Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نظام آباد کی اہم اوقافی اراضی کے تحفظ میں اہم پیش رفت

نظام آباد کی اہم اوقافی اراضی کے تحفظ میں اہم پیش رفت

تلنگانہ قانون ساز کونسل و اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا دورہ ، جناب عامر شکیل کی عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل و اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی نے نظام آباد کی ایک اہم اوقافی اراضی کے تحفظ میں اہم پیشرفت کی ہے۔ درگاہ حضرت سعد اللہ حسینی ؒ بڑا پہاڑ کی 711 ایکر اراضی کے تحفظ کیلئے مقننہ کمیٹی نے صدرنشین عامر شکیل کی قیادت میں آج درگاہ کا دورہ کیا۔ ضلع سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کی موجودگی میں ضلع کلکٹر اور محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 711 ایکر اوقافی اراضی کو ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف شامل کرنے کے اقدامات کریں۔ عامر شکیل نے اوقافی اراضی کے حق میں وقف بورڈ کے پاس موجود ریکارڈ پیش کیا اور اس سلسلہ میں محکمہ جنگلات کے اعلامیہ کو غیر درست ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس کتاب الاوقاف اور پھر گزٹ میں اراضی بحیثیت وقف درج ہے بعد میں محکمہ جنگلات نے اس پر اپنی دعویداری پیش کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا جبکہ ان کے پاس اراضی کا کوئی ٹائٹل موجود نہیں ہے۔ عامر شکیل نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور حکومت کے ڈھائی برسوں میں ایک بھی اہم اوقافی جائیداد پر ناجائز قبضہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کی نااہلی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور محکمہ جنگلات کو اوقافی جائیداد پر اپنی دعویداری پیش کرنے
کا موقع حاصل ہوا۔ عامر شکیل نے بتایا کہ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وقف اراضی کو ریونیو ریکارڈ میں شامل کیا جائے تاکہ مستقل طور پر تنازعہ کی یکسوئی ہوسکے۔ مقننہ کمیٹی کے ارکان فاروق حسین اور الطاف حیدر رضوی کے علاوہ چیف ایکزیکیٹو آفسیر محمد اسد اللہ حیدرآباد سے روانہ ہوئے تھے۔ کمیٹی کے صدر نشین عامر شکیل نے کہا کہ درگاہ بڑا پہاڑ کی ترقی کیلئے20کروڑ روپئے پر مشتمل ترقیاتی منصوبہ کی چیف منسٹر سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ زائرین کی سہولت اور درگاہ کے بالائی حصہ تک سڑک کا راستہ فراہم کرنے کیلئے منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے لئے تقریباً 20کروڑ روپئے درکارہیں۔ عنقریب کمیٹی اس فنڈ کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ کی موجودہ عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کے بجائے وقف بورڈ کی راست نگرانی میں کمیٹی کے قیام کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجاوروں کی کمیٹی کے وقت بورڈ کو سالانہ آمدنی ڈھائی کروڑ روپئے تھی اور گزشتہ چار ماہ میں 27لاکھ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے جس میں 16 لاکھ روپئے غلہ سے حاصل ہوئے جبکہ 11لاکھ روپئے دکانات کا کرایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کمیٹی کے اُمور میں مکمل شفافیت پیدا کرتے ہوئے اسے وقف بورڈ کی راست نگرانی میں لیا جائے گا یا پھر وقف بورڈ سے اسپیشل آفیسر کا تقرر کرتے ہوئے انتظامات چلائے جائیں گے۔ عامر شکیل نے کہا کہ تلنگانہ کی تمام اہم درگاہوں کے انتظامات میں شفافیت کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں مقننہ کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ مقننہ کمیٹی تلنگانہ میں اقلیتوں کو درپیش دیگر مسائل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ 24 نومبر کو مقننہ کمیٹی کے اجلاس میں سکریٹری فینانس کو طلب کیا گیا ہے تاکہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فینانس سے جس انداز میں بجٹ سُست رفتاری سے جاری کیا جارہا ہے اس سلسلہ میں کمیٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کا منصوبہ رکھتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT