Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نظام آباد میں دھو پ کی شدت سے عوامی زندگی مفلوج

نظام آباد میں دھو پ کی شدت سے عوامی زندگی مفلوج

مزدور فوت ہورہے ہیں، کنویں ،بورویلس خشک، زرعی کام ٹھپ، سڑکوں پر کرفیو جیسا منظر
نظام آباد:17 ؍ اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع نظام آباد میں دھوپ کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لولگنے کی وجہ سے رنجل منڈل میں طمانیت روزگارمزدور خاتون فوت ہوگئی۔ جبکہ جنگل میں بھی جنگلی جانوروں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے شہر کا رخ کررہے ہیں اور شہر پہنچنے تک ہی جانور بھی فوت ہورہے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ ضلع نظام آباد کے بیر کور منڈل میں پیش آیا۔ بیرکور منڈل کے علاقہ میں گھنا جنگل واقع ہے اور اس جنگل میں ہرن، بکری، نیل گائے و دیگر جانور بھی ہیں اور جنگل کے علاقہ میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے کل رات بیرکور منڈل کے نصراللہ آباد علاقہ میں نیل گائے جنگل سے نکل کر زرعی کنویں تک پہنچ کر پانی کو تلاش کیا لیکن کہیں پر بھی ایک بوند پانی نہ ملنے کی وجہ سے نیل گائے یہی پر فوت ہوگئی۔ جبکہ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں اور ضلع کلکٹر کی جانب سے بار بار یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ جنگلی جانوروں کے تحفظ اور پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے ساسر پیٹس تیار کئے جارہے ہیں اور کروڑہا روپئے کا خرچ کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ جنگل کے علاقہ میں ساسر پیٹس کی تعمیر میں قابل لحاظ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے جنگلوں میں واقع جانوروں کو بھی پانی میسر نہیں ہورہا ہے۔ ضلع نظام آباد میں اس سال بارش نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت ہے اور ضلع نظام آباد میں دن بہ دن زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی ہوتی جارہی ہے اور شہروں میں 80 فیصد سے زائد بورویل خشک ہوچکے ہیں جبکہ دیہی علاقہ میں زرعی بورویلس کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ دھوپ کی شدت کو تاب نہ لاتے ہوئے مزدور فوت ہورہے ہیں۔ کئی مزدوروں کی حالت تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ رنجل منڈل کی سائماں گذشتہ تین ماہ سے طمانیت روزگار کے مزدور کی حیثیت سے کام کررہی ہے کام کے دوران حالت تشویشناک ہونے پرنظام آباد دواخانہ منتقل کیا گیااور علاج کے دوران فوت ہوگئی۔ ضلع میں اس ماہ ابتدائی سے دھوپ کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے  پہلے ہفتہ میں 42 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تو گذشتہ دو دنوں سے  44.9 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے اور گرم ہوائیں چل رہی ہے۔ صبح 9 بجے سے ہی دھوپ کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور دھوپ کے اوقات میں معمر افراد کو انتہائی بے چینی کی حالت میں دیکھا جارہا ہے اور صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک بے چینی کی حالت میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ضلع نظام آباد میں تقریباً30 ہزارزرعی بورویلس خشک ہوچکے ہیںاور ضلع میں خشک سالی کی وجہ سے ربیع کے سیزن میں زرعی کام کاج ٹھپ ہوگئے ہیں۔ ضلع میں آبی سربراہی بھی متاثر ہے۔ شہروں میں ایک دن کے وقفہ سے پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 350 زرعی بورویلس کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ دھوپ کی شدت کی وجہ سے پانی بھی محفوظ نہیں رہ رہا ہے ۔ ٹینکوں میں محفوظ کیا گیا پانی بھی ختم ہورہا ہے۔ دھوپ کی وجہ سے  عوام کو بے حد تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مزدور پیشہ افراد کیلئے  بے حد مشکلات سے گذرنا پڑرہا ہے جبکہ طمانیت روزگار کے مزدوروں کو صبح 10 بجے تک ہی کام کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔ ضلع میں آبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ضلع کلکٹر کی قیادت میں ہر روز جائزہ لینے کے باوجود بھی کسی نہ کسی مقام پر پینے کے پانی کیلئے عوام کی جانب سے  احتجاجی مظاہرہ ہورہے ہیں۔  دھوپ کی وجہ سے شہروں کے علاقہ میں دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک عوام گھروں میں رہنا پسند کررہے ہیں۔ اے سی، کولراور فریج کے کاروبار میں بھی زبردست اضافہ ہواہے۔ شہروں میں آبی قلت کی وجہ سے گرما کی تعطیلات میں رشتہ دار ایک مقام سے دوسرے مقام کو جانا پسند نہیں کررہے ہیںاتوار کی تعطیل ہونے کی وجہ سے سڑکیں سنسان نظر آرہی ہے اور کرفیو کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT