Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نشہ کی لت سے چھٹکارا دلانے صرف ایک ہی ہاسپٹل

نشہ کی لت سے چھٹکارا دلانے صرف ایک ہی ہاسپٹل

ہزاروں نشہ کے عادی افراد کو بچانے سرکاری سطح پر مزید سنٹرس کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : راجدھانی کو ہلا کر رکھنے والا ڈرگس کا دھندا اور ڈرگس کے شکار افراد میں فلمی دنیا کی شخصیتوں سے لے کر اسکولی طلبہ تک ڈوبے ہوئے ہیں تو شہر کے مضافاتی علاقوں میں واقع بعض انجینئرنگ کالجس ڈرگس کا اڈہ بنتے جارہے ہیں ۔ نشہ کی لت میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے صرف ایک ہی 15 سالہ قدیم دواخانہ 20 بیڈس پر مشتمل ہے جب کہ نشہ کے شکار افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ جو ایسے افراد کے علاج کے لیے بالکل ہی ناکافی ہے ۔ ایرہ گڈہ منٹل ہاسپٹل یہ دونوں تلگو ریاستوں میں غیر معروف نہیں ہے اور یہاں پر ذہنی بیمار افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور یہیں پر حکومت کی جانب سے ڈی اڈکشن سنٹر ( نشہ کی لت سے چھٹکارا پانے کا سنٹر ) ہے اور اس سنٹر میں شراب و ڈرگس کی لعنت میں مبتلا افراد کا علاج اور کونسلنگ کی جاتی ہے ۔ فی الحال سرکاری سطح پر یہی ایک ڈی اڈکشن سنٹر ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل میں بھی ایسے افراد کا علاج کیا جاتا ہے ۔ مگر وہ کلی طور پر ایک ڈی اڈکشن سنٹر نہیں ہے جہاں ضرورت کے حساب سے 5-10 بیڈس مستقل علاج کیا جاتا ہے ۔ نشہ کے شکار افراد کی تعداد ہزاروں میں ہونے کے باوجود سرکاری سطح پر ڈی اڈکشن سنٹرس کا قیام عمل میں نہ لایا جانا ایک تشویشناک بات ہے ۔ عہدیداران کی جانب سے ایسے سنٹرس کے قیام کے لیے کاغذی سطح پر باتیں ہورہی ہیں جب تک عملی طور پر ایسے سنٹرس کا قیام نہیں کیا جاتا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔۔

پروفیسرس کی کمی
ایرہ گڈہ منٹل ہاسپٹل میں 5 پروفیسرس ، ایک اسوسی ایٹ پروفیسر ، 8 اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادیں خالی ہیں ۔ عثمانیہ دواخانہ میں سیکیاٹرسٹ سرینواس ریڈی کے زمانے میں ایسے افراد کا علاج کیا جاتا تھا مگر ان کی سبکدوشی کے بعد وہاں نشہ میں مبتلا افراد کا علاج بند کردیا گیا ۔ میڈیکل کالجس کے دواخانوں میں ڈی اڈکشن سنٹرس کے قیام کا منصوبہ اب تک روبہ عمل نہیں لایا گیا ۔ اگر اس منصوبہ پر عمل آوری کی گئی تو عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس میں مکمل طور پر ایسے افراد کے علاج کے لیے سنٹرس کا قیام ہوسکتا ہے ۔ ایرہ گڈہ منٹل ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اوما شنکر کے مطابق اس سنٹر سے رجوع ہونے والے شراب کے عادی افراد کی تعداد 80 فیصد ہے تو 20 فیصد افراد گانجے کی لت میں مبتلا ہیں اور یہاں علاج کے لیے اکثر و بیشتر غریبی سے دوچار دیہی عوام ہی آتے ہیں اتنا ہی نہیں پڑوسی ریاستیں کرناٹک اور مہاراشٹرا سے بھی خط غربت سے نچلی زندگی گزارنے والے افراد علاج کے لیے رجوع ہوتے ہیں اور نشہ کی لت میں مبتلا افراد کو 1 تا 2 ہفتہ رکھ کر ان کی کونسلنگ اور علاج کیا جاتا ہے اگر بیماری شدید ہو تو چار ہفتہ رکھ کر علاج کیا جاتا ہے ۔ ان حالات سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں علاج کے لیے آنے والوں کی اکثریت غریب افراد پر مشتمل ہے ۔ کوکین ، یل یس ڈی ، براؤن شگر اور ایم پی ٹاین جیسی بھاری قیمتوں والے ڈرگس کا استعمال کرنے والے کارپوریٹ ہاسپٹلس کا رخ کررہے ہیں اور ان کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے عام افراد اپنا علاج کروانے سے قاصر ہیں ۔ حالیہ انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ نشہ کا شکار ہونے والوں میں نوجوان اور طلباء کی تعداد زیادہ ہے ان حالات کے مد نظر ایسے افراد کے علاج کے لیے سرکاری سطح پر ایسے سنٹرس کا قیام ضروری ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT