہ تھی جو بہت خوبصورت بھی تھی اور اپنے علم و خوبصورتی پر نازاں بھی تھی سے ملاقات ہوئی ۔ جب کاہنہ نے حضرت عبداﷲؓ کی پیشانی میں چمکتے ہوئے نور کو دیکھا تو حضرت عبداﷲؓ سے درخواست کی کہ وہ کچھ وقت اس کے پاس قیام کرلیں تاکہ حضرت عبداﷲؓ کا اس کے ساتھ تعلق قائم ہو لیکن حضرت عبداﷲ نے جواباً فرمایا کہ نہیں یہ رشتہ حرام ہے اس پر کاہنہ نے کہا کہ میں اس کے بدلے ایک سو قیمتی اونٹ تحفے میں دوں گی ۔ تب حضرت عبداﷲؒ نے فرمایا ’’میں اس رشتۂ حرام سے موت کو بہتر سمجھتا ہوں‘‘ ۔ (الطبقات الکبریٰ)
جب حضرت عبدالمطلبؓ و عبداﷲؓ آگے چلے تو وہاں حضرت آمنہ بنت وہبؓ کے بارے میں خبر ہوئی اور آپ کی طہارت و پاکیزگی اور اعلیٰ نسبی کے سبب جیسا کہ مقدر بھی تھا ، حضرت عبداﷲؓ سے نکاح ہوا اور یہ ایامِ حج کازمانہ تھا اوریہ نکاح منیٰ کے مقام پر ہوا اور نورِ مصطفی ﷺ ایامِ حج میں مقامِ منیٰ میں صلبِ عبداﷲ ؓ سے بطنِ آمنہؓ میں منتقل ہوا ۔ اور جب نکاح کے بعد حضرت عبداﷲؓ لوٹے تو راستے میں اسی کاہنہ کے پاس سے گزر ہوا تو حضرت عبداﷲؓ نے پوچھا کہ جب بھی میں تیرے پاس سے گزرتا تو تو مجھے تکتی رہتی تھی اس مرتبہ کیا ہوا کہ نظر بھی نہیں اُٹھاتی ہے ؟ اس پر کاہنہ نے کہا : اے عبداﷲؓ ! وہ نور جو تمہاری پیشانی میں چمک رہا تھا ، جس کی خاطر میں تم کو شادی کی دعوت دی تھی وہ نور تم سے جدا ہوگیا اور کسی خوش بخش کا مقدر بن چکا ہے ۔ لہذا اب مجھے تمہاری حاجت نہیں رہی ۔ ( طبقات الکبریٰ)
اس طرح چند ماہ بعد حضور اکرم ﷺ کی عالمِ شہادت میں ولادت ہوتی ہے اور بطنِ آمنہؓ سے وہ نور کا ظہور عمل میں آتا ہے جس کے لئے آدمؑ  سے عبداﷲؓ تک کے تمام نسب کو ہر مرد و عورت کو پاکیزگی عطا کی گئی تھی ۔ یہ شان و عظمت اور پاکیزگی و طہارت نسبِ مصطفی ﷺ کی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کا ادب و تعظیم کرنے والا بنائے ، حضور اکرم ﷺ کی میلاد پر فرحت و سرور کا اظہار عطا فرمائے اور حضور ﷺ ، آپ کی اہلبیت و صحابہ کرامؓ سے محبت اور تعلقِ اتباع عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین و آلہٖ الطیبین

TOPPOPULARRECENT