Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / ’’نسل پرست دہشت گرد اور قاتل نہیں ہوتے‘‘

’’نسل پرست دہشت گرد اور قاتل نہیں ہوتے‘‘

ریستوران میں حجاب پہنی ہوئی دو خواتین کو خدمات فراہم کرنے سے انکار اور بعدازاں ریستوران مالک کی معذرت خواہی

لندن ۔ 29 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک اعلیٰ درجہ کی فرانسیسی ریستوران سے حجاب پہنی ہوئی دو خواتین کو فوری طور پر ریستوران سے نکل جانے کا حکم دیا گیا کیونکہ ریستوران کے مالک نے یہ کہہ کر ’’تمام مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں‘‘ خواتین کو ریستوران میں کوئی خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پیرس کے مضافاتی علاقہ ٹریمبلے۔ این۔ فرانس میں واقع ریستوران میں جو واقعہ پیش آیا اس کی ویڈیو فوٹیج وائرل ہوگئی ہے جس میں واضح طور پر دکھایا گیا ہیکہ ریستوران میں آئی ہوئی حجاب پہنی ہوئی دو خواتین کو ریستوران مالک کے علاوہ بیروں (ویٹرس) نے بھی خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ ہفتہ کی شام کو ’’لی سیناکل‘‘ نامی ریستوران میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم اس واقعہ کے بعد ریستوان کے باہر کچھ  لوگوں کا ایک گروپ جمع ہوگیا تھا جس سے ریستوران کے مالک نے معذرت خواہی کرلی اور یہ استدلال پیش کیا کہ فرانس میں آج کل ساحل سمندر پر برکنی پہننے کے مسئلہ پر جو حالات پیدا ہوگئے ہیں اس سے وہ بہت زیادہ تناؤ میں تھا۔ اس نے مزید کہا کہ گذشتہ سال نومبر میں بٹکلان کنسرٹ سنٹر پر جو دہشت گرد حملہ ہوا تھا اس میں اس کا (ریستوران کے مالک) دوست بھی مارا گیا تھا جس کے بعد اس کے دل میں مسلمانوں کے تئیں نفرت انگیز جذبات  پنپنے لگے۔ یہاں کے مقامی اور معروف اخبار لی پیریشین میں اس واقعہ کو تفصیل سے شائع کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف مقامی پراسیکیوٹر کے دفتر سے اخبار کو یہ اطلاع دی گئی ہیکہ نسلی امتیاز کے واقعات کی تحقیقات کی جائے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہیکہ ریستوران میں پیش آئے واقعہ کی ویڈیو حجاب پہننے والی ان ہی دو خواتین میں سے ایک نے تیار کی ہے جو انتہائی جذباتی نظر آرہی تھیں اور اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود بھی نہیں چاہتے کہ نسل پرست افراد ہمیں خدمات فراہم کریں جس پر اس شخص نے (ریستوران کا مالک) ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرست دہشت گرد نہیں ہوتے اور لوگوں کو ہلاک نہیں کرتے لہٰذا میں آپ جیسے لوگوں کو اپنے ریستوران میں دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد ویڈیو میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ اسی اثناء میں خاتون وزیر لارینس ریسگنول کے ایک بیان کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہیکہ انہوں نے سرکاری طور پر انسداد نسل پرستی کی ایک مجلس جس کا نام ’’دلکرا‘‘ ہے، کو اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لارینس ریسگنول نے اس واقعہ کو ناقابل برداشت قرار دیا۔ دوسری طرف فرانس کی ایک مخالف اسلاموفوبیا تنظیم سی سی آئی ایف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں خواتین کی قانونی اور نفسیاتی طور پر مدد کرنے تیار ہے اور اپیل بھی کہ ریستوران کے باہر کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT