Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / نعیم کا سہراب الدین اور کوثر بی کے فرضی انکاؤنٹر سے تعلق

نعیم کا سہراب الدین اور کوثر بی کے فرضی انکاؤنٹر سے تعلق

گینگسٹر کے قتل کی سی بی آئی تحقیقات پر زور، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد 15 اگسٹ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ سہراب الدین اور کوثر بی کے فرضی انکاؤنٹرس سے تعلق ہونے کی وجہ سے پولیس نے نکسلائیٹ سے گینگسٹر بننے والے نعیم کا انکاؤنٹر کیا ہے۔ اب تک ایس آئی ٹی سے جتنی بھی تحقیقات کروائی گئی ہیں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے لہذا نعیم انکاؤنٹر کا حکومت، سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرائے۔ وہ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر ترجمان تلنگانہ کانگریس پارٹی مسٹر وجئے کمار نائیڈو اور صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل موجود تھے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ گینگسٹر نعیم اصل میں سہراب الدین اور کوثر بی انکاؤنٹر کا گواہ کے طور پر گجرات پولیس نے نعیم الدین کو اپنی رپورٹ میں کلیم الدین کے نام سے درج کیا ہے۔ نومبر 2005 ء کو حیدرآباد سے سنگالی جانے والی بس میں سہراب الدین اور اس کی بیوی کوثر بیوی سوار تھے جنھیں گجرات اور آندھراپردیش کی پولیس نے قتل کردیا ہے۔ سی بی آئی نے اپنی تحقیقات میں کلیم الدین نہیں پرجا پتی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی جی پی گیتا جوہری نے اپنی تحقیقات تب کلیم الدین کو سابق نکسلائیٹ اور پولیس کے فجر کی حیثیت سے پیش کیا اور سپریم کورٹ میں درج کردہ پٹیشن میں بھی اس کو درج کیا ہے اور یہ بھی کہاکہ نعیم الدین ہرین پانڈیا قتل کیس کے لئے بھی پولیس کو مطلوب ہے۔ نعیم کی بہن سلیمہ بیگم نے سہراب الدین اور اس کی بیوی کو شلٹر فراہم کیا تھا۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ سہراب الدین انکاؤنٹر واقعہ اعلیٰ سطحی مقدمہ سے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کا تعلق ہے۔ جولائی 2010 ء میں اس کیس میں امیت شاہ کو گرفتار کرتے ہوئے 2012 ء تک گجرات میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بالآخر ڈسمبر 2014 ء کو اس کیس میں امیت شاہ کو راحت حاصل ہوئی۔ ہرین پانڈیا اور سہراب الدین قتل واقعات سے گینگسٹر نعیم کا تعلق ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ  تلنگانہ کے دوسرے ہی دن نعیم الدین کا انکاؤنٹر کردیا گیا ہے۔ ان واقعات کی حقائق کو منظر عام پر لانے کے لئے ریاستی حکومت سی بی آئی تحقیقات کرائے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد نعیم اور اس کے گینگ سے کئی واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ یہ بھی سنا جارہا ہے کہ حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے کئی اراضی دستاویزات کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں اور حکمراں جماعت قائدین کے ناموں کو ڈائری اور تحقیقات کی فہرست سے حذف کیا جارہا ہے۔ دوسرے جماعتوں کے قائدین کا نام بیجا استعمال کرنے کے شکوک کا بھی اظہار کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے ہر واقعہ کی منصفانہ انداز میں تحقیقات کرانے کا اعلان کرتے ہیں مگر ابھی تک جتنے بھی واقعات کی تحقیقات ہوئی ہے اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ صرف معمولی درمیانی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے بری مچھلیوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ لیکن مجرموں اور پولیس اور مجرموں و سیاستدانوں کے درمیان جو تعلقات ہیں اس کا پردہ فاش ہونا ضروری ہے۔ ابھی تک ہاؤزنگ اسکام کی سی آئی ڈی تحقیقات، ووٹ برائے نوٹ کی اے سی بی تحقیقات، ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء کی سی آئی ڈی تحقیقات کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے لہذا نعیم انکاؤنٹر کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT