Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / نفرت و انتشار پر مبنی بی جے پی ایجنڈہ کو شکست دینے کا عہد

نفرت و انتشار پر مبنی بی جے پی ایجنڈہ کو شکست دینے کا عہد

LUCKNOW, JAN 29 (UNI):- Uttar Pradesh Chief Minister and newly appointed Samajwadi party president Akhilesh Yadav with Congress Vice President Rahul Gandhi in joint press conference, in Lucknow on Sunday. UNI PHOTO-37U

یو پی کو امن ، ترقی و خوشحالی کے راستہ پر گامزن کرنے کا وعدہ ، راہول اور اکھلیش کی مشترکہ پریس کانفرنس
لکھنؤ  ۔ /29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست اترپردیش میں کانگریس اور ایس پی کے مابین طاقتور  اتحاد کے ساتھ ایک نیا حوصلہ پاتے ہوئے دونوں جماعتوں کے قائدین راہول گاندھی اور اکھلیش یادو نے جو تقریباً ایک جیسے لباس میں ملبوس تھے شانہ بہ شانہ ساتھ رہتے ہوئے آج پہلی مرتبہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور بعد ازاںایک عظیم روڈ شو میں حصہ لیا ۔ راہول اور اکھلیش نے نفرت اور انتشار پر مبنی بی جے پی کی سیاست کو شکست دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ کانگریس اور ایس پی کے سیاسی وارثوں راہول اور اکھلیش نے ایک دوسرے سے دوستی اور جذباتی وابستگی کی جھلک پیش کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ یہ دونوں دراصل ایک سیکل کے دو پہیئے ہیں ۔ 43 سالہ اکھلیش نے کہا کہ ’’ہماری عمر میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ راہول 46 برس کے ہیں اور آج سے ایک نئی شروعات ہورہی ہے ‘‘ ۔ اکھلیش نے ایک گھنٹہ تک جاری رہی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’راہول اور میں اس ریاست کو ترقی کے راستہ پر گامزن کریں گے  ‘‘ ۔ کانگریس لیڈر راہول نے کہا کہ کانگریس اور ایس پی کے مابین ساجھیداری دراصل نفرت اور انتشار پر مبنی بی جے پی کی سیاست کا اثر (جواب) ہے ۔ راہول نے مزید کہا کہ ’’یہ اتحاد گنگا اور جمنا کا سنگم ہے جس سے ترقی کی سرسوتی نمودار ہوگی ۔ ہمارے درمیان اتفاق اور اختلاف ہیں ۔ ہم اتفاق و یکسانیت کی بنیاد پر انتخابات لڑرہے ہیں اور ہمیں چند باتوں پر سمجھوتہ بھی کرنا پڑا ہے ‘‘ ۔ راہول نے کہا کہ ’’یہ دل کا الائینس (اتحاد) ہے اور مل کے جیتیں گے ‘‘ ۔

راہول نے اس اتحاد کو انگریزی حرف تین ’ پی ‘ سے مربوط کیا اور یہ ترقی ، خوشحالی اور امن کا اتحاد ہے جس میں ایس پی لیڈر اکھلیش نے چوتھے پی پیپلز (عوام) کا اضافہ کیا ۔ بھاری سیاسی داؤ پر لگے ہوئے ان اسمبلی انتخابات کیلئے دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت طئے کرنے کے چند دن بعد راہول گاندھی ایک خصوصی طیارہ کے ذریعہ دہلی سے لکھنؤ پہونچے ۔ سمجھوتہ کے بعد دونوں قائدین کی یہ پہلی ملاقات تھی ۔ یو پی اسمبلی کے 403 حلقوں کے منجملہ ایس پی 298 اور کانگریس 105 پر مقابلہ کررہی ہے ۔ راہول اور اکھلیش نے اصرار کے ساتھ کہا کہ ان کا اتحاد دراصل عوام کی پسند ہے اور عوام کا انتخاب ہے ۔ رام مندر سے متعلق ایک سوال پر راہول نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ چونکہ عدالت میں زیرتصفیہ ہے ۔ چنانچہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے ۔ انتخابی مہم میں پرینکا گاندھی اور اکھلیش کی شریک حیات ڈمپل کے حصہ لینے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’پرینکا میرے لئے ایک بڑی مدد ہیں ۔ وہ کانگریس کا ایک اثاثہ ہیں ۔ پارٹی کے اہم فیصلوں میں ان کا کلیدی رول ہے ۔ وہ مہم میں حصہ لیں یا نہ لیں یہ ان کی مرضی ہے ‘‘ ۔ اکھلیش نے جواب دیا کہ ’’ڈمپل ایک رکن پارلیمنٹ ہیں وہ فیصلہ کریں گی کہ انہیں کیا کرنا ہے ‘‘ ۔ بی جے پی کے خلاف اتحاد میں بی ایس پی کی شمولیت کے امکان پر راہول بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) کے تیئں نرم گوشہ کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’بی ایس پی حکومت ممکن ہے کہ غلطیاں کی ہوگی لیکن میں مایاوتی جی اور کانشی رام کا شخصی طور پر کافی احترام کرتا ہوں ۔ مایاوتی کیلئے میرا شخصی احترام بدستور برقرار رہے گا ۔ مایاوتی اور بی جے پی کے درمیان کو تقابل نہیں کیا جاسکتا ‘‘ ۔ راہول نے کہا کہ ’’ بی ایس پی  اور بی جے پی کے نظریات میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ بی جے پی کے نظریات ملک کیلئے نقصان دہ ہیں ۔ مایاوتی جی کا آر ایس ایس سے تقابل مت کیجئے ‘‘ ۔ مستقبل میں مایاوتی سے اتحاد کے بارے میں ایک سوال کو ٹالتے ہوئے اکھلیش نے مزاحیہ انداز میں برجستہ کہا کہ مایاوتی جی کی پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی ہے ۔ چنانچہ انہیں بہت زیادہ جگہ درکار ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT