Wednesday , May 24 2017
Home / سیاسیات / نسلی تبصرہ سے متعلق ہنگامہ آرائی پر لوک سبھا کی کارروائی میں خلل

نسلی تبصرہ سے متعلق ہنگامہ آرائی پر لوک سبھا کی کارروائی میں خلل

نئی دہلی10اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق ممبر پارلیمنٹ کی جنوبی ہند کے لوگوں کے بارے میں کئے گئے مبینہ نسلی تبصرے پر لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے آج بھاری ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر سمترا مہاجن کو کھانے کے وقفے سے پہلے ایوان کی کارروائی تین بار ملتوی کرنی پڑی۔دو بار ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے بی جے پی لیڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی مانگ کی۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے ملک کو توڑنے والی بات کی ہے لہذا ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے ۔پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ تبصرہ کرنے والا شخص بی جے پی کا سکریٹری جنرل یا ترجمان نہیں ہے ۔ وہ پارٹی کے سابق ممبر پارلیمنٹ ہیں اور انہوں نے اپنی غلطی مانتے ہوئے اپنے تبصرے کے لئے معذرت بھی طلب لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک ایک ہے اور یہاں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ اسپیکر نے ارکان سے اپنی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔دریں اثنا کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت کچھ دیگر جماعتوں کے رکن اسپیکرکی نششت گاہ کے سامنے آکر نعرے بازی کرنے لگے جس سے ایوان میں ہنگامہ بڑھ گیا اور اسپیکر کو تیسری بار ایوان کی کارروائی ایک بجکر 50 منٹ تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔
سابق چیف منسٹر کیخلاف راجیہ سبھا میں کانگریس کا ہنگامہ
اس دوران کانگریس کے اراکین نے آج راجیہ سبھا میں حکومت پر سیاسی بدلے کے جذبہ سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور مرکزی جانچ بیورو کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ہریانہ کے ایک سابق وزیر اعلی کے خلاف معاملہ درج کئے جانے کے سلسلے میں وقفہ صفر میں زبردست شور و غل اور ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کی گئی۔ضروری دستاویز ایوان کے ٹیبل پر رکھے جانے کے بعد کانگریس کے آنند شرما نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہاکہ غیر بی جے پی ایک وزیر اعلی کے خلاف سیاسی بدلے کے جذبہ سے معاملہ درج کیا گیا ہے جس پر ایوان میں بحث کرائی جانی چاہئے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں ضابطہ 267 کے تحت نوٹس بھی دیا ہے لیکن ڈپٹی چیئرمین پی جے کوریئن نے کہاکہ اس پر ایوان میں بحث نہیں کی جاسکتی ہے ۔مسٹر شرما نے کہاکہ پہلے کئی ریاستوں میں اخباروں کو کفایتی شرحوں پر زمینیں دی گئی تھیں لیکن اب اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور تجارتی اداروں کو رعایتی شرح پر زمینیں دی جا رہی ہیں۔ مہاراشٹر اور ہریانہ میں تجارتی اداروں کو زمین الاٹ کئے گئے ہیں اور لینڈ یوز کو بھی بدلا گیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT