Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / نسل پرستی اور اسلاموفوبیا نے زہر ہلاہل کا کام کیا : گوٹیرس

نسل پرستی اور اسلاموفوبیا نے زہر ہلاہل کا کام کیا : گوٹیرس

 

l ورجینیا تشدد پر ڈونالڈ ٹرمپ کا ریمارک افسوسناک
l میں مذمت کرنے، تنقید کرنے یا ریمارک کرنے
کسی بھی ملک کے دباؤ میں نہیں

اقوام متحدہ ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شارلیٹس ولے تشدد کے واقعہ میں جو ورجینیا میں رونما ہوا تھا جس طرح سفیدفاموں کی تائید کرتے ہوئے عوامی غم و غصہ مول لیا تھا، اس کی گونج اقوام متحدہ میں بھی سنائی دی جہاں سکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیرس نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ نسل پرستی، غیرملکیوں سے نفرت اور اسلاموفوبیا کے خلاف ہر کوئی آواز اٹھائے۔ صدر امریکہ سفیدفاموں کے نہیں بلکہ تمام اقوام کے صدر ہیں۔ انہیں اس طرح نسل پرستی کو ہوا نہیں دینی چاہئے۔ اس واقعہ میں ایک خاتون ہلاک اور دیگر 19 افراد اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب ایک سفید فام شخص نے جوابی احتجاج کرنے والوں کے گروپ پر اپنی کار چڑھادی تھی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس واقعہ کیلئے دونوںگروپس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا مگر یہ حقیقت دیکھنے سے قاصر رہے کہ مرنے والی سیاہ فام تھی یاسفیدفام۔ گوٹیرس سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا آزادی اظہارخیال سے گریز کرنے انہیں امریکی حکومت کا دباؤ ہے؟ جس کا جواب گوٹیرس نے نفی میں دیا اور کہا کہ کسی بھی موضوع پر لب کشائی نہ کرنے ان پر کسی بھی قائد یا ملک کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہم نے اپنے گذشتہ اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی تھی اور پوری تفصیلات کو پڑھ کر سنایا تھا۔ اگر اقوام متحدہ کا سکریٹری جنرل ہی کسی دباؤ میں ہوگا تو پھر اس عالمی مجلس کا وجود کیا معنی رکھتا ہے! اور اب یہ اس بات کا ثبوت ہیکہ میں آپ کے سامنے یہ بیان دے رہا ہوں کہ آج دنیا کو نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور غیرملکیوں سے نفرت کے جذبہ نے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

میں اس بات کی پرواہ کبھی نہیں کرتا کہ کون سے ملک کا صدر یا وزیراعظم کیا کہتا ہے۔ میں صرف اصولوں کی بات کرتا ہوں۔ آپ چاہیں جو بھی کہہ لیں، کوئی بھی بیان دیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ آپ اصولوں سے بالاتر نہیں ہیں۔ نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور غیرملکیوں سے نفرت کے جذبات آج سماج کے لئے زہر بن چکے ہیں۔ ہمارے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہیکہ ہم اس کی ہر وقت اور ہر جگہ مخالفت کریں ورنہ ایک دن ہمارے سماج کو خود ہم ہی پہچان نہیں سکیں گے۔ یاد رہے کہ گوٹیرس کا یہ تبصرہ شارلیٹس ولے میں ہوئے حالیہ پرتشدد واقعہ کے بعد صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ریمارک کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اقوام متحدہ کا سکریٹری جنرل ہونے کے ناطے انہیں جو بھی بیان دینا ہوتا ہے اس بیان کو پوری دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کرنا پڑتا ہے کہ کہیں نادانستہ طور پر بھی کسی ملک یا قائد کی دلآزاری نہ ہو۔ انہیں خود کے یوروپی ہونے پر فخر ہے کیونکہ یوروپ نے دنیا کی تمام تہذیبوں میں اپنا رول ادا کیا جس میں رواداری اور دوسروں کے احترام کو ملحوظ رکھنے میں تکثیری موقف کو مستحکم کیا گیا۔ لہٰذا ان اقدار کو محفوظ رکھنے کیلئے ان عوامل کی مذمت ضروری ہے جن سے مندرجہ بالا اقدار کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ خصوصی طور پر آج کے دور میں چاہے وہ امریکہ ہو یا کوئی اور ملک اور یہ بدبختی کی بات یہ ہیکہ یہ عناصر تقریباً ہر ملک میں ابھر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کو جن ضوابط اور اصولوں کا پابند بنایا گیا ہے وہ (گوٹیرس) ان سے روگردانی نہیں کرسکتے۔ ان اقدار کو پامال کرنے کا مطلب یہی ہوگا کہ اقوام متحدہ کا کوئی وقار نہیں ہے اور جہاں جہاں بھی جو باتیں بولنا میرے لئے ضروری ہوگا میں وہ باتیں (چاہے تنقید ہو، مذمت ہو یا ریمارک ہو) بغیر کسی پس و پیش اور دباؤ کے بولتا رہوں گا۔ میں آزادی اظہارخیال پر عمل کرتے وقت جب کوئی خوشگوار یا ناخوشگوار کلمات ادا کروں گا تو یہ ہرگز نہیں سوچوں گا کہ اس سے کسی بھی ملک کے صدر یا وزیراعظم کو برا لگ سکتا ہے۔ حق بات ہر ایک کو بُری لگتی ہے لیکن اس کے خوشگوار نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔
گوٹیرس کی شمالی کوریا معاملے میں ثالثی کی پیشکش
اقوام متحدہ، 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس نے شمالی کوریا کے معاملے میں ثالثی کرنے کیلئے روس، جاپان، امریکہ، چین اور جنوبی کوریا سے پیش کش کی ہے ۔مسٹر گوٹیرس نے نامہ نگاروں سے کہاکہ میرا دفتر ثالثی کیلئے ہمیشہ تیار ہے اور میں نے کل یہ پیغام چھ فریقی مذاکرات کے نمائندوں کو دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس بحران کا حل سیاسی طور پر ہونا چاہئے ۔ فوجی کارروائی کے بارے میں سوچنا بھی بھیانک ہے ۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے گوام کے نزدیک میزائل چھوڑنے کے اعلان کے بعد امریکہ کے ساتھ تلخ بیان بازی شروع ہوگئی تھی۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو ان کی فوج حملے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT