Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / !نعیم انکاونٹر : کئی سوال جن کے جواب باقی ہیں

!نعیم انکاونٹر : کئی سوال جن کے جواب باقی ہیں

اثر و رسوخ والے بلڈر سے 75 کروڑ کا مطالبہ انکاونٹر کا سبب ؟
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : پولیس کی مدد سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے والے گینگسٹر نعیم نے پولیس کی حوصلہ افزائی سے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو توسیع دی ۔ کئی اراضی تنازعات کو اپنے ڈھنگ سے پائے تکمیل تک پہونچایا تھا ۔ تاہم ایک ڈی سی پی کی جانب سے طئے کی گئی اراضی کی ڈیل نعیم کے زندگی کی آخری ڈیل ثابت ہوئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد نعیم نے کئی وزراء حکمران جماعت کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے عوامی منتخب نمائندوں کو ٹیلی فون پر ڈرا دھمکا کر جبری طور پر رقومات طلب کی ۔ اراضی معاملت میں انہیں پریشان کیا تھا ۔ حکمران جماعت کے قائدین نے اس کی چیف منسٹر سے شکایت کی تھی ۔ حال ہی میں سابق نکسلائٹس نعیم نے چیف منسٹر سے قریبی تعلقات رکھنے والے ایک بزنسمین کو ٹیلی فون کر کے 75 کروڑ روپئے طلب کیا تھا ۔ چیف منسٹر کے رشتہ دار ہونے کا دعویٰ کرنے پر بھی ایک نہیں سنی تھی ۔ طلب کردہ رقم نہ دینے پر جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی ۔ اس طرح یادادری ضلع نلگنڈہ میں بھی چیف منسٹر کے قریبی ساتھی جو رئیل اسٹیٹ کاروبار سے وابستہ ہیں کو بھی بھاری رقم طلب کرتے ہوئے دھمکی دی تھی ۔ اس طرح شہر کے مضافات کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کو بھی رقم کے لیے دھمکی دی تھی ۔ ان واقعات کو چیف منسٹر کے علم میں لانے پر چیف منسٹر نے خفیہ طور پر پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے نعیم کو ٹھکانے لگانے کا اسکیچ تیار کیا اور منصوبہ تیار کرنے کے 48 گھنٹوں میں نعیم کو انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پولیس نے اپنے ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے گینگسٹر نعیم سے رابطے میں رہنے والے ایک ڈی سی پی سطح کی خدمات سے استفادہ کیا اور اراضی ڈیل کے بارے میں نعیم سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے ایک خفیہ مقام پر بات چیت کے لیے طلب کیا اور طئے پائے وقت پر ڈیل ہوگئی ۔ لیکن اس مرتبہ رئیل اسٹیٹ کی ڈیل موت کی ڈیل بن گئی ۔ اراضی کے کئی معاملت طئے کرنے والے نعیم کے لیے یہ ڈیل آخری ثابت ہوئی ۔ پولیس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جانے والے نعیم کا پلان کے مطابق انکاونٹر کردیا گیا ۔ گینگسٹر نعیم کی موت آج تک بھی معمہ بنی ہوئی ہے کیوں کہ جرائم کی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنانے والے نعیم کی بہت بڑی گینگ تھی خود سپرد کرنے والے نکسلائٹس ، غنڈا عناصر کو لے کر نعیم نے اپنی ایک گینگ بنائی تھی کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے نعیم کو اپنی حفاظت کے معاملے میں خود اپنے سائے پر بھروسہ نہیں تھا ۔ وہ اپنی حفاظت کے لیے علحدہ علحدہ دستوں کا تعین کیا ۔ جن میں چند افراد اس کے پہونچنے سے قبل اس مقام تک پہونچ جاتے تھے جہاں نعیم جایا کرتا ۔ چند افراد اس کے ساتھ ہوا کرتے تھے ۔ نعیم کے انکاونٹر کے 5 دن بعد اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں کئی انکشافات ہوئے ہیں ۔ مگر انکاونٹر پر ابھی بھی راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ لوگوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دینے والے نعیم کے انکاونٹر پر کئی شک و شبہات ہیں جرم کی دنیا میں زبردست نیٹ ورک تیار کرنے والے نعیم پولیس کے چنگل میں اتنی آسانی سے کیسے پھنس گیا ۔ اپنی بات سنے توٹھیک ہے ورنہ کئی قتل کرتے ہوئے کروڑہا روپئے کا مالک بن جانے والا نعیم اپنے ہی بھروسے کے پولیس عہدیداروں کے انکاونٹر میں کیسے ہلاک ہوگیا ۔ جب پولیس نے اس کو اپنے منصوبہ میں دبوچ لیا تو اس کے حفاظتی دستے کہاں تھے ۔ کئی لوگوں کے آنکھ میں دھول جھونکنے والے نعیم نے اپنی حفاظت کے لیے مزاحمت کیوں نہیں کی ۔ جب اس کے قبضے سے AK47 دستیاب ہوا تو اس نے اپنے بچاؤ میں جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی ؟ نعیم کی فائرنگ میں کوئی پولیس والا کیوں زخمی نہیں ہوا ؟ نعیم کے ساتھیوں کو بغیر کسی زخم کے کیسے پکڑ لیا گیا ؟ کیا نعیم کو پہلے پکڑ لیا گیا بعد میں ہلاک کرتے ہوئے اس کو انکاونٹر قرار دیا گیا ؟ اگر انکاونٹر ہوا تو نعیم کا ڈرائیور کیسے فرار ہوگیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جس پر عوام میں شک و شبہات اور تجسس پایا جاتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT