Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / نعیم کی ہلاکت کے بعد پارٹنروں ، معاملت دار مزید خوف زدہ

نعیم کی ہلاکت کے بعد پارٹنروں ، معاملت دار مزید خوف زدہ

سفید پوش سیاستدانوں اعلیٰ پولیس عہدیداران ، تاجرین پر ایس آئی ٹی کی نظر
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : نکسلائٹ سے گینگسٹر بن جانے والے نعیم کی ڈائری میں ’ چنٹوسر ‘ اور ٹیررباس ‘ 2 خفیہ ناموں کا ایک سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ شک کیا جارہا ہے کہ یہ پولیس اعلیٰ عہدیداروں کے دو خفیہ نام ہے جن سے نعیم کے گہرے تعلقات تھے ۔ ایس آئی ٹی کوڈ میں تحریر کردہ ناموں کو ڈی کوڈ کرنے میں مصرف ہے اور گرفتار ہونے والے نعیم گینگ کے ارکان سے خفیہ ناموں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ نعیم کی ڈائری کا ہر ایک ورق جانچ کرنے والی پولیس ٹیم کے لیے چونکا دینے والا ثابت ہورہا ہے اور سماج میں اچھی چھبی رکھنے والے کئی سیاستدان ، اعلیٰ پولیس عہدیدار ،تاجرین ، رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے والے افراد کے مجرمانہ سرگرمیوں کا پردہ فاش ہورہا ہے ۔ نعیم زندہ رہنے تک جن لوگوں کے لیے خطرہ تھا انکاونٹر میں ہلاک ہونے کے بعد اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگیا ہے اور گینگسٹر نعیم کی آڑ میں بے نامی دھندہ کرنے والے افراد ڈر ڈر کر دن گذار رہے ہیں ۔ ڈائری میں موجود اطلاعات کو بنیاد بناکر تحقیقاتی ٹیم حقائق کا پتہ چلانے کے لیے تمام زاویوں سے تحقیقات کررہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ نعیم کو استعمال کرنے والے پولیس عہدیدار زیادہ پریشان ہیں کیوں کہ انہوں نے نعیم کو صرف مخبر کے طور پر ہی استعمال نہیں کیا بلکہ اراضیات کے تنازعات کسی بھی جائیداد پر قبضے کرانے اور قبضوں کو برخاست کرانے میں اس کی خدمات سے بھر پور استفادہ کیا ہے ۔ کئی پولیس عہدیداروں کے نام بھی بے نامی جائیدادیں ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ نعیم کے قبضے سے برآمد ہونے والی ڈائری ، سیل فونس چپس ، میموری کارڈ ، سی ڈیز اور ہارڈ ڈیسک پین ڈرئیو جہاں نعیم کی بے نامی جائیدادوں کا ثبوت دے رہے ہیں وہیں نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں حصہ دار بننے والوں کے راز سے بھی پردہ اٹھا رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ دونوں خفیہ ناموں میں نعیم کا ’ چنٹو سر ‘ نامی شخص سے کافی تعلق رہا ہے ۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے ڈائری کی بنیاد اور نعیم گینگ کے گرفتار ارکان کی اطلاعات پر جہاں جہاں چھاپے مارے جارہے ہیں وہاں سے تحقیقاتی ٹیم کو نئے نئے معلومات حاصل ہورہے ہیں ایس آئی ٹی عجلت پسندی میں کوئی قدم اٹھانے کے بجائے پختہ ثبوت حاصل کرنے کے بعد ہی گرفتاریاں کرنے پر غور کررہی ہے ۔ ابھی تک تحقیقات میں کافی پیشرفت ہوئی ہے مگر تحقیقات میں اثر پڑنے کے خوف سے سرکاری طور پر کسی بھی قسم کی توثیق کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT