Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / نفرت کی سیاست کیلئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ، بہار کے انتخابی نتائج زندہ مثال

نفرت کی سیاست کیلئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ، بہار کے انتخابی نتائج زندہ مثال

رائے دہندوں کا فیصلہ سارے ملک کا رجحان ، چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جناب ظفر سریش والا کا اظہار خیال
حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر ( سیاست نیوز) بہار کے انتخابی نتائج سے صاف ہوچکا ہے کہ ملک میں اب نفرت کی سیاست کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی بھی پارٹی عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہوئے اقتدار حاصل نہیں کرسکتی، اس کا اظہار بہار کے رائے دہندوں نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ کیا اور یہ سارے ملک کا رجحان ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے بہار کے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک عرصہ سے ملک میں جس طرح نفرت پر مبنی مہم چلائی گئی، اسے روکنے اور نفرت پر مبنی بیانات دینے والے قائدین پر قابو پانے میں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی قیادت ناکام ہوچکی ہے، جس کا خمیازہ بہار کی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں نریندر مودی کے کئی مخالفین اور دشمن موجود ہیں جنہوں نے نفرت کا یہ کھیل کھیلتے ہوئے اپنی تسکین کا سامان کیا اور پارٹی کو شکست سے دوچار کردیا ۔ سریش والا نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے تحفظات کے خلاف دیئے گئے بیان کو اسی سازش کا حصہ قرار دیا اورکہا کہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کا بیان منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف گوشوں کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی اور مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوششیں جاری تھیں لیکن شاہ رخ خاں کے خلاف بیان بازی نے بہار میں انتخابی منظر کو تبدیل کردیا  اور این ڈی اے کی حالت بگڑ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خاں جو ہندوستان کیلئے باعث فخر ہے، اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا شرمناک ہے۔ شاہ رخ خاں کے والد اور دادا جدوجہد آزادی میں حصہ لے چکے ہیں اور وہ فریڈم فائٹر تھے۔ سریش والا نے کہا کہ بہار کے رائے دہندوں نے نریندر مودی کی جانب سے بھاری پیاکیج کے اعلان کے باوجود بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ کرنے والے نتیش کمار پر بھروسہ کیا ہے جو شخص ان کے مسائل حل کرسکتا ہے، اسی کو عوام نے ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کا نتیجہ بی جے پی قیادت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے اور آنے والے دنوں میں جن ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہوں گے ، وہاں اسی طرح کا رجحان رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقلیتوں کیلئے نریندر مودی حکومت کے اچھے کاموں کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی کیونکہ نفرت پر مبنی مہم نے عوام کے ذہنوں کو تبدیل کردیا تھا۔ سریش والا کا کہنا ہے کہ پارٹی اور اس کے باہر موجود نفرت کی مہم چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہی نہیں بلکہ انہیں آہنی پنجہ سے کچل دیا جانا چاہئے ۔ اس وقت تک ملک میں بھائی چارہ اور رواداری کا ماحول بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے بہار کے نتائج کو مودی حکومت کی کارکردگی پر ریفرنڈم تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ مقامی مسائل پر اسمبلی انتخابات لڑے جاتے ہیں اور بی جے پی کو نفرت پر مبنی مہم سے نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے نریندر مودی گجرات سے دہلی پہنچے ، اس وقت سے ہی پارٹی اور آر ایس ایس میں ان کے مخالفین وقتاً فوقتاً اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ نقصان پہنچانے کے در پہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT