Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / نعت گوئی تقرب رسول ؐکا ذریعہ و سعادت دارین

نعت گوئی تقرب رسول ؐکا ذریعہ و سعادت دارین

نعتیہ دیوان ’’بحرِانوار‘‘کا رسم اجراء، مولانا اعظم علی صوفی، مولانا فاروق علی و دیگر کے خطابات
حیدرآباد ۔ 27 مئی (راست) حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح و نعت کرنا خدائے تعالیٰ کی سنت شریفہ ہے اور اس کے دو ذرائع ہیں ایک نثر اور دوسرا نظم۔ نثر کے مقابلے میں نظم کو ہمیشہ پذیرائی حاصل ہوئی اور اہل عرب بھی نظم کو زیادہ ہی ترجیح دیتے آئے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت و ثناء خوانی کو نظم میں بھی پیش کیا کرتے تھے۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی قادری (صدر جمعیتہ المشائخ) نے خواجہ معین الدین طالب قادری مرحوم کے نعتیہ و منقبتی دیوان موسومہ ’’بحرِانوار‘‘ کا رسم اجراء انجام دیتے ہوئے سہانہ گارڈن فنکشن ہال بہادر پورہ میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صاحب دیوان نے بھی اپنی ضخیم کتاب کو اردو، فارسی کے علاوہ ہندی ٹھمریوں سے زینت دی۔ مولانا نے مرحوم شاعر کے فرزند خواجہ وارث الدین کو اس کتاب کے شائع کرنے پر مبارکباد دی۔ نگران جلسہ الحاج محمد فاروق علی قادری نے کہا کہ نعت گوئی کرنے والوں کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائیں عطا فرمائی ہیں۔ چنانچہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور عبد ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نامور نعت گو شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ مولانا محمد محی الدین قادری اور مولانا عرفان اللہ شاہ نوری نے بھی خطاب کیا۔ قاری محمد اسداللہ شریف نے قرأت کلام پاک پڑھی۔ حافظ و قاری محمد احسن علی احتشام نے دیوان بحرِانوار سے منتخبہ کلام سنایا۔ حافظ و قاری سید مدثر احمد نے فرائض نظامت انجام دیئے۔ مولانا ابوصالح، محمد شفیق الرحمن ماجد نے کلمات تشکر ادا کئے۔ خواجہ وارث الدین، سید غوث، سید یٰسین علی، محمد مشتاق علی، محمد غوث الدین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مذکورہ صدر مہمان خصوصی کے علاوہ مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی، سید مسعود پاشاہ قادری و دیگر کی گلپوشی و شال پوشی کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT