Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / نعمتوں کا شمار کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہے

نعمتوں کا شمار کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے انتہاء شکر و احسان ہے کہ اس نے اس عالم آب و گل میں انسان کو بے شمار و بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، جن کو شمار کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے‘‘۔مگر ان تمام نعمتوں میں تین نعمتیں ایسی ہیں، جن کے ارد گرد انسانی زندگی کی چکی پھر رہی ہے۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی زندگی میں صحت، مال اور اولاد کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہے۔ صحت پر انسانی حیات کا دار و مدار ہے، جس کے بغیر کوئی کام وجود میں نہیں آسکتا۔ صحت کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’بیماری سے پہلے تندرستی کی فکر کرو‘‘۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نعمت مال کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ فرمایا ’’روز قیامت ہر بندہ سے جو چار سوال کئے جائیں گے، ان میں ایک سوال مال کے بابت ہوگا‘‘۔ تیسری نعمت اولاد ہے، جو والدین کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں۔ جن کے سہارے زندگی کی آرزوؤں اور تمناؤں کی عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کے بارے میں بھی شریعت نے بڑی واضح اور مؤکد ہدایات عطا فرمائی ہیں۔ جس طرح اولاد پر والدین کا حق ہے، ویسے ہی والدین پر اولاد کا بھی حق ہے۔ والدین پر اولاد کے حق کا مطلب ان کی دینی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہن سازی و کردار سازی کے لئے جدوجہد کرنا اور اس کیلئے مناسب بندوبست کرنا والدین کے حق میں فرض عین ہے۔موجودہ مسلم معاشرہ کا دردناک و افسوسناک پہلو والدین کا اولاد کی دینی تربیت کے بارے میں لاپرواہی و بے فکری ہے۔ اگر روز اول سے ہی اولاد کو دینی تعلیم دی جاتی تو شاید اس قسم کا ماحول دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ آج جس ماحول میں ہم اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، اس نے نئی نسل کو عقیدہ، ایمان، فرائض اور احکامات سے دُور کردیا ہے اور ہمارے بچوں کو صرف نام کا مسلمان باقی رکھا ہے۔ اولاد کی تربیت اور ان کا دینی شعور بیدار کرنے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب ان کی عمر سات سال پہنچ جائے۔ اگر وہ دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں نہ آئیں تو ان کو مارو‘‘۔ دونوں احادیث مبارکہ میں اولاد کی تربیت اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT