Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / نظریۂ اخلاق کی اسلامی خصوصیت

نظریۂ اخلاق کی اسلامی خصوصیت

اسلام اپنے اخلاقی نظام کی بنیاد اپنے مخصوص تصور کائنات ، مخصوص تصور انسان اور اس کے مقصد حیات کے تعین پر رکھتا ہے۔ کائنات کے متعلق اسلام کا تصور یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور وہی اس کا مالک و حاکم ہے۔ وہ حکیم و قادر مطلق ہے اور ہر کھلے وچھپے کا جاننے والا ہے۔ انسان اس کا بندہ اور نائب ہے، لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کا نظام خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالے، وہ اس کے سامنے اپنے ہر عمل کا جوابدہ ہے۔ یہ تصور کائنات او تصور انسان اسلام کے اخلاقی نظام کی قوت نافذہ ہے۔ خدا کا خوف، آخرت کی باز پرس کا اندیشہ اور ابدی مستقبل کی خرابی کا خطرہ انسان کو ہر وقت یہ بتاتا رہتا ہے کہ وہ اسلامی اخلاقیات کی پابندی کرے۔ اسلام آدمی کے دل میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دیتا ہے کہ تیرا معاملہ خدا کے ساتھ ہے، جو ہر وقت اور ہر جگہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو دنیا بھر سے چھپ سکتا ہے، مگر اس سے نہیں چھپ سکتا۔ تو سب کو دھوکہ دے سکتا ہے، مگر اس کو نہیں دے سکتا۔ وہ تیرے ظاہر و باطن ہر دو کو جانتا ہے۔ یہ عقیدہ دل میں جاگزیں کرکے اسلام گویا ہر آدمی کے دل میں ایک پولیس چوکی بٹھا دیتا ہے، جو اس کی جلوت کی بھی حفاطت کرتی ہے اور خلوت کی بھی۔ یہی قوت اندر سے اس کو احکام کی تعمیل اور اچھے اخلاق کے انتخاب پر مجبور کرتی ہے، خواہ باہر ان احکام کی پابندی کرانے والی کوئی پولیس، عدالت اور جیل موجود ہو یا نہ ہو۔ رائے عامہ اور حکومت کی طاقت اس کی تائید میں موجود ہو تو نورٌ علی نور، ورنہ تنہا یہی قوت نافذہ انسان کو سیدھے راستے پر چلانے کے لئے کافی ہے، بشرطیکہ دل میں ایمان موجود ہو۔

اس کے برخلاف دوسرے اخلاقی نظاموں میں کوئی ایسی قوت نافذہ نہیں ہے، جو انسان کی جلوت و خلوت دونوں کی حفاظت کرسکے۔ اخلاق کے بغیر اسلامی نظاموں نے زیادہ سے زیادہ رائے عامہ، سماجی دباؤ اور حکومت ہی کو قوت نافذہ گردانا ہے، جس کی وجہ سے انسان کی جلوت کی حفاظت تو ہوسکتی ہے، لیکن خلوت کی نہیں۔ جب بھی کسی خارجی سبب سے یہ قوت نافذہ کمزور ہوتی ہے تو انسانی اخلاقیات کا سارا تانا بانا تار عنکبوت ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نام نہاد مہذب قوم کے شہر نیویارک میں صرف چند گھنٹوں کے لئے بجلی فیل ہو جاتی ہے تو ہزاروں اسٹور لوٹ لئے جاتے ہیں، ہزاروں خنجر اولاد آدم کے سینوں میں پیوست ہو جاتے ہیں، ہزاروں عصمتیں سربازار لٹ جاتی ہیں اور انسان ایسا درندہ بن جاتا ہے کہ درندگی بھی شرم سے نظریں جھکا لیتی ہے۔ اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کے خارجی دباؤ کو متحرک کرنا پڑتا ہے اور نتیجے میں ہزاروں افراد گرفتار کرلئے جاتے ہیں۔

بدترین حیوانیت کا مظاہرہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ اس نظام اخلاق کی قوت نافذہ کمزور ہے۔ شاخ نازک پر آشیانے کی تعمیر ہوئی تھی۔ جونہی کچھ دیر کے لئے خارجی دباؤ کم ہوا، اخلاقیات کے پرخچے اڑ گئے۔ اس کے برخلاف اسلام کی قوت نافذہ اس قدر طاقتور اور مؤثر ہے کہ خلوت کے گنہگار قانون نافذ کرنے والے ادارہ کے سامنے ازخود پیش ہوکر سزا کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے کہ خوف خدا اور اندیشۂ آخرت دامن گیر ہے۔ غرض اگر قوت نافذہ کمزور ہو تو آدمی مسجد سے جوتا بھی چرا سکتا ہے اور طاقتور ہو تو ایک ٹیکسی ڈرائیور بھول جانے والے مسافر کا ہزاروں روپئے کا سامان گھر لاکر پہنچا سکتا ہے۔

اخلاقیات کے معاملے کو اسلام نے صرف انسان کی اخلاقی حس پر ہی نہیں چھوڑا ہے، کیونکہ انسانوں میں کم و بیش ہوتی ہے اور اخلاقی حس کی یہی کمی و بیشی اخلاق میں اختلاف کا سبب بنتی ہے۔ اسلام نے اخلاق کا ماخذ قرآن و سنت کو قرار دیا ہے اور دو اور دو چار کی طرح یہ بات سامنے لائی ہے کہ وہی اخلاق اچھا ہے، جس کو قرآن و سنت اچھا قراردیں اور ہر وہ اخلاق برا ہے، جس کو قرآن و سنت برا قراردیں۔ اگر کسی شخص کی اخلاقی حس اس کے خلاف رائے دیتی ہے تو اس کی یہ رائے معتبر نہیں۔ اس کے برخلاف غیر اسلامی نظام ہائے اخلاق نے رائے عامہ اور عقلِ عام کو اپنا ماخذ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان نظاموں کی اخلاقیات میں وقت کے ساتھ ساتھ تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے، یعنی آج سے چند برس پہلے ایک اخلاق اچھا تھا تو وہ آج برا قرار دیا جاتا ہے اور جو برا تھا وہ اچھا سمجھا جانے لگتا ہے، کیونکہ اب اس کے متعلق رائے عامہ بدل گئی یا عقل نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک اخلاق کچھ لوگوں کے نزدیک اچھا ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کے نزدیک برا، اس کی وجہ بھی رائے عامہ کی تبدیلی اور عقل کا اختلاف ہے۔ اس خرابی کی وجہ سے انسانی معاشرہ علاقائی، نسلی اور لسانی تہذیبوں میں بٹ کر رہ جاتا ہے اور سچ پوچھئے تو بنی نوع انسان کی عالمگیر سوسائٹی کی تشکیل نہیں ہوپاتی۔ اس کے برخلاف اسلام قرآن و سنت کو اپنی اخلاقیات کا ماخذ قرار دے کر اس ساری خرابی کی جڑ ہی کاٹ دیتا ہے۔

’’ہمہ گیری‘‘ اسلام کے اخلاقی نظام کی چوتھی خصوصیت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال (ارادی افعال) کو اسلام کوئی نہ کوئی نام ضرور دیتا ہے اور کسی بھی عمل کو اپنے اخلاقی نظام سے خارج نہیں کرتا۔ اس کے اوپر یا تو نیکی کا ٹھپہ لگاتا ہے یا بدی کا۔ یہ ہمہ گیری دنیا کے دوسرے اخلاقی نظاموں میں نہیں ملتی۔ وہ گنے چنے اخلاق کو زیر بحث لاتے ہیں، اس لئے یہ اخلاقی نظام جزوی ہیں اور ان میں وہ ہمہ گیری نہیں، جو انسان کی پوری سیرت کا احاطہ کرسکے۔ اس طرح غیر اسلامی اخلاقی نظام، اسلام کے اخلاقی نظام کے مقابلے میں ناقص ہیں۔
اسلام اپنے اخلاقی نظام کو انسان کی صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ وہ اس کو انسان کی اجتماعی زندگی تک وسیع کرکے اخلاقیات پر اپنے پورے نظام زندگی کی تشکیل و تعمیر کرتا ہے اور زندگی کے کسی بھی شعبہ کو اپنے اخلاقی نظام کی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔ انسانی زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی، معاشی ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا تہذیبی، مادی ہو یا روحانی، ہر ایک پر وہ اپنی پوری گرفت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے غیر اسلامی اخلاقی نظام، اخلاقیات کو انسان کی صرف انفرادی زندگی تک محدود رکھتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ چند سماجی امور تک انھیں پھیلا لیتے ہیں۔                                                            {اقتباس}

TOPPOPULARRECENT