Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نظام آباد میں غریب مسلم بستیوں کا جائزہ لینے میں سدھیر کمیشن ناکام

نظام آباد میں غریب مسلم بستیوں کا جائزہ لینے میں سدھیر کمیشن ناکام

اقلیتی انکوائری کمیشن کے دورہ کی عدم تشہیر کے خلاف کانگریس قائد سمیر احمد اور دیگر کا اظہار ناراضگی

نظام آباد:30؍ ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی برائے مسلم سماجی و معاشی پسماندگی (سدھیر کمیٹی) کا آج نظام آباد دورہ کے موقع پر جہاں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے خیر مقدم کیا وہیں پر بنیادی سطح پر جائزہ نہ لینے کی شکایت عائد کرتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعہ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مسلم سماجی معاشی پسماندگی کمیٹی کے چیرمین جی سدھیر موظف آئی اے ایس و رکن کمیٹی عبدالباری نے آج نظام آباد پہنچنے پر ضلع کلکٹر یوگیتا رانا نے ان کا خیر مقدم کیااور پرگتی بھون میں ضلع کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا اور مسلمانوں کے معاشی، سماجی، تعلیمی، پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے ہاشمی کالونی میں واقع اُردو میڈیم ہائی اسکول (پیلااسکول) ، مالاپلی اربن ہیلت سنٹر ، آنگن واڑی سنٹر، مدرسہ البنات النسیہ و دیگر چیزوں کا جائزہ لیا۔

ہاشمی کالونی اُردو میڈیم اسکول کا جائزہ لینے کیلئے پہنچی تو اسکول کے اساتذہ و صدر مدرس نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کلاسس رومس لئے گئے یہاں پر چیرمین سدھیر کمیٹی نے طلباء سے بات چیت کی اس موقع پر مسلم لیگ کے ضلع صدر ایم اے مقیت، ٹی آرایس کے قائد مجاہد علی ببوو دیگر نے سدھیر کمیٹی سے خواہش کی کہ اُردو میڈیم ہائی اسکول آٹو نگر کا دورہ کیا گیا تو بہتر ہوگا جہاں پر طلباء کو بنیادی سہولتیں مہیانہیں ہے اور 400 طلبہ اس مدرسہ میں زیر تعلیم ہے صرف ایک ہی ٹیچر کا تقرر کیا گیا لہذا یہاں پر چلنے کی خواہش کی لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے ترتیب دئیے گئے پروگرام کے مطابق ہی دورہ کرنے کا کمیشن نے ارادہ ظاہر کیا گیا جبکہ یہاں پر موجودہ قائدین اور دیگر افراد نے بار بار اس جانب توجہ کو مبذول کرانے کے باوجود بھی کمیشن دورہ کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود ضلع انتظامیہ کی جانب سے ترتیب دئیے گئے پروگرام کے مطابق ہی دورہ کرنے کی کمیشن کو عہدیداروں کی جانب سے ترغیب دی جارہی تھی جس کی وجہ سے کمیشن  دورہ کرنے سے قاصر رہا جبکہ ایک قائد نے اُردو اکیڈیمی کا جائزہ لینے کی بار بار مطالبہ کرنے پر کمیشن نے اُردو گھر شادی خانہ کا دورہ کیا اور یہاں کے سہولتوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ مالاپلی کے علاقہ میں مجلس بچائو تحریک کے قائدین کی جانب سے جونیئر کالج کے بارے میں تفصیلات واقف کرانے کیلئے کمیشن سے نمائندگی کرنے کیلئے منتظر تھے لیکن کمیشن اس بارے میں توجہ دینا مناسب نہیں سمجھا اور نمائندگی کی سماعت بھی نہیں کی اور یہاں سے چلے گئے ۔

بعدازاں پرگتی بھون میں 3بجے سے 5 بجے تک عوامی نمائندگیاں حاصل کی اس موقع پر ضلع وقف کمیٹی کے صدر محمد جابر اکرم نے کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیشن کو اس بات سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ دیڑھ سال کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی 12 فیصد تحفظات کی فراہمی پر ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ کمیشن کی معیاد کتنے دن ہے کیا کمیشن کی سفارشات کو حکومت قبول کرتے ہوئے حکومت تحفظات فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ 19 ؍ اگست 2014 ء میں کئے گئے جامع خاندانی سروے کے مطابق تحفظات کو فوری فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے پاس موجود ہے کمیشن بنیادی طور پر جائزہ لینے کے بجائے ترتیب دئیے گئے پروگرام کے مطابق جائزہ لیا گیا جبکہ ناگارام و دیگر سلم بستیوں کا جائزہ نہیں لیا گیا کئی اُردو میڈیم مدارس میں اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ ترک تعلیم کررہے ہیں تحفظات کی عدم فراہمی کی وجہ سے حال ہی میں دئیے گئے ملازمتوں کی اعلامیہ کی وجہ سے 1200 جائیدادوں سے محروم ہونا پڑرہا ہے لہذا بغیر کسی تاخیر کے تحفظات فراہم کریں۔ مسلمان سطح غربت سے نیچے ہے اور حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے خلیج ممالک جانے والے افراد کیلئے تعلیمی اسنادات کو ضروری قرار دینے پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔میونسپل فلور لیڈر محمد عبدالقدوس کے ہمراہ محمد فیاض الدین نائب صدر ضلع کانگریس، صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس محمد سمیر احمد نے ضلع کانگریس کی جانب سے کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کیا کہ 16 ماہ کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے

