Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / نسلی حملوں سے نمٹنے کیلئے عنقریب نئے قانونی دفعات : حکومت

نسلی حملوں سے نمٹنے کیلئے عنقریب نئے قانونی دفعات : حکومت

مسلمانوں پر ہجوم کی جانب سے ہونے والے حملوں کے خلاف کارروائی ، راجیہ سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو کا بیان
نئی دہلی ۔ 26 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نسلی حملوں یا نسل پرستی مذہب یا لسانی بنیاد پر کیئے جانے والے حملوں اور تشدد سے نمٹنے کیلئے تعزیرات ہند کی دفعات میں نئے دفعات شامل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ خواتین پر حملوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی ۔ حال ہی میں دہلی کے ایک کلب میں ایک خاتون کو محض اُس کے لباس اور وضع قطع کی بنیاد پر داخلے سے روک دیا گیا۔ دہلی گولف کلب میں پیش آئے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں شمال مشرق سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو اس کی مختلف طرز لباس اور پہناوے کو دیکھتے ہوئے یہاں سے چلے جانے کی اجازت دی گئی ۔ مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہاکہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ایک معمولی شکایت کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ انھوں نے اپوزیشن کے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہجوم کی جانب سے زدوکوبی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور ان حملوں کو روکنے کیلئے حکومت نے کوئی قدم نہیں اُٹھائے ہیں۔ راجیہ سبھا میں وقفۂ سوالات کے دوران مملکتی وزیر داخلہ نے کہاکہ تعزیرات ہند کی دفعات میں دو نئے دفعات کو شامل کئے جانے کی تجویز ہے ۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 153(C) اور 501(A) کے تحت مذہب ، نسل ، رہائش یا لسانی بنیادوں پر فرقوں میں دشمنی بڑھانے جیسے جرائم سے سختی سے نمٹا جائے گا ۔ ان قوانین پر غور و خوص کیا جارہا ہے ۔ اگر ان قوانین اور دفعات کو روبعمل لایا گیاتو ہجوم کی جانب سے کی جانے والی زدوکوبی کو روکنے میں مدد ملے گی ۔ بیس بروا کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ شکایات کی بنیاد پر ہی ان نئے دفعات کو وضع کیا جارہا ہے۔ نسلی معاملوں اور لفظی جھڑپوں ، بدسلوکی یا کسی خاص نسل ، گروپ یا مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کی دانستہ طورپر توہین کئے جانے والے واقعات کی روک تھام میں یہ دفعات معاون ثابت ہوں گے ۔ ریاستوں کی رائے کو بھی ملحوظ رکھا جارہا ہے جس میں بعض ریاستوں نے ان دفعات کو ترجیح دی ہے ۔ رجیجو نے مزید کہا کہ ملک کی سات ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ اس سلسلے میں تبدیلیاں لانے کیلئے اکثریتی رائے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعات میں مجوزہ ترمیمات کئے جانے کے بعد پولیس اس طرح کی صورتحال سے بہتر طریقہ سے نمٹ سکے گی۔ قبل ازیں اپوزیشن ارکان نے جن میں کانگریس کے حسین دلوی بھی شامل ہیں ، مسلمانوں پر کئے جانے والے حملوں اور ہجوم کی زدوکوبی ، امتیازی سلوک کے واقعات کا مسئلہ اُٹھایا ۔ دلوی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت سے یہ جاننے کی خواہش کی کہ آیا حکومت اس سلسلے میں بیس بروا کمیٹی کی تجاویز پر عمل آوری کررہی ہے ؟ رجیجو نے کہاکہ حکومت نے تمام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے غیرمعمولی متعدد اقدامات کئے ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تمام ریاستوں کو اڈوائیزری روانہ کی گئی ہے کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبہ زیرتعلیم ہیں، جنھیں حملوں کا سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT