Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / نظام قانونی تعلیم میں فی الفور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت لاء گریجویٹس کو پریکٹس سے راہ فرار اختیار نہ کرنے کا مشورہ ‘نلسار کانو کیشن سے وزیر قانون کا خطاب

نظام قانونی تعلیم میں فی الفور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت لاء گریجویٹس کو پریکٹس سے راہ فرار اختیار نہ کرنے کا مشورہ ‘نلسار کانو کیشن سے وزیر قانون کا خطاب

 

حیدرآباد 16 اگست ( پی ٹی آئی) مرکزی وزیر قانون ڈی وی سدا نند گوڑا نے آج کہا کہ ہندوستان میں ہمیشہ ہی دیگر نصابوں کے مقابلے قانونی تعلیم کو مستحقہ اہمیت نہیں دی گئی ۔ وزیر قانون نے یہاں نلسار یونیورسٹی آف لاء کے 13 ویں جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران کہا کہ قومی لاء کالجس کے خطوط و معیار کے مطابق ملک کے دیگر کالجوں میں بھی قانون کی درس و تدریس کی جانی چاہئے اور اس کو مزید عملی بنایا جاناچاہئے ۔ سدا نندا گوڑا نے کہا کہ ’’قانونی تعلیم اگرچہ ایک انتہائی اہم شعبہ ہے لیکن مجھے شبہ ہے کہ آیاہم اس کو اس کی مستحقہ اہمیت دے بھی رہے ہیں؟ میرا یہ تاثر ہے کہ ہندوستان میں ہمیشہ ہی قانون تعلیم کو اس کی مستحق اہمیت نہیں دی گئی اور بڑی حد تک یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر میں نیشنل لاء اسکولس سے ہٹ کر دیگر لاء کالجس میں رائج تدریس کا طریقہ کار فی الفور تبدیل کیا جائے ۔ لہذا ان لاء کالجس کے طریقہ درس و تدریس کو بھی نیشنل لاء اسکولس کے معیار و طریقہ کار کے مطابق بنایا جائے ‘‘۔وزیر قانون نے لا گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ محض کارپوریٹ ادارہ سے وابستگی اختیار کرتے ہوئے قانونی پیروی سے راہ فرار اختیار نہ کریں ۔ سدا نندا گوڑآ نے کہا کہ ’’اگر آپ قانونی پیروی اور پریکٹس سے راہ فرار اختیار کریں گے تو ہر اس چیز پر منفی اثر مرتب ہوں گے جو (چیز)ہم ہندوستان میں قانون کی پریکٹس کو بہتر بنانے کیلئے کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تعلیم کو مزید عملی بنانے کے علاوہ اس کو سماجی تحقیق پر مبنی بناتے ہوئے مساقبتی قانون و بین الاقوامی قانون کے مطالعات پر توجہ مرکوم کرنا چاہئے تا کہ عالمگیر پیمانے پر قانونی خدمات فراہم کی جاسکیں ۔ بعدازاں سدا نند گوڑا نے کہا کہ مرکز نے حکومت آندھراپردیش کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ کے قیام کیلئے ضروری انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم انہو ںنے مزید تفصیلات بیان کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ عدالت میں زیر تصفیہ ہے اس دوران آندھراپردیش کے خصوصی موقف سے متعلق ایک سوال پر انہو ںنے فورا جواب دیا کہ ’’ہم اس کے پابند ہیں‘‘۔ تلنگانہ کے وزیر امکنہ قانون و انڈومنٹس اندرا کرن ریڈی ‘جسٹس دلیپ بابا صاحب بھونسلے کارگذار چیف جسٹس حیدرآباد ہائی کورٹ ‘ڈاکٹر فیضان مصطفی و چانسلر نلسار یونیورسٹی آف لاء نے بھی خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT