Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / نعیم انکاؤنٹر پرعوام میں تجسس

نعیم انکاؤنٹر پرعوام میں تجسس

محمد نعیم وجاہت
سابق نکسلائیٹ سے گینگسٹر بن جانے والا نعیم کوئی اور نہیں ہے بلکہ نکسلائیٹس + پولیس + سیاستدانوں کا مجموعہ = ڈان نعیم ہے۔ پولیس اور مجرمانہ سرگرمیوں کو مختصر عرصہ میں ملک کے 6 ریاستوں تک توسیع دیتے ہوئے جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’سپاری کلر‘‘ کی حیثیت سے شہرت حاصل کرچکا تھا۔ نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں سے حکومت اور پولیس بخوبی واقف تھی بلکہ نعیم کو ڈان بنانے میں محکمہ پولیس نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ محکمہ پولیس ، حکمرانوں کے لئے چیلنج بن جانے والے گینکسٹر نعیم کا انکاؤنٹر اورسماج کیلئے خطرہ بن جانے والے( نعیم )کا خاتمہ کردینے کا عوام کو پیغام دیتے ہوئے اپنے لئے ہمدردیاں بٹورنے کی کوششیں کررہی ہے۔

زمانہ طالب علمی سے کچھ نیا کرنے کا جذبہ رکھنے والے نعیم نے نکسلائیٹس سرگرمیوں سے متاثر ہوکر ممنوعہ پیپلزوار گروپ میں شامل ہوگیا۔ نکسلائیٹس کے قواعد اور رہنمایانہ اُصولوں کی خلاف ورزی پر نکسلائیٹس تنظیموں سے برطرف کردیئے جانے کے بعد نکسلائیٹس کا دشمن بن گیا اور نکسلائیٹس سے انتقام لینے کیلئے پولیس کا مخبر بن گیا۔ آئی پی ایس ویاس کے قتل کے بعد چنچل گوڑہ جیل میں رہنے والے نعیم سے پولیس نے رابطہ بنایا اور پولیس کیلئے وبال جان بن جانے والے نکسلائیٹس کو ٹھکانے لگانے کیلئے نعیم کی خدمات سے استفادہ کیا جانے لگا ۔ شہر کی ایک عدالت سے نعیم پولیس کی آنکھ میں دھول جھونک کر پولیس کی گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کو اس بات کا علم تھا کہ نعیم آئی پی ایس ویاس کا قاتل ہے اور پولیس کی حراست سے بھاگا ہوا ملزم ہے اور اس کے خلاف ایک سے زائد مقدمات ہیں باوجود اس کے پولیس نے نکسلائیٹس کے خاتمہ کیلئے نعیم کی خدمات سے استفادہ کیا ۔ ہندوستانی قانون کیا محکمہ پولیس کو اس کی اجازت دیتا ہے یہ بڑا سوال ہے ؟ پولیس کیلئے مطلوب نعیم پولیس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور محکمہ پولیس کے چند اعلیٰ عہدیدار اس کو گرفتار کرنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مہمان خصوصی جیسا برتاؤ کرتے ہوئے انکاؤنٹر کرنے تک اس کو عیش و آرام کی تمام سہولتیں فراہم کی ہے ۔ پولیس نے نکسلائیٹس اور ان کے حامیوں کو قتل کرنے کیلئے بغیر وردی کے پولیس کی طرح استعمال کیا ۔ اس کے پاس AK47 بندوق ، پستول، سیٹلائٹ فون کہاں سے آیا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ پولیس کے چند عہدیداروں نے نکسلائیٹس اور ان کے حامیوں کا قتل کرانے کیلئے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کی طرح نعیم کی خدمات سے استفادہ کیا۔ نعیم کی اس غیرقانونی سرگرمیوں سے حکمران وزراء سب واقف تھے تاہم اُس وقت سبھی نے مصلحت سے کام لیا اور خاموشی اختیار کی ۔ حکمرانوں اور پولیس کا ساتھ ملنے کے بعد نعیم بے خوف ہوگیا اور اراضیات کے معاملے میں مداخلت شروع کردی ۔ ڈرا دھمکاکر لوگوں سے اراضیات اپنے نام کرالی ۔ نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد اس کے قبضے سے جو دستاویزات حاصل کی گئی ہیں اُسی سے پتہ چلتا ہے کہ نعیم ہزاروں ایکر قیمتی اراضیات کا مالک ہے ۔ ملک کے مختلف شہروں میں ابھی تک 30 سے زائد مکانات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق 10ہزار کروڑ کی ملکیت کا نعیم مالک ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ اس کے قبضے سے ہیرے جواہرات ، سونا چاندی اور 3 کروڑ روپئے نقد رقومات دستیاب ہونے کا پولیس دعویٰ کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ نعیم کو نکسلائیٹس کے خلاف استعمال کرنے والی پولیس نے اراضی تنازعات میں معاملت میں بھی نعیم کی بھرپور مدد کی ہے ۔ نعیم کے خلاف پولیس سے رجوع ہونے والوں کو نعیم کے خوف سے ڈراکر خاموش کرادیا گیا یا نعیم کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے انکار کردیا گیا اور کئی معاملت میں پولیس نے خود نعیم کا ساتھ دیا ہے ۔نعیم نے بھی اس کی تائید کرنے والے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو قیمتی اراضیات ۔ کمرشیل کامپلکس بڑے بڑے بنگلے دینے کے علاوہ اس کی آمدنی کا 25 فیصد حصہ پولیس کو دیا ہے ۔ ایک ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے نکسلائیٹس کے خاتمے کیلئے نعیم کی خدمات سے استفادہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کے نیٹ ورک میں کئی اعلیٰ پولیس عہدیدار اور سیاستداں ہونے کا الزام ہے ۔ نعیم کی ڈائری سے اس کے دوست اور ہمدرد دونوں پریشان ہیں کیونکہ نعیم کوئی کچا کھلاڑی نہیں تھا اس کی ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ اُس کو اپنے انجام کے بارے میں معلوم تھا ۔ اس لئے اس نے غیرقانونی سرگرمیوں کو چلاتے ہوئے اپنی ڈائری میں ہر چیز تحریر کی تھی ۔ اس کی ڈائری میں دو نام ’’چنٹو سر‘‘ ، ’’ٹیرر باس‘‘ کا باربار ذکر ہے ۔ خفیہ کوڈ میں رہنے والے ان دو ناموں کو ڈی کوڈ کرنے کیلئے اس کیس کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی ماہرین کی خدمات سے استفادہ کررہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ پولیس نعیم انکاؤنٹر معاملے میں دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ۔ ایک گروپ میڈیا کو چند پولیس عہدیداروں کے اشارے دے رہا ہے تو چند پولیس عہدیدار یا ریٹائرڈ عہدیدار اپنے بچاؤ کیلئے سیاستداں اور میڈیا کے چند نمائندے بھی نعیم کے نیٹورک میں رہنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ ضلع نلگنڈہ کے ایک سابق وزیر کا نام اخبارات میں شائع ہوتے ہی سابق وزیر مسز اوما مادھو ریڈی نے پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے نعیم کو پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی کبھی تائید کرنے کی تردید کی ہے ۔ ایک ڈی جی پی کا ذکر آتے ہی سابق ڈی جی پی دنیش ریڈی جنھوں نے 2014 ء میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے لوک سبھا ٹکٹ پر شہر کے مضافاتی علاقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے شکست سے دوچار ہوئے بعد ازاں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے دنیش ریڈی نے پہلے بی جے پی آفس میں پریس کانفرنس کااہتمام کیا ۔ بی جے پی کی جانب سے اس کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد الزامات کی وضاحت کرنے کے بجائے نعیم کو انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے پر چیف منسٹر کے سی آر کو سلوٹ کیا ۔ تلنگانہ پولیس کی ستائش کی اور ان کے خلاف بے بنیاد خبریں شائع کرنے والے میڈیا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا انتباہ دیا۔

نعیم کے انکاؤنٹر پر کئی شکوک ہیں ۔ انکاؤنٹر کے صرف چند گھنٹوں میں پولیس کو نعیم کے مکانات ، گیسٹ ہاوز اور رشتہ داروں کے بارے میں کیسے پتہ چلا ۔ شادنگر میں انکاؤنٹر کے بعد پولیس نے نعیم کے مکانات پر اچانک چھاپے مارنا شروع کردیا ۔ عوام میں شک و شبہات پائے جارہے ہیں کہ پولیس نے ایک خصوصی منصوبہ بندی کے تحت انکاؤنٹر سے دو تین دن قبل ہی نعیم کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اس سے جائیداد ، ملکیت اور اراضیات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی انکاؤنٹر کیا جس کے بعد مکانات پر دھاوے کئے ۔ پولیس کے ذرائع نے کہا کہ نعیم نے اپنی جرائم کی دنیا پر راج کرنے کیلئے ایک بہت بڑی گینگ بنالی تھی جس میں خود سپرد کرنے والے نکسلائیٹس کے بشمول 200 افراد شامل تھے تو جب نعیم کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا اس کی نعش کے قریب سے AK47 دستیاب ہوا ۔ کیا نعیم نے پولیس پارٹی پر جوابی فائرنگ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ AK47 کی فائرنگ میں کیا پولیس زخمی نہیں ہوئی ؟ انکاؤنٹر واقعہ کے قریب نعیم کے 4 ساتھیوں کو زندہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ؟ کیا نعیم گینگ کے ارکان نے اپنے باس کا بچاؤ نہیں کیا ؟ کیا پولیس پر انھوں نے فائرنگ نہیں کی ؟  نعیم کا انکاؤنٹر کیا گیا اور اس کے ساتھیوں کو معمولی زخم آئے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا ؟
جب نعیم پولیس کا دوست تھا ، پولیس کو مسیحا لگ رہا تھا اس کے انکاؤنٹر کے بعد پولیس میڈیا کو لیک جاری کرتے ہوئے نعیم کے دہشت گردتنظیم حزب المجاہدین جیل میں قید ابوسالم کے علاوہ دوسروں سے تعلقات جوڑے جارہے ہیں ۔ خواتین اور لڑکیوں کو فروخت کرنے ، اس کی سکیورٹی کا دستہ خواتین پر مشتمل ہونے کے متضاد دعوے کئے جارہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کو نعیم کے بارے میں پل پل کی خبر تھی تو اس کو آزاد کیوں چھوڑا گیا اور انکاؤنٹر کس مجبوری کے تحت کیا گیا ؟ریاستی وزراء بشمولہ ایٹالہ راجندر چیف منسٹر کے رشتہ دار اور کئی ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل کو دھمکیاں دینے کا نعیم پر الزام ہے ۔ ٹی آر ایس کے دو ارکان اسمبلی اور کانگریس کے ایک رکن قانون ساز کونسل کو جان سے ماردینے کی دھمکی دینے کا ان ارکان نے برسرعام الزام عائد کیا ہے ۔

محکمہ پولیس میں موجودہ اور ریٹائرڈ کئی اعلیٰ عہدیدار اور عوامی منتخب نمائندوں جن میں حکمراں جماعت کے ارکان کی اکثریت کینعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں سے تعلقات ہونے کی افواہیں گشت کررہی ہیں۔ نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد اس کی تحقیقات کیلئے اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تو ایس آئی ٹی کا سربراہ سومیا مشرا کوبنانے پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم اجلاس میں موجود چند اعلیٰ عہدیداروں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ سومیا مشرا ایک ایماندار اور دیانتدار ڈیوٹی اور اصولوں کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والی آفیسر ہے ، اگر انھیں ایس آئی ٹی کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو حکمراں جماعت کے علاوہ کئی پولیس آفیسر گناہ گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس لئے سومیا مشرا کے بجائے ناگی ریڈی کو ایس آئی ٹی کی ذمہ داری سونپی گئی تاکہ اپنے انداز سے تحقیقات کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ناگی ریڈی پر الزام ہے کہ جب وہ مشرقی گوداوری ضلع میں ایس پی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے تب ڈیزل اسکام میں ان کا نام آیا تھا ، اُسی سے قبل جب وہ ضلع سریکاکولم میں بحیثیت ایس پی خدمات انجام دے رہے تھے قیمتی نادر مورتیاں لیجانے کا ان پر الزام تھا ۔ نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد اس کے بے نامی جائیدادوں کی کئی دستاویزات منظرعام پر آرہی ہے ۔ کیا وہ محفوط رہیں گی ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چند پولیس عہدیداروں کو بچانے کیلئے ناگی ریڈی کو ایس آئی ٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے ۔ گینگسٹر نعیم زندہ رہنے تک جتنا خطرہ تھا انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے کے بعد اس کے دوستوں اور حامیوں کیلئے اُتنا ہی خطرناک بن گیا ہے۔ اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ چند سیاستدانوں اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو بچانے کیلئے پولیس کی جانب سے روزانہ نئے نئے ناموں کا غیرسرکاری طورپر افشاء کیا جارہا ہے تاکہ نعیم کے معاملے کو زیادہ سے زیادہ پیچیدہ بناتے ہوئے انکا تحفظ کیا جاسکے ۔ اب تک صرف چند معمولی افراد کو ہی گرفتار کیا گیا ، اصل مچھلیاں آج بھی آزاد ہے۔ ابھی تک مصطفی نامی لڑکے ، ووٹ برائے نوٹ اور وقار انکاؤنٹر کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے مگر ان واقعات کی رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی گئی جس سے نعیم انکاؤنٹر کی تحقیقات پر عوام میں تجسس برقرار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT