Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نظام حیدرآباد پر ڈگ وجئے سنگھ کے بیان کی مذمت

نظام حیدرآباد پر ڈگ وجئے سنگھ کے بیان کی مذمت

کانگریس قائد پر بی جے پی کی ترجمانی کرنے کا الزام ، محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 21۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ کے نظام حیدرآباد کے خلاف اظہار خیال پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے مخالف نظام اور کے سی آر کو ڈکٹیٹر قرار دینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے ڈگ وجئے سنگھ کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے نظام حیدرآباد اور ان کی حکمرانی کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ نے نظام حیدرآباد کے خلاف اظہار خیال کے ذریعہ دراصل بی جے پی کی ترجمانی کی ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار جس طرح نظام حیدرآباد کے خلاف رائے زنی کرتے ہیں ، اسی طرح ڈگ وجئے سنگھ نے بھی نظام کی مخالفت کی ۔ دراصل ڈگ وجئے سنگھ بی جے پی اور سنگھ پر یوار کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ محمد محمود علی نے اس مسئلہ پر ڈگ وجئے سنگھ سے بیان سے دستبرداری اور تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تلنگانہ کے کانگریس قائدین ڈگ وجئے سنگھ کے اظہار خیال کے وقت موجود تھے لیکن کسی نے انہیں ٹوکنے کی ہمت نہیں کی۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا وہ بھی ڈگ وجئے سنگھ کی مخالف نظام رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے ڈگ وجئے سنگھ نے نظام دور حکومت کی تشبیہہ دی ہے۔ اگرچہ وہ حکومت کی مخالفت کرنا چاہتے تھے لیکن حقائق اور تاریخ سے ناواقفیت کے باعث انہوں نے نظام کا نام لے لیا ۔ محمود علی نے کہا کہ کے سی آر حکومت نظام حیدرآباد کی طرح رعایا پرور حکومت ہے

 

اور چیف منسٹر تلنگانہ کے ہر شہری کے چہرہ پر خوشی دیکھنا چاہتے ہیں۔ سنہرے تلنگانہ کے قیام کے لئے کے سی آر نے جو عہد کیا ہے ، وہ یقیناً آئندہ 5 برسوں میں پورا ہوگا۔ محمود علی نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ کو حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں کیونکہ کانگریس پارٹی کو مخالف عوام پالیسیوں کے باعث رائے دہندوں نے مرکز اور ریاست میں مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی لاکھ کوشش کرلیں لیکن وہ عوام کی تائید حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ محمود علی  نے کہا کہ انہیں اس پر فخر ہے کہ کے سی آر تلنگانہ میں نظام حیدرآباد کی طرح عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہے ہیں ۔ انتخابی وعدوں سے ہٹ کر حکومت نے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا جس سے عوام کافی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نظام حیدرآباد ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھ کی طرح دیکھتے تھے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے کام کیا۔ ٹھیک اسی طرح کے سی آر بھی ہندو۔ مسلم اتحاد کے استحکام اور حیدرآبادی تہذیب  کی برقراری کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اگر کانگریس قائدین نظام حیدرآباد کے خلاف بیان بازی بند نہیں کریں گے تو عوام اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ کانگریس میں بی جے پی ذہنیت کے قائدین آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآبادی عوام کو نظام دور حکومت کی وراثت پر فخر ہے۔

TOPPOPULARRECENT