اور گورنر کے خطبہ میں اقلیتی تحفظات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ ریاست میں 85 فیصد مسلمان پسماندہ ہے اور حکومت کی جانب سے مارچ میں کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ابھی تک کوئی اختیارات نہیں دئیے گئے جبکہ 4فیصد تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے لہذا بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیر احمد نے کمیشن کے دورہ کا اچانک ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی اطلاع عام نہیں کی گئی اور نہ ہی بنیادی طور پر جائزہ لیا گیا۔ سلم بستیوں کا دورہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی غریبوں سے ملاقات کی گئی۔ صدر ضلع اقلیتی سیل ٹی آرایس نوید اقبال نے کمیشن کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی حکومت پہلی مرتبہ سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور 12 فیصد تحفظات کیرالا ، ٹاملناڈواورکرناٹک کی طرح فراہم کرنے کیلئے بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لائے تاکہ کوئی قانونی اعتراضات پیدا نہ ہو۔9 ویں شیڈول میں ترمیم کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات سے بھی واقف ہے کہ مسلمان پسماندہ ہے اور ان کے پاس تعلیم کے حصول کیلئے رقم نہیں ہے اور شادی کیلئے بھی رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے فیس ریمبرسمنٹ اور شادی مبارک اسکیم کے تحت 51 ہزار روپئے فراہم کررہی ہے۔ سینئر سٹیزنس ویلفیر سوسائٹی کے صدر ایم اے شکور نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو ایس سی، ایس ٹی کی طرح فوری سب پلان فراہم کریںاور بی سی کمیشن کے قیام عمل لاتے ہوئے تحفظات فراہم کریں تو مسلمانوں کو بے حد فائدہ ہوگااور تعلیمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد شہر میں ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور بی ایڈ کالج کا قیام مستقل اقلیتی بہبود آفیسر کا تقرر و دیگر مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ صدرضلع انڈین یونین مسلم لیگ ایم اے مقیت نے اپنی تقریر میں کہا کہ کمیشن اس بات سے واقف ہے کہ مسلمان پسماندہ ہے اور کمیشن کے پاس سابق میں مختلف کمیشنوں کی جانب سے دی گئی رپورٹ موجود ہے۔

عدالت میں کسی قسم کے اعتراضات پیدا نہ ہوں اس طرح کے اقدامات کرتے ہوئے ٹاملناڈو، کیرالا کے طرز پر تحفظات فراہم کریں ۔صدر مجلس بچائو تحریک محمد عبدالقادر ساجد نے اپنی تقریر میں کمیشن کا تقرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کمیشن بنیادی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا جبکہ شہر میں کئی سلم بستیاں ہے لیکن اس کے بجائے ترتیب دئیے گئے پروگرام کے مطابق دورہ کیا گیااگر کمیشن بنیادی طور پر جائزہ لیتے تو بے حد فائدہ حاصل ہوتا تھا ۔صدر ٹی آرایس ٹائون بودھن محمد عابد احمد صوفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ 2سال قبل بودھن میں ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن ابھی تک فنڈس جاری نہیں کئے گئے جبکہ نظام شوگر فیکٹری کے اراضیات کی تقسیم میں بھی مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی گئی جانکم پیٹ درگاہ کے دوہرے قتل کا مسئلہ ابھی تک زیر التواء ہے انہوں نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دستور کے مطابق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر ویلفیر پارٹی کے صدر انور خان نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی معاشی، پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر قرار دیا۔ اس موقع پر کمیشن سے میونسپل فلور لیڈر بودھن محمد عابد علی کے علاوہ عمران شہزاد صدر ٹائون اقلیتی سیل ٹی آرایس، یٰسین صابری ، فہیم قریشی کے علاوہ دیگر نے بھی نمائندگی کی۔ اس موقع پر کانگریسی قائدین محمد ذاکر حسین، ایم اے جلیل، عبود بن حمدان،شیخ فصیح الدین صدر ٹائون بودھن میناریٹی، سید ربانی بودھن،مصطفی الکاف، ایوب پھولانگ کے علاوہ بودھن، آرمور سے بھی تعلق رکھنے والے قائدین نے بھی نمائندگی کی۔ اس موقع پر کمیشن نے حاصل کردہ سفارشات پر سنجیدہ اقدامات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

TOPPOPULARRECENT