Saturday , October 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / نظام دکن شوگر فیاکٹری کو بند کرنے کا تنازعہ

نظام دکن شوگر فیاکٹری کو بند کرنے کا تنازعہ

بودھن۔ 12 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام دکن شوگر انتظامیہ اور فیاکٹری ملازمین کے درمیان لیبر کمشنر حیدرآباد کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کسی فیصلے کے بغیر 18 جنوری تک کیلئے ملتوی ہوگیا۔ تفصیلات کے بموجب NDSL انتظامیہ نے شکر نگر بودھن، میدک اور مٹ پلی میں موجود اپنے …… شکرسازی کے کارخانوں کو بغیر کسی نوٹس کے مقفل کردیا۔ نظام دکن شوگرس لمیٹیڈ انتطامیہ کے اس اچانک فیصلے کے خلاف فیاکٹری ورکرس نے لیبر کمشنر حیدرآباد جناب احمد نجم الدین سے رجوع ہوئے۔ گزشتہ روز 11 جنوری کو NDSL انتظامیہ اور ملازمین کی لیبر کمشنر نے مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہوئے فیاکٹری انتظامیہ اور ملازمین کے بیانات قلم بند کئے۔ ملازمین نے اپنی شکایات میں بتایا کہ NDSL انتظامیہ نے خام مال (گنا) اور پانی کی قلت کا بہانہ پیش کرتے ہوئے فیاکٹری کو بند کردیا جبکہ ایس فیاکٹری سے متصل ڈسٹلیری یونٹ (الکوہل فیاکٹری) میں شراب کی کشیدگی کے کام جاری ہے جبکہ الکوہل کی تیاری کیلئے پانی کی وافر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملازمین نے کمشنر کو بتایا کہ NDSL انتظامیہ تقریباً تین ماہ کی تنخواہیں ملازمین کو واجب الادا ہے۔ تہواروں کے موسم میں تنخواہوں کی عدم دستابی کے باعث ملازمین کے افراد خاندان خوشیاں منانے کے بجائے نیم فاقہ کشی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ذرائع کے بموجب NDCL انتظامیہ نے بورڈ میٹنگ کے بعد جواب داخل کرنے کیلئے کمشنر سے وقت طلب کیا۔ لیبر کمشنر کے ساتھ منعقدہ اس اجلاس میں NDSL کی جانب سے سری دھر راجو سبا راجو اور ملازمین کی طرف سے بودھن یونٹ کے کمار سوامی ستہ نارائنا راجہ رام رمیش وجئے شاستری روی شنکر گوڑ رحمت کنکیا اور میدک یونٹ سے دیویندر ریڈی کے علاوہ مٹ پلی یونٹ کے قائدین نے بھی حصہ لیا۔ دفتر کمشنر حیدرآباد میں منعقدہ اجلاس تقریباً 2 گھنٹوں تک جاری رہا۔ فیاکٹری انتظامیہ کے غیراطمینان بخش جواب پر یہ اجلاس ایک ہفتہ تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT